اندرونی قومی سلامتی

اندرونی قومی سلامتی

اندرونی قومی سلامتی

پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ کے سانحہ کے بعض شہیدوں کے لواحقین بعض ٹی وی چینلز پر یہ کہتے ہوئے دکھائی دیئے کہ جب ان کی تربیت مکمل ہوچکی تھی اور انہیں گھر بھیج دیا گیا تھا تو دوسرے دن انہیں کیوں واپس بلایا گیا۔ سانحہ میں جو سپاہی محفوظ رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان سے کوئی ڈیوٹی بھی نہیں لی جاتی تھی۔ ایک اخبار میں چھوٹی سی خبر تھی کہ اس بارے میں تحقیقات کی جارہی ہیں کہ انہیں کیوں واپس بلایا گیا تھا۔ آخر کسی نے تو واپس بلانے کے حکم نامے پر دستخط کیے ہوں گے تبھی تو انہیں واپس بلانے کے احکام ارسال کیے گئے ہوں گے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ انہیں بلوچستان کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کے حکم پر واپس بلایا گیا تھا۔ ایڈیشنل آئی جی کا حکم بھی بغیر کسی حکم یا ہدایت کے جاری نہیں کیا گیا ہوگا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس سانحہ کے ذمہ داروں کا تعین کیا جارہا ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ ذمہ دار سزا کے متوجب ہوں گے۔ لیکن کیا بعض سینئر اہلکاروں کو ذمہ دار ٹھہرانے سے حکومت ذمہ داری سے بری لذمہ ہو جائے گی؟ حقیقت حال کیا ہے، بلوچستان کے حکا م ہی بتاسکتے ہیں۔ اگرچہ انہیں واپس بلانے کی ذمہ داری کے تعین سے اور ان کے آئندہ مامور کیے جانے کے بارے میں اگر معلومات حاصل ہو بھی جائیں تو اس سے اندرونی قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال کے صرف ایک پہلو کے بارے میں کچھ اندازہ ہو جائے گا۔ حکومت کے اکابرین بار بار کہہ رہے ہیں کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے۔ سویلین حکومت کی طرف سے اور فوج کی طرف سے ایسے بیانات بالعموم آتے رہتے ہیں اور صورتحال کے بارے میں اس اندازے سے ساری قوم متفق بھی ہے۔ حکومت اگر چاہے تو حالت جنگ تقاضوں کے جواز کے تحت یہ معلومات افشا نہ بھی کرے تو یہ اس کی صوابدید ہوگی تاہم یہ جنگ جس طرح کی ہے اس میں کیونکہ قوم کے ہر فرد کا شامل ہونا ضروری ہے اس لئے یہ معلومات اگر جاری کر بھی دی جائیں تو کسی نقصان کا اندیشہ نہیں تاہم سیکورٹی کے تقاضوں سے لاپروائی کا سدباب ضروری ہے۔ نیشنل ایکشن پلان میں کچھ اور اقدامات بھی طے کیے گئے تھے جن پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ اگر ہم کہتے ہیں کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے تو اس کے تقاضوں پر سنجیدگی اور حصول مقصد کے عزم کے ساتھ پورا اترنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔آج کی جنگیں اور بالخصوص پاکستان میں لڑی جانے والی گوریلا کارروائیوں کے خلاف جنگ محض سرحدوں تک محدود نہیں ہے یہ سارے ملک میں لڑی جارہی ہے یہ عموماً کہا جاتا ہے کہ آخری دہشت گرد کو کیفر کردار تک پہنچانے تک یہ جنگ جاری رہے گی، جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، دہشت گرد اب بھی حملے کرتے ہیں۔ زیر زمین چھپائے ہوئے اسلحہ کے انبار اب بھی دریافت ہو رہے ہیں۔ کومبنگ آپریشن کہاں تک جاری ہے اور اس کے راستے میں کیا رکاوٹیں ہیں یہ عام معلومات کا حصہ نہیں ہے۔ ایک طرف ملک حالت جنگ میں ہے دوسری طرف ٹی وی پر کومپیئر مبصر بڑے بڑے ذمہ دار اہل سیاست سپہ سالار کی تبدیلی کی باتیں کررہے ہیں ۔ جنگ زبانی جمع خرچ نہیں ہوتی، اس کیلئے وسیع پیمانے پر منصوبہ بندی کی جاتی ہے ایک حکمت عملی تیار کی جاتی ہے جنگی قیادت اس حکمت عملی پر عملدرآمد کرتی ہے۔ زندگیاں دائو پر لگتی ہیں، عین حالت جنگ میں اس حکمت عملی کو تبدیل کرنا جوستر اسی فیصد کامیاب ثابت ہوچکی ہے اور جس کی سو فیصد کامیابی کیلئے غیر فوجی تعاون درکار ہے کیا مناسب ہے؟ یہ سوال اہم ہے اسے زیر غور ہونا چاہیے۔ ایوب خان نے عین اس وقت جنرل اختر حسین کی منصوبہ بندی کے مطابق فوج دریائے توی پر پہنچ چکی تھی جو بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان اس وقت واحد راستہ تھا۔ جنرل اختر حسین کو تبدیل کرکے جنرل یحییٰ خان کو محاذ پر بھیج دیا ۔ اس کے بعد کیا ہوا یہ تاریخ کا حصہ ہے۔آج پاکستان میں جو جنگ لڑی جارہی ہے وہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر لڑی جارہی ہے۔پاک فوج اور قانون نفاذ کرنے والے ادارے اس میں کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں لیکن یہ جنگ پاکستانی قوم کے خلاف ہے اس کی کامیابی کیلئے پاکستانی قوم کو بھرپور حصہ لینا ہے۔ مدرسوں کی دیواریںاونچی کروانا ایک جزوی اقدام ہوسکتا ہے۔ ہر عبادت گاہ پر اور ہر ایسے مقام پر جہاں اجتماع ہوتا ہو سیکورٹی گارڈز کھڑا کرنے سے آخری دہشت گرد تک رسائی نہیں ہوگی۔ الٹا ایسے اقدامات سے ہم اپنے شہریوں پر یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ ہمہ وقت خطرے میں ہیں اور یہی دہشت گردوں کا ایک مقصد بھی ہے ہمیں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ان کے بلوں سے کھود کو نکالنا ہے۔ عدالتی نظام سے ان کے جرائم کی سزا دلوانا ہے۔ خفیہ کاری کا نظام اس قدر وسیع نہیں ہوسکتا کہ ہر جگہ جاسوس تعینات کر دیئے جائیں۔یہ کام پاکستان کے عوام کا ہے کہ وہ ملک دشمنوں اور ان کے سہولت کاروں کو تلاش کریں۔ یہ اعلان کافی نہیں کہ جہاں کہیں لاوارث مشتبہ سامان دیکھیں پولیس کو اطلاع دیں۔ علاقے میں اجنبیوں یا ایسے افراد کی موجودگی کی اطلاع دینے کی ذمہ داری بلدیاتی اداروں کے نمائندوں اور اسمبلیوں کے ارکان کی ہونی چاہیے وہ علاقے کے لوگوں سے رابطے میں ہوتے ہیں اس راہ میں رکاوٹ یہ ہے کہ اطلاع دینے والے کو اپنے تحفظ کا خدشہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے سے د ف داری، اقربا پروری اور کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اور سارے معاشرے میں شفافیت کو فروغ دیا جائے ، یہ حالت جنگ کا چیلنج ہے جس پر معاشرے کے ہر ادارے کو پورا اترنا ہے۔
نوٹ: ایسی اطلاعات پر یقین کرنا ضروری نہیں ہے کہ کوئی دہشت گرد حملہ لشکر جھنگوی العالمی نے کرایا ہے، داعش نے کرایا ہے یا بیرون ملک کسی تنظیم سے کرایا ہے، ایسی باتوں کے محرکات کچھ بھی ہوسکتے ہیں۔یہ اعلانات گمراہ کرنے کیلئے بھی کیے جاسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں