این اے فور میں پی ٹی آئی کی کامیابی

این اے فور میں پی ٹی آئی کی کامیابی

قومی اسمبلی حلقہ این اے 4کے ضمنی انتخابات کے نتیجے کو خیبر پختونخوا حکومت کی چار سالہ کار کردگی پر حلقے کے عوام کی جانب سے اگر اظہار اطمینان قرار نہ بھی دیا جائے تو بھی اس جیت سے کم از کم اس بات کی تصدیق تو ضرور ہوتی ہے کہ حلقے کے عوام نے پی ٹی آئی کے امیدوار پر اپنے بھر پور اعتماد کا اظہار کر کے اسے کامیابی سے ہمکنا ر کیا ہے۔ ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے امیدوار کے ووٹوں کی تعداد کی عام انتخابات میں کامیاب پی ٹی آئی کے امیدوار سے صرف آٹھ ہزار ووٹوں کی کمی کوئی کمی نہیں بلکہ اگر اس تعداد کو محض عددی کمی گردان کر یہ قرار دیا جائے کہ اس حلقے میں پی ٹی آئی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ امیدوار کی تبدیلی اور خود پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی کے صاحبزادے کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر پی ٹی آئی کے خلاف انتخاب لڑنے کے باوجود ووٹوں کی تعداد میں نمایاں کمی کا نہ آنا حلقے کے عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ اس ضمن میں کامیاب امید وار ارباب عامر کے اس بیان سے اتفاق نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیںکہ یہ جنون ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جنون میں کمی اور کچھ کارکنوں کی ناراضگی کے امکانات فطری ہونے کے باوجو اس کے اثرات ظاہر نہیں ہوئے ۔حلقے کے ایک حصے کے لوگوں کی جانب سے اگر انتخابات کا بائیکاٹ نہ کیا جاتا تو شاید چند سو یا ہزار ووٹ مزید بڑھ جاتے ۔بہر حال مقام اطمینان یہ ہے کہ یہ انتخاب مکمل طور پر پر امن فضا میں ہوا۔ قومی اسمبلی کی نشست این اے 4 پشاور میں ضمنی انتخاب کے لیے 14 امید وار میدان میںتھے۔حلقہ این اے 4 پشاور کی نشست پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ سے رکن اسمبلی منتخب ہونے والے گلزار خان کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔اس نشست پر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جارہی تھی لیکن بڑی حد تک مقابلہ یکطرفہ رہا کیونکہ جیتنے والے امید وار اور دوسرے نمبر پر آنے والے امید وار کے ووٹوں میں نمایاں فرق ہے۔تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) دونوں نے اس حلقے میں انتخابی مہم کے دوران کثیر وسائل استعمال کیئے ۔قومی اسمبلی کی اس نشست پر انتخابات کی ایک خاص بات یہ رہی کہ ہارنے والے امیدوار وں نے سختی کے ساتھ دھاندلی کا کوئی الزام نہ لگایا۔ اے این پی کی جانب سے تحفظات کے اظہار کو گلہ مندی کے زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ اگر دوسری جماعتوں کی جانب سے بھی اس طرح کی آراء کا اظہار کیا جائے تو بھی اس کی گنجائش موجود ہے۔ مجموعی طور پر نتائج کو تسلیم کر کے ایک اچھی روایت ڈالی جائے اس طرح کے رویہ کی توقع آئندہ کسی انتخاب میں پی ٹی آئی سے بھی رکھنا غلط نہ ہوگا ۔ این اے فو ر سے پی پی پی کے امید وار کا کامیاب امیدوار کو کامیابی پر مبارکباد اور نتائج کو خوش دلی سے قبول کرنے کا اقدام حقیقی جمہوری رویے کا اظہار اور قابل تعریف ہے۔ عوام کا فیصلہ خواہ جو بھی سامنے آئے اگر کوئی بڑی وجہ نہ ہو تو اسے تسلیم کرنا ہی جمہوری رویہ ہوتا ہے اور اگر کہیں دھاندلی کی شکایت ہو تو وہ با ثبوت ہونی چاہیئے محض الزام اور خفت مٹانے کیلئے ایسا نہیں ہونا چاہیئے ۔ اس انتخاب کا پر امن انعقاد جہاں فوج اور پولیس کے بہتر انتظامات کا مظہر ہے وہاں اس سے اس امر کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ مضافاتی علاقوں میں بھی حکومتی عملداری مستحکم ہو چکی ہے جو اطمینا ن کا باعث امر ہے جس کی روشنی میں بجا طور پر توقع کی جا سکتی ہے کہ 2013ء کے انتخابات کے بر عکس 2018ء کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو بھر پور طریقے سے انتخابی مہم چلانے کا موقع ملے گا ۔ پولنگ کا عمل تاخیر سے شروع ہونا اور اس طرح کے چھوٹے موٹے مسائل انتخابی عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ من حیث المجموع الیکشن کمیشن کے انتظامات اطمینان بخش قرار پاتے ہیں۔ اس انتخاب میں اطمینان کے جہاں بہت سے مواقع ہیں وہاں ایک سیاسی جماعت کی خاتون رکن اسمبلی کی کندھے سے بندوق لٹکائے آمد اور سیکورٹی اہلکاروں کا اس سے تعرض نہ کرنا قابل قبول رویہ نہیں جبکہ پولیس نے اسلحہ کی نمائش کرنے والے چھ افراد کو گرفتار کیا۔ دفعہ 144کی خلاف ورزی اور اسلحہ لیکر سر عام گھومنے پر ایک ہی طرح کی کارروائی ہونی چاہیئے ۔قانون بلا امتیاز خاتون ، مرد اور مخنث پر یکساں لاگوہوتا ہے مگر خیبر پختونخوا کی مثالی ہونے کی دعویدار پولیس عملی طور پر کیا کر رہی ہے اس کا ثبوت سامنے ہے ۔ جہاں تک اس خاتون کی اس حرکت کا تعلق ہے اسے اوچھی حرکت ہی نہیں گرداننا چاہیئے بلکہ اسے ووٹ کی پرچی کی بجائے بندوق پر یقین کا اظہار قرار دیا جانا چاہیئے۔ اس حرکت پر پولیس کا کیا کردار اور رویہ رہا ایک جمہوری سیاسی جماعت کی قیادت کو اس حرکت پر اپنی رکن اسمبلی سے جواب طلبی کرنی چاہیئے اور اسے عوام سے معافی مانگنے پر مجبور کیا جاناچاہیئے ۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کا جیت پر جشن منانا فطری امر تھا۔ نوجوانوں سے سجدہ شکربجا لانے کی توتوقع نہ تھی لیکن اگر قائدین نوجوانوں کو ہوائی فائرنگ جیسی قبیح حرکت کے ارتکاب سے روکتے تویہ احسن ہوتا اور ایک جان بھی بچ سکتی تھی اور کوئی زخمی بھی نہ ہوتا ۔ اپنی رہائش گاہ پر نوجوانوں کو فائرنگ سے روکنے یا کم از کم ان سے بار بار اپیل کرنے کا کامیاب امید وار مکلف تھا ۔بہر حال آئندہ سے جملہ سیاسی جماعتیں اور عمائدین اس امر کا متفقہ فیصلہ کریں کہ اسلحہ کی نمائش اور ہوائی فائرنگ کا کلچر مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا جبکہ پولیس اور سیکورٹی ادارے بشمول پاک آرمی اصولی طور پر اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ خواہ کوئی بھی ۔نہ تو اسے اس طرح کے مواقع پر اسلحہ کی نمائش کی اجازت دی جائے گی اور نہ ہی ہوائی فائرنگ کی اجازت دی جائے گی ایسا ہونے کی صورت میں متعلقہ تھانہ کے ایس ایچ او ، جیتنے والے امیدوار اور ان کی اس قبیح حرکت میںملوث حامیوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی ۔

متعلقہ خبریں