بے لاگ انصاف امن کی ضمانت

بے لاگ انصاف امن کی ضمانت

بے لاگ انصاف امن کی ضمانت

اس قول میں نبوی تعلیمات کی آمیزش ہے کہ ظلم اور امن ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔ جہاں ظلم ہوگا وہاں مظلوم لوگ ضرور اپنے حقوق کی بازیابی اور اپنے اہل و عیال اور قوم کو ظلم سے بچانے کے لے سرد ھڑ کی بازی لگانے سے دریغ نہیں کریں گے ۔ اور جہاں عدل وانصاف کی حکمرانی ہوگی وہاں امن ہی امن اور خوشی و سلامتی ہوگی ۔ سرکار د و عالم ۖ نے تاریخ عالم میں ظلم و بر بریت کے سبب اقوام کی بر بادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صحابہ کرام سے فرمایا کہ تم سے پہلے قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ اُن کے بڑے لوگ جب جرم کا ارتکاب کرتے تو اُن کو سزانہ ملتی اگر ملتی بھی تو برائے نام اورچھوٹے وکمزور لوگ کسی جرم و گناہ کا ارتکا ب کرتے تو اُن پر پورے کا پورا قانون نافذ کر وادیا جاتا ۔ آپ ۖنے یہ قول مبارک اُس وقت ارشاد فرمایا جب قریش کی ایک خاتون فاطمہ نے چوری کا ارتکاب کیا تومعزز قبیلہ کی فرد ہونے کے سبب قبیلہ کے لوگوں نے کوششیں شروع کیں کہ اس سزا کو نافذ ہونے سے روک دیاجائے کیونکہ نفاذ کی صورت میں پورے قبیلے کی شرمندگی کا باعث بنے گا ۔ سوچا گیا اور مشورہ ہو ا کہ کس کو جناب خاتم انبیین ۖ کے پاس سفارش کے لئے بھیجاجائے ۔ کسی نے بتایا کہ آپ ۖ کو اسامہ بن زید سے بہت محبت ہے لہذا اُن کی خدمات حاصل کی جائیں ۔ اور پھر اُن سے رابطہ کر کے سفارش کروانے کے لئے تیار کیا اور حضرت اُسامہ نے آپ ۖ سے اس حوالے سے عرض کیا ۔ آپ ۖ نے جب اُن کی بات سنی تو چہرہ مبارک غصے سے سُرخ ہوگیا اور متوجہ بالا قول مبارک سے نواز ا اور فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتیں تو اُس کا ہاتھ بھی کٹتا ۔ قانون کے اسی بے لاگ نفاذ نے اُس جزیرة العر ب میں امن وامان کی وہ فضا قائم کی کہ کسی بڑے سے بڑے اور جابر سے جابر شخص کو کمزور سے کمزور شخص پر ہاتھ اُٹھانے یا اُس کا کوئی حق غصب کرنے کی جرات نہ ہوتی ۔ سرکار دوعالم نے اپنی وفات سے چند دن قبل صحابہ کے ایک مجمع میں اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مجھ پر کسی کا کوئی دعویٰ ہے تو میں اُس کی ادائیگی کیلئے حاضر ہوں ۔ آپ ۖ کے اسی اسوہ حسنہ اور تربیت کے سبب خلیفہ اور سیدنا ابوبکر صدیق نے خطبہ خلافت میں فرمایا کہ تم میں طاقتورترین آدمی میرے نزدیک اُس وقت تک کمزور ہے جب تک اُس سے کمزورکا حق نہ دلا دوں اور کمزور ترین طاقتور ہے جب تک اُسے اُس کا حق نہ دلادو۔ خلفائے راشدین بالخصوص سیدنا عمر فارو ق کے دو ر مبارک میں فاروقیت پر مبنی جو ریاست قائم ہوئی اور اُس میںعدل و انصاف کا جیتا جاگتا معاشرہ قائم ہوا اُس کی مثا ل تاریخ عالم میں نہ پہلے گزری ہے اور نہ شاید قیامت تک احادیث مبارکہ میں بتائے گئے آخری مبارک دور سے پہلے کہیں دوبارہ قائم ہوسکے گا ۔ اپنے وطن عزیز میں تو جب قدم قدم پر عدل وانصاف کاگزشتہ ساٹھ برسوں سے خون ہوتا ہوا دیکھا جاتا ہے توحساس دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ آج عالم اسلام افراتفری ، انتشار اور ظلم ونا انصافی کا شکار ہے ۔ ایسے میں صرف ایک ہی ملک کی طرف نگاہیں اُٹھتی ہیں جہاں سارے عالم اسلام کے مقابلے میں زیادہ خوشحالی امن و سلامتی اور فارغ البالی ہے اگرچہ گزشتہ کئی برسو ں سے گا ہے بگا ہے بعض علاقائی اور بین لااقوامی عناصر کی مذموم کوششیں ہیں کہ وہاں بھی حالات خراب کئے جائیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ مسلمانان عالم کیلئے اس کڑی دھوپ اور تپتی دوپہر میں ایک گھنے سایہ دار درخت کی مانند کھڑا ہے ۔ سعودی عرب جس کے پیچھے غیر تو غیر بعض اپنے بھی لگے ہوئے ہیں ۔یقینا آج بھی حرمین شرفین کے وجود سعود کے سبب آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی طمانیت کا باعث ہے ایسی جمہوریت کو کوئی کیا کریجہاںغریب وکمزور کی جان ومال آبرومحفوظ نہ ہو اور دو لوگ دو وقت کی روٹی کے لئے جان سے گزرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ۔ جہاں ریمنڈ ڈیوس جسے دن دیہاڑے تین قتل کر تاہے چند کروڑ روپے دے کر آرام سے اپنے ملک واپس چلے جاتے ہیں ۔ جبکہ اپنے ملک میں بے گناہ بھی پھانسی چڑھ جاتے ہیں اور عدالتوں سے اُن کی رہائی کا پروانہ بعد میں آتا ہے ۔ شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی بڑے خاندان کا فرد ہونے کے سبب جیل میں گھر کی سی زندگی گزار کر ضمانت پر رہا ہو کر وکٹری کا نشان بناتا ہے اور مقتول کے خاندان کے افراد بامر مجبوری قاتل کو معاف کر دیتے ہیں ۔ کراچی میں ظلم و بر بریت اور سفاکیت کی جو داستانیں رقم ہوئیں فیکٹری میں سینکڑوں لوگ زندہ جلائے گئے اور آج تک کسی کو سزا دینے کے لئے عدالتی کارروائی تک شروع نہ ہوسکی پھر بھی ہم امید کر یں کہ وطن عزیز میں امن قائم ہوگا ۔ سلامتی اور خوشحالی کا دور دوہ آئے گا ۔ عدل و انصاف اس کو کہتے ہیں کہ سعودی شہزادہ قاتل ٹھہرا تو اربوں ریا ل تھیلوں میں لئے گورنر ریاض کی سفارش بھی قاتل کو قصاص سے نہ بچا سکی ۔ کیونکہ مقتول کے ورثاء دیت لینے پر راضی نہ ہوئے ۔ سعودی عرب میں اس لئے امن ہے ۔لہذا اگر عالم اسلام کی خواہش ہے کہ اُن کے ہاں امن وسلامتی آئے تو نفاذ شریعت سے بڑھ کر کوئی دوسرا نسخہ فارمولااصول اور طریقہ موجود نہیں ۔ صرف جمہوریت انتخابات اور تعلیم وغیرہ سے امن ممکن ہوتا تو امریکہ اور یورپ دنیا کے پر امن ترین ملک ہوتے ۔اگرچہ وہاں اُن کے اپنے قوانین کے نفاذ کی عملیت کے سبب مقابلے میں ذرا بہتر صورتحال ہے ۔ لیکن یقینی اور آئیڈیل نہیں ۔۔۔۔

متعلقہ خبریں