ساجھے کی ہانڈی

ساجھے کی ہانڈی

ساجھے کی ہانڈی

پاکستان میں سیا سی ہو ں یا حکومتی اتحاد ہمیشہ مصنو عی بنیاد کا سبب رہے ہیں ۔اسی بنا ء پر یہ کبھی پا ئید ار ثابت نہ ہو پا ئے۔ اسلا می جمہوری اتحاد جس کے بارے میں آج بھی چرچا کیا جا تا ہے کہ وہ نظام مصطفٰے کے قیا م کی وجہ سے معر ض وجو د میں لا یا گیا تھا کیو ں ٹوٹا ، کیا اس کے اتحا دی مخلص نہ تھے ، وہ اتحاد بھٹو مر حوم کی حکو مت ڈبونے کی غر ض سے تھا۔ اسی بنا ء پر بھٹو مر حوم کو اقتدار سے الگ کر دینے کے بعد بے جو از ہو گیا تھا اور اپنے انجا م کو پہنچ گیا۔ ایسی درجن بھر سے زائد مثالیں ہیں۔ آصف زرداری کے دور میں مسلم لیگ ق جس کو پیپلز پارٹی بے نظیربھٹو مر حومہ کے حوالے سے قاتل لیگ پکارا کر تی تھی اس لیے شریک اقتدار کیا گیا کہ پی پی اپنی برتر ی کو مستحکم رکھ سکے اور جب یہ کا م نمٹ گیا تو دونو ں کی راہیں جدا ہو گئیں۔ ایسا ہی ہو تا چلا آیا ہے ، اس وقت بھی اتحاد مو جو د ہے ، تاہم اب تک کے جتنے بھی سیا سی اتحاد ہیں ان میں سب سے اہم اتحاد ایم ایم اے کا اتحاد سمجھا گیا تھا ، اس اتحاد کے فلسفے کی پشت پر جما عت اسلا می کے سابق امیر مر حوم قاضی حسین احمد کے افکا ر کا بڑا دخل تھا۔ آج جس طر ح پی ٹی آئی کو منفردحیثیت حا صل ہے کہ اس کو ایک صوبے میں حکومت ملی تاکہ وہ اپنے جو ہر سے عوام کو مستعفید کر ے اسی طر ح ایم ایم اے کو بھی حاصل ہو ئی تھی مگر ایم ایم اے کے لیے بھی حالا ت پی ٹی آئی جیسے نہ تھے کیو ں کہ وفاق پر ایک ایسے فوجی ڈکٹیٹرکا قبضہ تھا جس کا آئیڈیل اسلامی نظام کا دشمن اتاترک تھا چنا نچہ نے اس نے ایم ایم اے کی راہ میںروک حائل کیے رکھیں ۔لیکن ایم ایم اے کا شیرازہ اس لیے نہیںبکھر ا کہ پر ویز مشرف کا وفاق میں سایہ مو جو د تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایم ایم اے کی بعض اتحادی جما عتوں کی نظریں اپنے اصل مقاصد سے ہٹ کر آئند ہ کے عام انتخا بات پر تھیں اور اس اتحا د میں شامل ہو کر اسلا می نظام کے لیے کچھ کر نے کی بجا ئے اپنی اپنی ریٹنگ بڑھا نے کی دوڑ میں مگن رہیںجس نے اختلا فات کو جنم دیا اور پھر بکھر کر رہ گئیں ۔
اس ریٹنگ کی خواہش نے پر ویز مشرف کا بھی اور عمران خان کا بھی کا م آسان کر دیا۔ ریٹنگ کی خواہش میں جما عتو ں کا کیا حشر ہو ا کہ صوبہ کے پی کے میں اقتدار اے این پی کے ہا تھ لگ گیا اور اس کے بعد اب تحریک انصاف کے ہا تھوں میں ہے جس کی معاون کا ر جما عت اسلا می کو تصور کیا جا رہا ہے ۔ جماعت اسلا می تحریک اسلا می کی معاون کا ر کی حیثیت سے اس حد تک خوش قسمت ہے کہ تحریک کے وزراء اور لیڈر حضرات کو ان کے قائد عمر ان خان نے اپنی چاہت وزارت عظمیٰ کی سیا ست میں ایسا الجھا رکھا ہے کہ اس کا دھیا ن ریٹنگ کی طر ف نہیں جا رہا ہے ، ما ضی میں پی پی کے رہنما بھی اسی وتیر ے کے سیا ست دان تھے کہ وہ عوامی ضروریا ت کا خیال نہیں کیا کر تے تھے بلکہ وہ اپنی کا میا بی کی کنجی بھٹو مر حو م کی شہرت کو سمجھتے تھے
اور اسی کاوش میں رہتے تھے کہ بھٹو مرحوم کے منظور نظررہیں۔اسی اقتدا ر کے دور میں جب صوبے کی ہردلعزیز سیا سی شخصیت حیا ت شیر پاؤ پشاور یو نیو رسٹی کے شعبہ تاریخ کی تقریب میں بم دھما کے میں جاںبحق ہو گئے تو بھٹو نے اس سانحہ سے کئی شکا ر بھی کیے ایک طر ف انہوں نے اے این پی کی مد ر جما عت این اے پی کوغدار قرار دید یا اور پا بندی کی زنجیر و ں میں جکڑ دیا تو دوسری طرف انہوں نے عنا یت اللہ گنڈا پور کی حکومت کو بھی چلتا کر دیا ، عنایت اللہ گنڈا پور اپنی طر ز کی ایک اہم شخصیت ہو تے تھے وہ ڈیرہ اسما عیل خان سے آزاد امید وا ر کی حیثیت میں ستر کے انتخابا ت میں کامیا ب ہو ئے انہو ں نے اسلم خٹک مر حوم کے ساتھ پہلے آزاد ارکا ن اسمبلی کا اتحا د بنا یا بعد ازاں حیات شیر پا ؤ مر حوم کی وزارت اعلیٰ سے راہ روکنے کی غرض سے اسلم خٹک کے سہا ر ے وزیر اعلیٰ کا عہد ہ کمال مہا رت سے حاصل کر لیا ، یہ بات بھٹو مر حو م کو پسند نہ تھی چنا نچہ حیا ت خان شیر پا ؤ کے جاں بحق ہو نے کہ بعد جب گنڈا پو ر کی حکومت اس آڑ میں چلتی کر دی گئی تو فلپائن میں پاکستان کے سفیر نصراللہ خٹک کو لا کر پشا ور سے الیکشن لڑوا کر ان کو وزیر اعلیٰ مقر ر کردیا گیا تاہم سیا سی دباؤ کی بنا پر عنایت اللہ گنڈا پو ر مر حوم کو وزیر خزانہ کا قلمد ان تفویض کیا گیا چند ما ہ بعد ہی نصراللہ خٹک نے جو وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک کے غالباًکزن تھے بہر حال قریبی عزیز تھے اپنے وزیر خزانہ عنا یت اللہ گنڈا پو رکو برطرف کر دیا ان پر جو الز امات لگا ئے گئے ان میں سے ایک الزام یہ بھی تھا کہ وہ ترقیا تی منصوبو ں کے فنڈ ز کو دبائے بیٹھے ہیں اور رقم فراہم نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ترقیاتی کا م ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں ۔ آج کوئی ایسی خبر اخبار میں بھی آئی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں معاونت کا ر پا رٹی جما عت اسلامی کے وزیر خزانہ ہیں اس لیے تعلیم اور صحت کی ترقی کے منصوبے چو پٹ ہیں ۔ عنا یت اللہ گنڈا پو ر اور نصراللہ خٹک کی سیا سی چپقلش تو سمجھ میںآنے والی تھی مگر ان اتحا دیو ں کو کیا ہو ا کہ یکایک بگڑ ے مو ڈ میں نظر آنے لگے ہیں ۔ حکومت کی تما م کا رکر دگی کا کریڈٹ تو عمر ان خان خو د لیتے رہے ہیں ، بلدیاتی نظام کی تما م اچھا ئیا ں بھی تحریک انصاف کے لیڈر سمیٹتے رہے ہیں اور عمر ان خان تو اس بارے میں بڑے دھڑلے سے ادعا کر تے ہیں کہ کے پی کے میںبلدیا تی نظام کے ذریعے وہ تبدیلی لے آئے ہیں حالا نکہ بلدیاتی کو نسلر و ں سے استفسار کر و تو وہ بتا تے ہیںکہ ان کے پا س گلی کی صفائی کر وانے یا پینے کے پانی کا بند وبست تک کر انے کا اختیا ر نہیں ہے ۔
دونو ں جما عتوں کے اس اختلا ف کے بارے میںکہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے لیڈر نے مشورہ دیا ہے کہ اگر جماعت اسلا می مطمئن نہیں ہے تو بیشک الگ ہو جائے ، تر قی چاہتی ہے تو فنڈ جا ری کر ے ،تحریک کو فنڈ جا ری کر نے کی بڑی لت پڑ گئی ہے ، ابھی قائد تحریک نے کارکنو ں سے دھر نے کے نا م پر فنڈ جا ری کر نے کو کہا ہے جس کے بار ے میں کئی حلقو ں کے تحفظات بھی ہیں جن کا ذکر پھر کبھی کہیں عملا ًکسی کا رکن کی جانب سے عطیہ نہیں دیا گیا ہے ۔
تحریک کا جماعت کے لیے بہتر مشورہ ہے عوام بھی ابھی تک اس مخمصے میں ہیں کہ تحریک انصاف کاجو کلچر ہے وہ جما عت کے منشور اورنظریا ت سے قطعی متضاد ہے پھر بھی بہنیںیا بھائی بنے ہو ئے ہیں ۔کم از کم مو لا نا مو دودی رجل عظیم کے وارثو ں کو اتنا تو چاہیے کہ ایم ایم اے کی طرح تحر یک انصاف میں ان کے لیے کوئی قد ر مشتر ک ہے۔ اگر ہے تو وہ کیا ہے ، نہیں ہے تو ایک بنچ کے ساتھی کیسے بن بیٹھے ہیں ۔