کرپشن سرمایہ داری نظام کا لازمی جزو

کرپشن سرمایہ داری نظام کا لازمی جزو

کرپشن سرمایہ داری نظام کا لازمی جزو

وطن عزیز میںآج کل یہ بحث زوروں پر ہے کہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کون سا ہے؟ دہشت گردی یا کرپشن؟ اس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ لیکن پاناما لیکس کے بعد اب ز یادہ زور کرپشن پر دیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے تحریک انصاف کافی پیش پیش ہے۔ عمران خان نے تو کرپشن کے مسئلے کو ترجیح دیتے ہوئے کشمیر میں جاری صورت حال بارے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بھی بائیکاٹ کر دیا جس پر کافی لے دے ہو رہی ہے۔ یہ کوئی حیرات کی بات نہیں ہے۔ فطری طور پر جہاں سرمایہ ہو گا وہاں کرپشن کے امکانات زیادہ ہوں گے جبکہ کرپشن سرمایہ داری نظام کا لازمی حصہ ہے۔ اس نظام میں کک بیکس ،کمیشن ، انڈر انواسنگ ذخیرہ اندوزی وغیرہ معمول کی بات ہے۔
جن لوگوں کو 1958 اور 1977 کا زمانہ یاد ہو تو اس وقت کے فوجی حکمرانوں کا مقبول عام نعرہ کرپشن کا خاتمہ تھا۔غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری کے ہاتھوں بر طرف کی جانے والی منتخب حکومتوں پر بھی کرپشن ہی کے الزامات لگائے گئے تھے۔ 1999 میں جنرل مشرف کے ہاتھوں بر طرف کی جانے والی میاں نواز شریف کی حکومت پر دیگر الزامات کے علاوہ کرپشن کے الزامات نما یاں تھے۔اب ایک بار پھر پاناما لیکس کے باعث میاں صاحب سخت مشکل میں گرفتار ہیں۔ان انکشافات کوسامنے آئے ہوئے چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چلا ہے لیکن اس کی تحقیقات کے لئے اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آرہا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 1958 سے لیکر آج تک جو بھی کارروائی کرپشن کے خلاف ہوئی اس سے کرپشن ختم نہیں ہوئی بلکہ اس میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ کرپشن کے اس حمام میں صرف سیا ستدان ہی نہیں بلکہ پاکستانی سوسائٹی کے تمام اشرافیہ طبقات ننگے کھڑے نظر آرہے ہیں۔
عام قاری کا یہ سوال بنتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ یہ سوال پوچھتے وقت اسے یہ بات پیش نظر رکھنا ہو گی کہ پاکستان میں سرمایہ داری نظام رائج ہے اور یہ کہ سرمایہ داری کی بنیاد منافع خوری ، محنت کے استحصال اور خود غرضی ہے۔ کرپشن ، انسانی حقوق کی پامالی اور بد عنوانی کے طور طریقے اسی کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ مغرب میں سرمایہ داری کے آغاز کا زمانہ ہر طرح کی بد عنوانیوں کے دور سے گزرا اور جب اپنے پائوں پر کھڑا ہوا تو پھر اپنی ضروریات کے مطابق مسابقتی قوانین ، ٹیکس کے ضابطے اور کاروبار کے طور طریقوں کو وضع کیا۔یہ وہی زمانہ تھا جب بڑے بڑے مغربی سرمایہ دار ممالک نے ایشیا ، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں منڈیوں کی بنیاد پر نو آبادیات قائم کیں۔ نو آبادیاتی نظام لوٹ مار اور استحصال کا نظام تھا بلکہ ایک نیا عہد غلامی تھا۔لیکن اب یورپی اور مغربی سرمایہ داری جس اندرونی معاشی بحران سے دوچار ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ آئے دن ان کی سٹا ک مارکیٹس کا کریش ہونا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ کساد بازاری روز کا معمول ہے۔ اگروہاں کی حکومتیں مداخلت نہ کرتیں تو یہ نظام کب کا زمین بوس ہو چکا ہوتا۔ دولت کی حرص اور منافع کا بے دریغ حصول سرمایہ داری نظام کے ایسے بنیادی طریقے ہیں جن کے سامنے ضابطے ، قوانین ، تہذیب و تمدن اور اخلاقیات دم توڑ دیتے ہیں۔ اب پاکستان میں کرپشن کے خلاف آواز زور و شور سے اٹھائی جا رہی ہے۔ نئے قوانین اور ضابطوں کے وضع کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے جج صا حبان کا کہنا ہے کہ جو مقدمہ اٹھائیں' جس فائل کو کھولیں اس میں کرپشن ، بد عنوانی اورہیرا پھیری کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ حقیقت ہے کہ ایسا ہی ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ ہمارا ملک اور تیسری دنیا کے بے شمار ممالک جو ترقی یافتہ سرمایہ کاری سے کو سوں دور ہیں ، جہاں قبائلی اور جاگیر دارانہ با قیات سماج کے بڑے حصے پر حاوی ہیں ، جہاں دولت اور طبقاتی بالا دستی زندگی کا چلن متعین کرتی ہو وہاں انتخابات اور جمہوریت ہوں یا کاروبار اور معیشت ہوں کچھ بھی کرپشن اور بد عنوانی سے مبرا نہیں ہو سکتے۔کرپشن کا خاتمہ ایسی ہمہ گیر تحریک کے بغیر ممکن نہیں جو پاکستان کے محنت کش اور عام شہریوں جو کہ اس ملک کا 98 فی صد ہیں کی ایسی شعوری جد وجہد پر قائم ہو جو سماجی انقلاب اور بالا دستی کے نظام کے خاتمہ کی جانب گامزن ہو۔

متعلقہ خبریں