پاک امریکہ بنتے بگڑتے تعلقات ُُُٓٓٓ

پاک امریکہ بنتے بگڑتے تعلقات ُُُٓٓٓ

پاک فوج کی جانب سے امریکی اور کینیڈین شہریوں کو بازیاب کروانے، پاک افغان سرحدی علاقوں میں تازہ ترین ڈرون حملوںا ور شکریے اور تحسین کی چند کالز کے بعد پاکستان اور امریکہ کے سفارتی تعلقات پر جمی برف پگھلنا شروع ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہوگئے تھے کیونکہ اس پالیسی کے تحت پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا اور بھارت کو افغانستان کی تعمیر وترقی کے عمل میں مزید حصہ دینے کی بات کی گئی تھی۔ امریکہ کی جانب سے نئی افغان پالیسی کے تحت پاکستان پر ایسے الزامات لگائے گئے اور خطے میں ایسی تبدیلیاں لانے کی کو شش کی گئی جو پاکستان کے لئے ناقابلِ قبول تھیں۔حالیہ سفارتی گرم جوشی کوپاکستان میں ایسے حلقوں کی جانب سے خوش آمدید کہا جارہا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو ایک ایسی خارجہ پالیسی اپنانی چاہیے جس کے تحت تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے جاسکیں اور خصوصاً امریکہ جیسی واحد سپر پاور کے ساتھ تعلقات کو خراب نہ کیا جائے ۔ دوسری جانب اس سار ی صورت حال کو تنقیدی نظر سے دیکھنے والے ماہرین امریکی اور کینیڈین شہریت رکھنے والے خاندان کی امریکی وفد کے پاکستان کے دورے سے صرف ایک دن قبل بازیابی اور امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ریکس ٹلرسن کی پاکستان آمد سے چند دن پہلے ہی مبینہ امریکی ڈرون حملے میں جماعت الاحرار کے چیف کی ہلاکت کو پاکستان کی جانب سے امریکہ کے لئے خیر مقدمی اقدامات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان حالات کے تناظر میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حامی اور مخالفین کی رائے لی جائے تو دونوں اس بات پر متفق نظر آئیں گے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات کے حصول کے اصولوں پر قائم نہیں بلکہ یہ تعلقات وقتی فوائد اور سیاسی اتارچڑھائو کے تحت عروج و زوال کا شکا رہوتے رہتے ہیںجس میں کسی وقت امریکہ پاکستان کو خوش کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے اور کسی وقت پاکستان امریکہ کو منانے کے لئے دن رات ایک کرتا دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کے لئے دکھائے جانے والے خیر سگالی کے جذبوں سے ہٹ کر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو درپیش مسائل جوں کے توں موجود ہیں ۔ پاکستان کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کی تمام کوششوں اور اقدامات کو امریکہ کی جانب سے ہمیشہ سے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ حالیہ سفارتی گرم جوشی کے باوجود بھی واشنگٹن کی جانب سے ایسے کئی بیانات سامنے آئے ہیں جن میں پاکستان پردہشت گردوں کو پناہ دینے کا براہِ راست الزام عائد کیا گیا ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں امریکی چیئرمین آف جوائنٹ چیف آف سٹاف نے کانگریس کی ایک سماعت کے دوران یہ الزام عائد کیا کہ پاکستای ایجنسیوں کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعلقات ہیں ۔ اسی طرح جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے تو اسی وقت سی آئی اے کے ڈائریکٹر یہ بیان دے رہے تھے کہ امریکی شہری کیٹلین کیمبل اور ان کے خاندان کو حقانی نیٹ ورک نے پانچ سال کے لئے پاکستان میں قیدکرکے رکھا تھا( نہ کہ ان کو افغانستان میں رکھا گیا تھا جیسا کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز نے دعویٰ کیا تھا)۔ دوسری طرف، خطے میں امریکی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال پاکستان کے لئے انتہائی تشویش کا باعث ہے ۔ امریکہ خطے میں بھارتی کردار کو بڑھاوا دینے کے علاوہ کابل میں ایک نااہل اور پاکستان مخالف حکومت اور جماعت الاحرار جیسی پاکستان مخالفت تنظیموں کی افغان علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کے لئے انتہائی تشویش ناک ہونے کے ساتھ ساتھ ناقابلِ قبول بھی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے سی پیک کی کھلے عام مخالفت بھی کسی طرح پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ جب تک دونوں ممالک کے درمیان ان دیرینہ مسائل کا خاتمہ نہیں ہوتا تب تک پاک امریکہ تعلقات میں استحکام کا سوچا بھی نہیں جاسکتا لیکن یہاں پر ہمیں اس بات کا اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ پاک امریکہ تعلقات کی خرابی سے امریکہ سے زیادہ پاکستان کو نقصان پہنچے گا۔امریکہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات کی صورت میں ہماری خارجہ پالیسی عمل اور ردِ عمل کے فارمولے پر کام کرنا شروع کردیتی ہے اور اس دوران ہم اپنی تمام تر امیدوں کا مرکز چین کو بنا لیتے ہیں تاکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہونے والے عدم توازن پر قابو پایا جاسکے۔چین کی طرف جھکا ئو کی پالیسی کی جیوسٹریٹجک اور معاشی توجیہات بیان کی جاتی ہیں لیکن پاکستان آج تک خود بھی ان توجیہات کو مکمل طور پر نہیں سمجھ پایا ہے۔ چین کی خطے میں جاری دیگر پالیسیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کی وجہ سے بھی امریکہ کی جانب سے چین پر تنقید کی جاتی ہے اور جیسے ہی امریکہ اور چین کے تعلقات خراب ہوتے ہیں تو پاکستان کو ان دونوں بڑی طاقتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔پاک امریکہ تعلقات میں پاک فوج زیادہ تر معاملات اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے لیکن کسی بھی کشیدہ صورت حال کو معمول پر لانے کی ذمہ داری سول حکومت کے کندھوں پر ڈال دی جاتی ہے۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے شفافیت کی کمی اور حکومتی موقف میں تضاد کی وجہ سے پاکستانی حکومت عوام کی نظر میں اپنی ساکھ کھو بیٹھی ہے۔ پاک امریکہ تعلقات میں بہتری پاکستان کے لئے ناگزیر ہے لیکن پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو افغانستان اور بھارت کے تناظر سے ہٹ کر بھی دیکھنا ہوگا ۔ اس حوالے سے پاکستان کو امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ریکس ٹلرسن کے اس بیان کو اہمیت دینی چاہیے جس میں انہوں نے اپنے دورے کے دوران پاک امریکہ اقتصادی تعلقات میں بہتری لانے کی بات کی ہے ۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد )

متعلقہ خبریں