زرعی اراضی کے تحفظ کیلئے بلا تاخیر قانون سازی کی ضرورت

زرعی اراضی کے تحفظ کیلئے بلا تاخیر قانون سازی کی ضرورت

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے زرعی اراضی پر ہائوسنگ سکیموں کی حوصلہ شکنی اور اس ضمن میں قانون سازی کا اعلان خوش آئند امر ہے۔ اس ضمن میں قوانین پہلے سے موجود بھی ہیں لیکن اگر اس میں ترمیم و تبدیلی اور مزید مئو ثر بنانے کی ضرورت ہے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اس ضمن میں قوانین کو جتنا سخت اور مئوثر بنایا جائے گا اتنا ہی بہتر ہوگا ۔سرکاری ہائوسنگ سکیمز میں تو زرعی اراضی اور باغات کو کم سے کم متاثرہ کرنے کی رعایت رکھی جاتی ہے یہ بھی کوشش رہتی ہے کہ آبادی کم سے کم متاثر ہو لیکن بعض اداروں کی ہائوسنگ سکیموں میں زرعی اراضی کو جس بے دریغ طریقے سے حاصل کرکے تیار فصلوں پر بلڈوزر چلا دیئے جاتے ہیں ان کی روک تھام میں صوبائی حکومت کو اگر مکمل طور پر ناکام قراردیا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ ہمارے تئیں یہ بھی صوبائی حکومت ہی کی کمزوری اور غفلت ہی میں شامل ہوگا کہ اس طرح کی سکیمیں شروع کرنے کی باقاعدہ ایکٹ کی منظوری دے کر اجازت دی گئی جس کے نتیجے میں پشاور کے مضافاتی علاقوں کی زرخیز اراضی اور باغات اب نہیں رہے۔ اصولی طور پر تو ہونا یہ چاہیئے تھا کہ بڑھتی آبادی اورسکڑتی زرعی اراضی اور باغات کی تباہی پر صوبائی حکومت قانون کو مزید بہتر بنا کر قد غن لگاتی اور موجودہ قوانین پر سختی سے عملدر آمد کروا یا جاتا۔ اب صوبائی دارالحکومت میں زرعی اراضی اور باغات کا تناسب اس قدر کم ہوگیا ہے کہ ماحولیاتی مسائل میں شد ت آگئی ہے جبکہ صوبہ بھر میں بالعموم زرعی اراضی پر دھڑا دھڑ عمارتیں کھڑی ہونے سے زرعی اراضی میں کمی آرہی ہے ۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ صوبے میں زرعی اراضی پہلے سے موجود ہی نہیں اور رہی سہی اراضی بھی اب تباہی کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ حکومت کونہ صرف موجودہ اراضی ، باغات اور جنگلات کے تحفظات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے بلکہ زیادہ سے زیادہ بنجر اور بے آب علاقوں کو زیر کاشت لانے اور آبپاشی کے بہتر انتظامات پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ کی ضرورت ہے ایسی پرائیویٹ ہائوسنگ سکیموں کو این او سی جاری نہ کی جائے جو زرعی اراضی اور زیر کاشت رقبہ پر مشتمل ہو ۔ حکومت سرکاری سطح پر غیر آباد علاقوں پر ہائوسنگ سکیمز بنا کر عوام کی رہائشی ضروریات پوری کرے تو نجی ہائوسنگ سکیمز کی از خود حوصلہ شکنی ہوگی ۔
اعلیٰ سطحی انکوائری جامع اور نتیجہ خیز ہونی چاہیئے
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں جعلی ڈاکٹر کے حوالے سے ہسپتال انتظامیہ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی کا قیام موزوں اور مناسب اقدام ہے جس سے اس امر کی توقع کی جا سکتی ہے کہ صوبائی حکومت اس معاملے کی تہہ تک جانے کے ساتھ ساتھ اس کے ذمہ دار عناصر کو سزا دینے سے کم پر اکتفا نہ کرے گی ۔ جس طرح اس غلطی کا دفاع کیا جارہا ہے حقیقتاً ایسا ہونا ممکن نہیں بلکہ اس میں منظم ہاتھوں کا ہونا اور ہسپتال انتظامیہ سے لیکر محکمہ صحت کے متعلقہ حکام تک کی ملی بھگت کے بغیر ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا ۔ ہسپتال انتظامیہ کی انکوائری میں کسی پر ذمہ داری عائد کرنے سے اجتناب ہی اس امر پردال ہے کہ یہ معاملہ کمزور عناصر کا نہیں بلکہ منظم کرداروں کا ہے ۔تحقیقات کے بعد ممکن ہے کہ اس میں صرف جعلسازی ہی نہیں بلکہ اخلاقیات کے حوالے سے بھی کچھ انکشافات سامنے آئیں اور ایسے معاملات کا سراغ لگے جس کا تدارک کرنے پر ہسپتال کا ماحول ساز گار ہو۔ اس واقعے کے جو بھی حقائق سامنے آئیں اس کا اخفاء رکھنے کی روایت نہ دہرائی جائے بلکہ جملہ عناصر اور کرداروں کو اس طرح سے طشت ازبام کیا جائے کہ اس انہونی کے ہونے کی وجوہات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس واقعے میں پراسراریت کی جو بو محسوس ہوتی ہے وہ بلاوجہ نہیں اور اگر بالفرض محال ایسا نہیں تو بھی کم از کم واضح طور پر انسانی جانوں سے کھیلنے اور اختیارات سے حددرجہ غفلت برتنے کا ارتکاب درجہ بدرجہ کیا گیا ہے جس کی قوانین کے مطابق زیادہ سے زیادہ سزا دینے میں تامل کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیئے ۔ تاکہ آئندہ کوئی بھی کسی ایسی دانستہ غلطی کا ارتکاب نہ کر سکے جو قوانین کے سرا سر خلاف ہوں خاص طور پر ان شعبوں میں جو براہ راست عوام کے جان ومال اور عزت و آبرو سے متعلق ہوں ۔

متعلقہ خبریں