مشرقیات

مشرقیات

حضرت ذوالنون مصری مصر کے مشہور بزرگوں میں سے ہیں۔ آپ امام مالک کے شاگرد ہیں۔ آپ کا نام امام مالک سے موطا کی روایات کرنے والوں میں بھی ثابت ہے۔ ایک مرتبہ آپ کشتی میں سفر کر رہے تھے۔ دریا میں ایک اور کشتی بھی چل رہی تھی۔اس میں نوجوان مرد، عورتیں اور لڑکیاں سفر کر رہی تھیں وہ لوگ کچھ کھاپی رہے تھے اور ہنسی مذاق میں قہقہے بھی لگا رہے تھے۔ لگتا یوں تھا کہ وہ گندے لوگ ہیںاور انہوں نے گندی محفل لگائی ہوئی ہے ۔ جب حضرت ذوالنون مصری کی کشتی کے لوگوں نے ان کو دیکھا تو انہیں بڑا غصہ آیا اور ان میں سے ایک بندہ حضرت ذوالنون مصری کے پاس آیا اور عرض کیا کہ حضرت دیکھئے ۔ ان کو خدا کا خوف نہیں ہے ۔ یہ دریا کے پانی کے اندر بھی اس قسم کی گندی حرکتیں کرنے کیلئے آئے ہیں۔ پی پلا رہے ہیں اور قہقہے لگا رہے ہیں، لہٰذا آپ بددعا کر دیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کشتی کو غرق کر دے۔ آپ پہلے تو خاموش رہے لیکن جب لوگوں نے باربار کہا تو آپ نے ان کشتی والوں کو دیکھا اورہاتھ اٹھا کر یوں دعا مانگی۔اے اللہ جیسے آپ نے ان کو دنیا کی خوشیاں عطا کی ہیں، اسی طرح ان کو آخرت کی خوشیاں بھی عطافرما دے ۔ جب انہوں نے دعامانگی تو اللہ تعالیٰ نے ان کشتی والوں کو توبہ کی توفیق عطا فرمادی ۔حضرت یوسف بن حسین کہتے ہیں کہ میں حضرت ذوالنون مصری کے ساتھ ایک نہر کے کنارے تھا میری نگاہ ایک بہت بڑے بچھو پر پڑی جو نہر کے کنارے موجود تھا۔ اتنے میں ایک بڑا مینڈک نہر سے نکلا،یہ بچھو اس کی پیٹھ پر سوار ہوگیا اور پانی میں تیرتے ہوئے مینڈک نے اسے نہر پار کرا دیا۔ حضرت ذوالنون مصری نے مجھ سے کہا کہ یقینا اس بچھو کا کوئی خاص مقصد ہوگا۔ چلو دیکھتے ہیں کہ کہاں جاتا ہے اور کیا کرتا ہے ۔ ہم دونوں نہر پار کر کے اس بچھو کے پیچھے پیچھے چل پڑے ۔ اچانک ہماری نگاہ ایک آدمی پرپڑی جو نشے میں مدہوش زمین پر گرا پڑا تھا اور ایک سانپ اس کی ناف کی طرف سے چڑھ کر اس کے سینے پر بیٹھا تھا وہ اس کا کام تمام کرنے والا تھا۔ اتنے میں بچھو سانپ کے پاس پہنچ کر اس پر غالب آگیا اور اسے ڈس کر مار ڈالا حضرت ذوالنون مصری نے اس مدہوش آدمی کو نیند سے جگایا جب اس نے آنکھیں کھولیں تو اس سے کہا کہ اے نوجوان ! دیکھو اللہ تعالیٰ نے تیری کس طرح حفاظت فرمائی ہے ۔ ایک بچھو نے آکر اس سانپ کوقتل کر دیا جو تجھے مار ڈالنا چاہتا تھا ۔ پھر حضرت ذوالنون مصری یہ اشعار پڑھنے لگے ۔ ترجمہ : اس غافل کو دیکھو کہ اللہ عزوجل اندھیروں میں رینگنے والی ہر اذیت سے اس کی نگرانی کر رہا ہے ۔ آنکھیں اس شہنشاہ کی یاد سے کیوں سوجاتی ہیں جس کی یاد ہی دنیا وآخرت کی نعمتوں سے اس کو مالا مال کرتی ہے ۔ وہ مد ہوش گھبراتے ہوئے اٹھا اور گویا ہوا۔ میرے پروردگار ! نافرمان کے ساتھ تیرا یہ کرم ہے تو پھر فرماں بردار کے ساتھ تیری نرمی کیسی ہوگی ؟ یہ کہہ کر نوجوان چل پڑا تو میں نے اس سے پوچھا کہ کہاں جارہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کی طرف !

متعلقہ خبریں