من چہ گویم وطنبورہ من چہ سرائید

من چہ گویم وطنبورہ من چہ سرائید

من چہ گویم وطنبورہ من چہ سرائید
خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکمران و اتحادی جماعت تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان بحث ومباحثہ سے کم از کم یہ بات تو سامنے آگئی کہ تحریک انصاف کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں ترقی اور اقدامات کی حقیقت کیا ہے ؟ جماعت اسلامی کے رکن نے تعلیم کے شعبے میں کئے گئے اقدامات کا جو آئینہ دکھایا ہے صوبائی وزیر تعلیم اس پر جماعت اسلامی کوحکومت چھوڑنے کا مشورہ دینے کی بجائے اسے اپنوں کی حق گوئی سمجھ کر اپنے محکمے کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ جہاں تک جماعت اسلامی کی حکومت سے علیحدگی کا سوال ہے امیر جماعت حالیہ اجتماع میں اس کا عندیہ دے چکے ہیں۔ صوبائی وزیرتعلیم کو اس امر کا شاید علم نہیں کہ ان کی حکومت جماعت اسلامی ہی کہ مرہون منت ہے اگر جماعت اسلامی صوبائی حکومت سے علیحدگی اختیار کرتی ہے تو ان کی تیسری اتحادی جماعت بھی مجبوری کی یہ شادی برقرار نہیں رکھے گی۔ سیاسی معاملات سے قطع نظر ہمارے صوبائی وزراء کو کم از کم اتنی برداشت کا مادہ اپنے میں پیدا کر لینا چاہئے کہ وہ حق کی بات سن سکیں۔ جماعت اسلامی کے رکن نے جن جن معا ملات کی نشاندہی کی ہے صرف یہی نہیں بلکہ صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے ۔ اس حوالے سے دورائے نہیں کہ محکمہ تعلیم کی کار کردگی واقعی کاغذی کارروائی تک محدود ہے ۔محکمہ خزانہ کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی محض ایک تاثر ہی ہے یا اس میں حقیقت ہے اس سے قطع نظر محکمہ تعلیم کو بجٹ میں جو فنڈز دیئے گئے تھے ان کا کیا استعمال ہوا اومختص شدہ وسائل سے کتنے مسائل حل کئے گئے اور کتنی سہولتیں فراہم کی گئیں اور کتنے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں آیا ۔ کم از کم اتحاد ی جماعت کو تو اس کی کارکردگی کا غذی کارروائی ہی نظر آتی ہے تو عوا م سے کیا توقع کی جائے کہ وہ محکمہ تعلیم کی کارکردگی سے مطمئن ہوجائیں ۔ صوبائی وزیر تعلیم اس امر کی وضاحت کر یں کہ آخر مکتب سکولوں کو کیوں بند کیا جارہا ہے اور روخانہ پختونخوا سکیم کو ختم کرنے کا سبب کیا ہے ۔ تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود محکمہ تعلیم کی کار کردگی سے سیاسی جماعتیں اور عوام مطمئن کیوں نہیں ۔ بہتر ہوگا کہ تنقید کو تحمل سے سنا جائے اور الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق رد عمل دینے کی بجائے باہم تعاون سے تعلیم کی بہتری اور تعلیمی مسائل کے حل کی سعی کی جائے ۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا!
کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سنٹر پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے صوبہ بھر میں حساس اور غیر محفوظ مقامات کی حفاظت کیلئے ایس ایس جی کے ریٹائرڈ افسران کی خد مات کے حصول کا فیصلہ اس بنا پر مضحکہ خیز ہے کہ اب تک ہماری پویس کو دہشت گردی کے خلاف لڑتے لڑتے یہ تک معلوم نہیں ہو سکا کہ کون کون سے مقامات غیر محفوظ ہیں ایسے غیر محفوظ مقامات کی نشا ندہی کیلئے ہمارے تئیں زیادہ مہارت کی ضرورت نہیں کوئی بھی بصیرت بلکہ بصارت رکھنے والا شخص اس کی نشاندہی کر سکتا ہے اور ممکنہ حل بھی تجویز کرنا زیادہ مشکل نہیں ہمیں اس مقصد کیلئے ایس ایس جی کے سبکدوش اہلکاروں کی خدمات اعتراض نہیں لیکن اس سے یہ سوال نہیں اٹھے گا کہ پولیس اپنے آپ کے تحفظ میں ہی ناکام نہیں ہوچکی ہے بلکہ اسے اب اس امر کی نشان دہی کیلئے ایس ایس جی کے سابق افسران کی ضرورت پڑگئی ہے کہ کہاں کہاں خطرات ہو سکتے ہیں بلوچستان میں پولیس تربیتی مرکزکی دیوار تعمیر کرنے کیلئے کسی ماہر کی خدمات اور ان کی جانب سے نشاندہی کی ضرورت نہیں تھی اس کی نشاندہی بھی کی گئی مگر اس پر عملدرآمد نہ ہوا متعدد تربیت مکمل کرنے والوں کو پر اسرار طور پر واپس طلب کرنے کا عمل اپنی جگہ شکوک وشہبات کابا عث ہے ۔ بہتر ہوگا کہ عاجلانہ پن کے مظاہرے کی بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے اور ایسے فیصلے نہ کئے جائیں کہ صوبے کی پولیس کی دی گئی عظیم قربانیاں سوالیہ نشان بن جائیں ۔

متعلقہ خبریں