این ٹی ایس اساتذہ کرام کے مسائل

این ٹی ایس اساتذہ کرام کے مسائل

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اکثر یہ بات کرتے ہیں کہ قومیں تعلیم اور سائنس کے میدان میںترقی سے بنتی ہیں ۔ہر ٹی وی ٹاک شو اور سوشل میڈیا پر خیبر پختون خوا پولیس کی کا رکر دگی اور کے پی کے میں سکو لوں اور تعلیمی نظام میں بہتری کا ذکر کرتے ہیں۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے صوبے میںاب تک اساتذہ کرام اور معلمین کے لئے کو ئی ایسے اقدامات نہیں کئے گئے جس سے صوبے میں تعلیمی نظام میں انقلاب بر پا کیا جا سکے۔ میں ماہر تعلیم ڈٖاکٹر راشد علی شاہ کی اس بات سے 100 فی صد اتفاق کرتا ہوں کہ سکولوں کی چار دیواریاںاور عمارتیں تو کسی حد تک ٹھیک کی گئیں مگر اسا تذہ کرام کے استعداد کا ر کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔اگر دیکھا جائے تو اساتذہ کرام ومعلمین معا شرے میں وہ طاقت ور ٹول ہے جو کسی ملک میں اچھے تعلیمی نظام ، تعلیمی اداروں کو پروان چڑھانے اور معا شرے میں مُثبت کردار ادا کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔اگر ہم غور کریں تو پا کستان تحریک انصا ف کی حکومت نے خیبر پختون خوا کے مختلف تعلیمی اداروں میں سال 2014 سے لیکر اب تک 40500 اساتذہ کرام این ٹی ایس ٹسٹ کے ذریعے بھر تی کئے ہیں۔جن میں پرائمری سکول ٹیچر، سی ٹی، یعنی سر ٹیفائیڈ ٹیچر، اسلامیات کے اساتذہ کرام ، اے ٹی یعنی عربک ٹیچر، ڈرائینگ ٹیچر، ایس ایس ٹی ٹیچر اور قاری حضرات شامل ہیں اور مندرجہ بالا اساتذہ کرام پو ری تندہی، اور تیزی سے صوبے کے تعلیمی اداروں میں طالب علموں کو تعلیم دینے کے لئے کو شاں ہیں۔ اگر ہم مندرجہ بالا این ٹی ایس ٹسٹ کے ذریعے بھر تی کئے گئے اساتذہ کرام کی تنخواہوں کا جا ئزہ لیں تو انکی تنخواہ 16 ہزار سے لیکر 27 ہزار تک ہے۔مگر افسوس کی بات ہے کہ نہ تو اساتذہ کرام کو سالانہ انکریمنٹ لگایا جاتا ہے اور نہ انکو وہ مراعات ملتی ہیں جو مستقل اساتذہ کرام کو حا صل ہیں یہاں تک کہ ہائیر ایجو کیشن کے لئے چھٹی بھی نہیں دی جاتی ۔ بد قسمتی سے نہ تو انکی سنیا رٹی دیکھی جاتی ہے اور نہ انکو سرکاری ملازمین کی طرح دوسری مراعات دی جاتی ہیں، مگر انکے بر عکس تعلیمی اداروں میں انکی تقرری کا طریقہ کار وہی ہے جو مستقل اساتذہ کی بھر تی کے لئے ہے۔جہاں تک اساتذہ کرام کے دوسرے مسائل کا تعلق ہے تو این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی کئے گئے اساتذہ کرام کو وہ سہولیات حا صل نہیں جو ریگولر اساتذہ کرام کو حا صل ہیں۔اگر ہم اساتذہ کرام کے تعلیمی کوائف کا جا ئزہ لیں تو اکثر اساتذہ کی تعلیمی استعداد ایم اے، ایم ایس سی، ایم ایس ، ایم فل اور پی ایچ ڈی اور ساتھ ساتھ بی ایڈ اور ایم ایڈ بھی ہے ۔این ٹی ایس نظا م کے ذریعے بھرتی کئے گئے اساتذہ کرام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مسائل اور صوبائی حکومت کی امتیازی پالیسی کے خلاف اور اپنے مسائل کے حل کے لئے 29 اکتوبر کو بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کے سامنے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دیں گے۔ جس میں عورتیں اور سکول ٹیچربچے بچیاں اساتذہ کرام بھر پو ر حصہ لیں گے۔انکے مطالبات میں 2014 سے این ٹی ایس اسا تذہ کرام کی ریگولرائزیشن کرنا، سکول بیسڈ نظام کو ختم کرنا وغیرہ شامل ہے۔ 

میں قارئین کو بتا دوں کہ اس نظام کے تحت جس ٹیچر کی تعیناتی جس سکول میں کی جاتی ہے وہ ہمیشہ اسی سکول میں رہیںگے۔ اگر واقعی پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنے صوبے میں ایک آئیڈیل تعلیمی نظام کو لاگو کرنا چا ہتے ہیں تو انکو چاہئے کہ وہ اساتذہ کرام کو زیادہ سے زیادہ معاوضہ اور مراعا ت دیں اورا نکو ریگولرائز کریں تاکہ وہ اپنے فرائض منصبی احسن طریقے اور دل جمعی سے اداکرسکیں ۔ ادارے بذات خود کوئی چیز نہیں بلکہ اداروں میں جو لوگ کام کرتے ہیں وہ اداروں کے اثاثے ہو تے ہیں جنکا کردار تعلیمی نظام کے لئے اہم ہے۔ جب تک ہم اداروں کے ملا زمین کوخوش نہیں رکھیں گے اس وقت تعلیمی نظام احسن طریقے سے چلنے کے قابل نہیں ہوگا۔اگر ہم سو شیالوجی پر نظر ڈالیں تو ماہر سماجیات کے مطابق دنیا میں اچھی اور بہترین ثقافت کو قائم رکھنے کے لئے جن اداروں کی انتہائی سخت اور اشد ضرورت ہے اور جن کے بغیر بہترین ثقافت کو پر وان نہیں چڑھایا جاسکتا تو ان اداروں میں نمبر 1) خاندان، نمبر2) تعلیم، نمبر 3) مذہب، نمبر 4)ملک کا سیاسی نظام، 5) ملک کا معا شی نظام 6) ہیلتھ یعنی صحت شامل ہیں۔اگر ہم کسی ملک میں اچھی ثقافت اور معاشرے کو قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ان تمام اداروں کا ہونا نا گزیر ہے مگر اس میں جو سب سے اہم ہے، وہ تعلیمی نظام ہے۔ اور کوئی بھی معا شرہ تعلیم کے فروغ کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ جس ملک میں اساتذہ کرام خوش نہ ہوں وہ کس طرح سے ترقی کر سکے گا۔ عمران خان،وزیر تعلیم اور وزارت تعلیم کے اہم اور اعلیٰ اہل کاروں سے استدعاہے کہ وہ این ٹی ایس ٹیسٹ کے ذریعے تعینات کئے گئے اساتذہ کرام کو 1973 کے آئین اور سول سرونٹ ایکٹ کے تحت سول سرونٹ حیثیت دینے کا اعلان کریں تاکہ وہ پو ری اہلیت، طاقت اور جانفشانی کے ذریعے فرائض منصبی کو ادا کر سکیں۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ سرکاری اداروں کے اساتذہ کرام اپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے ادانہیں کرتے تو یہ صوبا ئی قیادت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اساتذہ کرام کی صحیح طریقے سے مانیٹرنگ کریں اور تعلیمی نظام کو صحیح طریقے سے چلائیں۔ جب تک وطن عزیز میں اچھی حکمرانی کا تصور عام نہیں ہوگا اُس وقت تک کوئی بھی ادارہ بہترین کا ر کر دگی نہیں دکھا سکتا۔

متعلقہ خبریں