درمیانی راستہ

درمیانی راستہ

درمیانی راستہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ 2 نومبر کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دھرنے کے دن اسلام آباد میں نہ تو کوئی کنٹینر لگے گا اور نہ ہی سڑکیں بند ہوں گی۔2 نومبر کو عمران خان کو اسلام آباد بند کرنے سے روکنے کے حوالے سے دائر 4 درخواستوں کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ احتجاج کے لیے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے جگہ مختص کی گئی ہے،لہٰذا سیاسی جماعتیں وہاں احتجاج کریں یاد رہے کہ 2014ء میں سی ڈی اے نے اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیوں اور دھرنوں کے لیے ایک جگہ مختص کی تھی'' جسے ڈیموکریسی پارک اینڈ اسپیچ کارنر'' کہا جاتا معزز جج نے سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ پاکستان میں تھرڈ امپائر صرف عدالتیں ہیں۔ بعدازاں عدالت نے 31 اکتوبر کو عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا جبکہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ عمران خان کی ان تقاریر کا ریکارڈ پیش کریں، جن میں انہوں نے 2 نومبر کو اسلام آباد کو بند کرنے کی بات کی تھی۔یاد رہے کہ پی ٹی آئی اگلے ماہ 2 نومبر کو پاناما لیکس اور کرپشن کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے جارہی ہے اور عمران خان کا مطالبہ کہ وزیراعظم نواز شریف یا تو استعفیٰ دیں یا پھر خود کو احتساب کے لئے پیش کردیں۔اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت دونوں ہی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ایک طرف پی ٹی آئی نے اپنے کارکنوں کو دھرنے کی تیاریوں کا کہہ رکھا ہے وہیں پولیس کی اسپیشل برانچ نے حکومت کو ان افراد کی فہرستیں فراہم کردی ہیں،جنہیں اسلام آباد کے محاصرے سے قبل گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ایک سینئر لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت تحمل سے کام لے گی اور اس وقت تک کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جب تک کوئی قانون کو ہاتھ میں نہ لے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے قانون کے مطابق فیصلہ دیتے ہوئے دونوں فریقوں کی حدود کا جو تعین کیا ہے یہ ایک ایسا موزوں حل ہے جس کے بعد نہ تو حکومت کو تحریک انصاف کے احتجاج پر کسی انتظامی خوف کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور نہ ہی تحریک انصاف کو عدالت کے فیصلے کے بر عکس کوئی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔عدالت نے عمران خان کو طلب کر لیا ہے جس میں ان کے بیانات کی وضاحت لی جائے گی اور ممکن ہے عدالت تحریک انصاف کے قائد سے اس امر کی ضمانت بھی طلب کر ے کہ ان کی حکمت عملی اور احتجاج سے اسلام آباد کا امن متاثر نہ ہو ۔ اگر دیکھا جائے تو عدالتی فیصلے سے فریقین کو قانون کے مطابق لائحہ عمل اختیار کر کے باعزت راستہ ملا ہے وگر نہ قبل ازیں دونوں جانب کی تیاریوں سے نہ صرف تصادم نا گزیر دکھائی دے رہا تھا بلکہ شہر اقتدار قبل از وقت بند ش اور محاصرے کی زد میں آتا دکھائی دے رہا تھا ۔ اسلام آباد پر یلغار کی جو ممکنہ صورت پہلے تھی وہ نہ صرف حکومت انتظامیہ اور عوام بلکہ خود تحریک انصاف کیلئے بھی کسی بڑے امتحان سے کم نہ تھی۔ ملک میں تصادم کی کیفیت کی کسی طور حمایت نہیں کی جا سکتی جہاں تک تحریک انصاف کے مطالبات اور احتجاج کا سوال ہے اگر کہیں لا قانونیت اور نا خوشگوار صورتحال پیدا نہیں ہوتی تواس کے احتجاج کو نہ صرف تحریک انصاف کے کار کن بلکہ عوام کے بڑے طبقے کی حمایت بھی حاصل ہوگی جو اسلام آباد کے احتجاج سے بڑی کامیابی ہوگی۔ اس بارے دو رائے نہیںکہ وطن عزیز میں شفاف اور بیرحمانہ احتسا ب ہونا چاہئے۔ اس کے لئے کسی نہ کسی کو آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے اگر تحریک انصاف نے اس کا بیڑا اٹھا لیا ہے تو یہ احسن ہے بس اتنی احتیاط اور گنجائش رکھی جائے کہ احتجا ج قانون کے دائرے سے باہر نہ نکل سکے ۔ ایسا کرنا خود تحریک انصاف کے مفاد میں ہے تا کہ اپنے کا ر کنوں کو امتحان میں نہ ڈالا جائے اور سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے والا معاملہ ہو ۔ عدالتی فیصلے میں تو کسی کا فائدہ اور کسی کا نقصان نہیں دیکھا جاتا ہے بلکہ قانون کو مد نظر رکھا جاتا ہے لیکن فیصلے کے اثرات بہر حال ہوتے ہیں۔ اس فیصلے سے تحریک انصاف کو کسی رکاوٹ اور تصادم کے بغیر اسلام آباد پہنچنے کا موقع ملے گا اور وہاں وہ اپنی سرگرمی کر سکے گی جبکہ حکومت کو یہ اطمینان رہے گا کہ تحریک انصاف کے قائدین کوئی ایسی سرگرمی نہیں ہونے دیں گے جس سے قانون کو حرکت میں لانا پڑے اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو حکومت کے پاس طاقت کے استعمال کا جواز سامنے آئے گا۔ ان تمام معاملات سے قطع نظر سیاسی معاملات میں اور جلسے جلوسوں اور عوامی اجتماعات کے موقع پر قانون کی پاسداری اور قانون کی عملداری دونوں ہی کسی ایک غلطی واقعہ اور حرکت کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کے جلسے جلوس بھی اس سے مبرا نہیں اس لئے دونومبر کو اسلام آباد میں کیا ہ

وگا اس کا تو خود اس کے منصوبہ سازوں کو بھی مکمل طور پر علم نہیں ۔لہٰذا احتیاط کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہوگی جہا ںتک اسلام آباد کی بندش کا سوال ہے ہمارے تئیں اس کیلئے پی ٹی آئی کو زیادہ تر دد کی ضرورت اس لئے نہیں پڑے گی کہ اگر دس لاکھ لوگ مختلف راستوں سے اسلام آباد میں داخل ہوں گے اور ان کی منزل ایک ہی جگہ ہوگی تو اسلام آباد سخت رش کے باعث ویسے ہی بند ہوگا ۔ اور قانون کی خلاف ورزی بھی نہیں ہوگی۔ تو قع کی جانی چاہیے کہ اسلام آباد میں احتجاج پر امن ہوگا اور فریقین قانون کے احترام اور ملک وقوم کے مفاد میں ایسی صورتحال پیدا کرنے سے گریز کریں گے جس سے لوگوں کو تکلیف کا سامنا کرناپڑے اور خدا نخواستہ قومی املاک کو نقصان پہنچے اور پکڑ دھکڑ کی نوبت آئے ۔

متعلقہ خبریں