’’ ڈومور ‘‘کی سرگوشی کا کرشمہ؟

’’ ڈومور ‘‘کی سرگوشی کا کرشمہ؟

بھارت میں بی جے پی کی حکومت نے تین سال تک کشمیرکو مقتل بنائے رکھنے کے بعد مذاکرات کار کا تقررکر دیا ہے۔مذاکرات کار کے لئے بھارتی انٹیلی جنس بیور و کے سابق سربراہ دینشور شرما کو چنا گیا ہے جو نوے کی دہائی میں کشمیر میں کام کر چکے ہیں ۔مذاکرات کار کے لئے تقرر کا اعلان بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے عجلت میں بلائی گئی ایک پریس کانفرنس میں کیا ۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ مذاکرات کار کا تقرر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پندرہ اگست کی تقریر کے عین مطابق ہے جس میں کشمیر کا مسئلہ گولی اور گالی سے حل نہ ہونے اور کشمیریوں کو گلے لگانے کی بات کی گئی تھی ۔راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر حل کرنے میں سنجیدہ اور اسے حل کرنے کی پابند ہے۔حکومتی نمائندے کشمیر کے تمام لوگوں سے مذاکرات کریں گے۔دینشور شرما نے اپنے تقرر کے بعد کہا کہ علیحدگی پسندوں سمیت تمام نظریات سے وابستہ سیاسی شخصیات سے مل کر وادی میں امن کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے حل کی کوشش کریں گے۔بھارت کی طرف سے مذاکرات کار کے تقرر کو حریت کانفرنس نے یہ کہہ کر مسترد کیا کہ پاکستان مسئلے کا ایک اہم فریق ہے اور پاکستان کو مذاکرات سے باہر رکھ کر مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دوسری طرف پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی مذاکرات کار کے تقرر کو یہ کہہ کر مسترد کیا کہ حریت کانفرنس کے بغیر مذاکرات بے معنی ہوں گے۔سابق وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’کشمیر کو ایک سیاسی مسئلہ تسلیم کرنا ان سب کی شکست کا غماز ہے جو صرف طاقت کے استعمال کو اس مسئلے کا حل سمجھتے تھے ‘‘۔ واجپائی اور من موہن سنگھ کے ادوار میں حریت کانفرنس اور بھارتی حکومتوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جو درحقیقت فوٹو سیشن تک محدود تھے ۔ان دو طرفہ مذاکرات کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی تھی کیونکہ کشمیر کی زمین پر کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی ۔جس کے نتیجے میں اس مذاکراتی عمل کے خلاف عوامی جذبات کا لاوہ پھٹنا شروع ہوگیا اور حریت کانفرنس کے لئے مذاکرات کی راہوں پر آگے بڑھنا ناممکن ہو گیا ۔نریندر مودی کی حکومت نے ہوا کے گھوڑے پر سوا ہو کر کشمیر کے انتخابی پلان کو ’’مشن 44+‘‘ کانام دیا تھا ۔جس کا مطلب تھا کہ کشمیر اسمبلی کی چوالیس سے زیادہ نشستوں پر قبضہ جما کر تنہا حکومت سازی کی جائے ۔یہ منصوبہ ناکام ہوگیا اوربی جے پی کو محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی کے ساتھ مل کر حکومت تشکیل دینا پڑی ۔کشمیریوں نے بے جے پی کی اس انداز سے آمد کو اپنی مسلم اور کشمیری تشخص کے لئے خطرے کی گھنٹی سمجھ کر مزاحمت کا راستہ اختیار کیا ۔جواب میں بی جے پی کی حکومت نے کشمیریوں کو لاٹھی سے ہانکنے کی پالیسی اختیار کی ۔جس کا بڑے پیمانے پر ردعمل ہوا جو برہان وانی کی شہادت کے بعد آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا۔بھارت نے کشمیریوں کو پیلٹ گن کی گولیوں سے دبانے کی کوشش میں سانحات کی ایک نئی کہانی رقم کی ۔صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بھارت اس وقت کشمیر میں مذاکراتی عمل شروع کرنے کے حوالے سے اندرونی اور بیرونی دبائو کا سامنا کر رہا ہے ۔تین سال بعد بھارتی حکومت کی طرف سے مذاکرات کی اہمیت اور ضرورت کا احساس درحقیقت ’’ڈومور ‘‘ کا نتیجہ ہے۔یہ حقیقت ہے کہ امریکہ منادی کے انداز میںایک ڈومور پاکستان سے کہتا ہے جس کے لئے لائوڈ سپیکر کا سہارا لیا جاتا ہے ۔ایک ڈومور سرگوشی کے انداز میں بھارت کو بھی کہا جاتا ہے ۔اس ڈومور میں بھارت کی عزت نفس اور قومی انا کا خیال رکھا جاتاہے ۔ اس ڈومور کی آواز کسی کو سنائی نہیں دیتی ۔کبھی تو یہ ڈومور کی فرمائش آنکھوں ہی آنکھوں میں کی جاتی ہے ۔پاکستان سے مذاکرات اور کشمیر میں حالات بہتر کرنے کے لئے بھارتیوں کے کان میں ڈومور کی سرگوشی کا ہی شاخسانہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے دورۂ بھارت سے قبل عجلت میں بلائی گئی ایک پریس کانفرنس میں کشمیر کے لئے مذاکرات کار کا تقرر کیا گیا ۔جس کے بعد بھارت نے امریکہ کو یہ باور کرایا ہوگا کہ وہ کشمیریوں سے ہر سطح اور ہر قسم کے مذاکرات کے لئے تیار ہے۔مذاکرات کار کا اس انداز سے تقرر اس لحاظ سے مشق فضول ہے کہ مودی اور محبوبہ مفتی کے مابین کوئی تنازعہ ہی نہیں ۔اصل تنازعہ حریت کانفرنس اور بھارت اور پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے ۔اس مسئلے کو پس منظر سے الگ کرنے کی کوشش نہ تو ماضی میں کامیاب ہوئی نہ آئندہ اس کا امکان ہے۔حریت کانفرنس موجودہ حالات میں مذاکرات برائے مذاکرات کے موڈ میں نہیں اور نہ ہی کشمیر کے موجود ہ حالات میں کشمیر کے عوام بھارت کی طرف سے کوئی بڑا فیصلہ اور اعلان ہوئے بغیر کسی مذاکراتی عمل کا حصہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں