کہ خوشبوآ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

کہ خوشبوآ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

کہ خوشبوآ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے


سیاست پر خا صی خامہ فرما سائی ہو گئی ہے ۔ اگر چہ سیاست کا مسئلہ یہ ہے کہ بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر ۔ مگر ذرا تفنن طبع کی خاطرہی سہی دال آٹے کا بھائو معلوم کر لیتے ہیں ۔ اور وہ جو کسی زمانے میں فرانس کی ایک شہزادی یا ملکہ نے عوام کی جانب سے روٹی طلب کرنے پر بڑی معصومیت سے کہا تھا کہ اگر ان لوگوں کو روٹی نہیں ملتی تو یہ کیک پیسٹری کیوں نہیں کھالیتے ۔کچھ ایسی ہی صورتحال مقطع میں سخن گسترانہ بات کی طرح ایک بار پھر آپڑی ہے اور وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی سکندر حیات خان بوسن نے عوام کو مفت مشورہ دیا ہے کہ دال ماش مہنگی ہے تو لوگ مونگ کی دال کھائیں ، سکندر حیات خان بوسن کا تعلق ملتان سے ہے اور جس زمانے میں راقم کا ریڈیو پاکستان ملتان تبادلہ ہوا تھا وہاں کے دوستوں نے ایک شخصیت کا تعارف کرایا تھا ۔ جن کا تعلق بھی لیگ ن ہی سے تھا اور جو ملتان کا مئیر منتخب ہوا تو موصوف نے مبینہ طور پر اپنے ادارے کے فنڈز کو حلوائی کی دکان اور نانا جی کی فاتحہ کے مصداق استعمال کیا، اس پر ایک روز مخالف سیاسی جماعتوں نے اُن کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا اور میونسپل کارپوریشن کے سامنے آکر محولہ مئیر جن کانام تھا حاجی بوٹا اور جو بعد میں ایم این اے بھی منتخب ہوئے تھے کے خلاف یو ں نعرے بازی کرنا شروع کر دی کہ ایک شخص چیختاکہ ملتان کو کس نے لوٹا ؟ جبکہ باقی لوگ پکار اٹھتے '' حاجی بوٹا ، حاجی بو ٹا '' ۔ اس وقت حاجی بوٹا صاحب اپنے دفتر میں شیشوں کی کھڑ کیوں کے پیچھے الفاظ تو نہیں سن رہے تھے البتہ لوگوں کو نعرے بازی لگاتے دیکھ رہے تھے ، انہوں نے کسی سے پو چھا ، یہ کون ہیں اور کیا نعرے لگا رہے ہیں؟ کسی نے کہا حاجی صاحب آپ کے حق میں جلوس نکلا ہے حاجی بوٹا نے خوش ہو کر مخالفانہ نعرے بازی کرنے والوں کو ہاتھ ہلا کر جواب دیا ، اب ہم یہ تو وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ اسی شہر ملتان کے سکندر حیات بوسن نے عوام کو دال ماش مہنگی ہونے کی جگہ بقول انکے دال مونگ کھانے کا جو مفت مشورہ دیا ہے اس پر ان کے خلاف عوام جلوس نکال کر احتجاج کریں گے یا پھر صورتحال جو قوم کو درپیش ہے حالات اس رخ پر تو نہیں چلے جائیں گے کیونکہ ویسے بھی عمران خان کے تیور کچھ زیادہ ہی تیکھے ہوتے جارہے ہیں ، اور وہ اپنی کشتیوں کو جلا کر میدان میں موجود ہیں ۔ کسی کی سننے کو تیا رنہیں ہیں اور معاملات کو آخری نتیجے تک پہنچا نے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ بے شک دال ماش مہنگی ہے مگر مونگ کی دال بھی کتنی سستی ہے کہ لوگ وزیر موصوف کی بات پر کان دھرنے پر مجبور ہو سکیں گے ، بلکہ حضور ذرا یہ تو فرمائیے کہ سستا کیا ہے ماسوائے انسان کے ؟ جی ہاں ایک انسان کی کوئی قیمت نہیں ہے باقی سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے ۔
سکندر حیات بوسن صاحب نے عوام کو یہ خوشخبری بھی سنادی ہے کہ ملک میں آلو کی ضرورت 32لاکھ ٹن ہے جبکہ پیداوار کا ہدف 38لاکھ ٹن رکھا گیا ہے ۔ گویا اگر یہ ہدف پورا ہو گیا تو ملکی ضرورت سے بھی 6لاکھ ٹن آلو زیادہ ہوں گے ، مگر ساتھ ہی موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ جن 6لاکھ ٹن اضافی آلوئوں کی پیداوار کی خوشخبری انہوں نے عوام کو سنائی ہے دراصل تمام مسئلہ یہیں آکر جنم لے گا ۔اور وہ یوں کہ جب ضرورت سے زیادہ آلو پیدا ہو جائے گا تو مڈل مین اس صورتحال سے بھر پور فائدہ اٹھا تے ہوئے اس اضافی پیداوار کی آڑ میں 6لاکھ ٹن کی بجائے پندرہ بیس لاکھ ٹن آلو وہ بھی اعلیٰ کوالٹی کے، ملک سے بر آمد کرنے کے لائسنس حاصل کر کے بیرون ملک بھیج دیں گے۔ یوں ملک کے اندر آلوئوں کی مصنوعی قلت پیدا کر دی جائے گی اور نہ صرف باقی آلو گوداموں میں بھر کر عوام پر مہنگائی مسلط کرکے لائسنس حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے اور یوں بھی عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہوئے دوبار ہ تجوریاں بھرتے رہیں گے ۔ اوپر سے نیک مشورے بھی دیئے جاتے ہیں وہ بھی مفت کہ دال ماش کو چھوڑ دو ، مونگ کی دا ل پر گزار کرو، سبحان اللہ کل ٹماٹروں کی جگہ ہانڈی میں کوئی اور متبادل چیز کے استعمال کے مشورے سامنے آجائیں گے ، پیاز کی جگہ بھی پیاز کا ایسنس (ایک دو قطرے ،ہانڈی میں ڈالنے کی ہدایات کے ذریعے تازہ پیازوں کے مقابلے میں بہتر نتائج کی تعریف کرکے عوام کو مجبور کیاجائے گا کہ وہ حکومتی احکامات مان لیں ۔ اور ایک دن ایسا بھی آجائے گا جب ہر سبزی کی جگہ مصنوعی طریقوں سے اُگنے والی اشیاء کے اشتہارات اخبارات اور ٹی وی پر چلنے لگیں گے ، جن میں غذائیت اور توانائی کی بھر پو رموجودگی کی نشاندہی سے عوام کو ان کے استعمال کی جانب راغب کیا جائے گا ، اور یہ کچھ ایسا ناممکن بھی نہیں کیونکہ اگر اس وقت مارکیٹ میں کیمیکل ملے دودھ کے ذریعے لوگوں کو لوٹنے کا دھندہ عروج پر ہونے کے باوجود متعلقہ اداروں کے کانوں پر اس صورتحال کے خلاف جوں تک رینگنے کی نوبت نہیں آرہی ہے توکل کلاں پلاسٹک کی سبزیاں کھانے میں کیا حرج ہو سکتا ہے حالانکہ ایک بہت ہی قدیم شعر میں اس صورتحال کی بھی وضاحت بڑے خوبصورت انداز میں کی گئی ہے ۔
سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
یقین نہ آئے تو شہر کے مختلف فلائی اوورز پر لگے مصنوعی پھولوں کے گلدستوں کو سونگھ لیجئے جن پر دھول جمی ہوئی ہے مگران سے خوشبوامڈنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوگا ، حالانکہ ان پر لاکھوں کروڑوں روپے لٹا دیئے گئے ہیں ۔

متعلقہ خبریں