برازیل میں تعلیم ایک خوشگوار تجربہ

برازیل میں تعلیم ایک خوشگوار تجربہ

ڈاکٹر ذوالقرنین نے باٹنی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ پودوں میں ان کی جان ہے۔ کا م کے ساتھ ان کا جنون دیکھ کر ہمیں بابائے اردو مولوی عبدالحق والا نام دیو مالی یاد آجاتا ہے جو ساری عمر پودوں کی خدمت کرتا رہا، ایک دن باغ میں بیٹھا پودوں کو سینچ رہا تھا ان کی کانٹ چھانٹ میں مصروف تھاکہ اچانک شہد کی مکھیوں نے حملہ کردیا باقی مالیوں نے تو بھاگ کر جان بچالی لیکن نام دیو مالی اپنے پودوں میں اس قدر مستغرق تھا کہ اسے مکھیوں کی یورش کی خبر بھی نہیں ہوئی ۔بیچارے کو اتنا کاٹا کہ وہیںبے دم ہو کر گر پڑا اور جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ درحقیقت یہی انسانیت کی معراج ہے کہ انسان اپنے کام کے ساتھ مخلص ہو اپنی ذمہ داری کا نہ صرف شعور رکھتا ہو بلکہ دل وجان سے اپنے فرائض پورے کرتا رہے۔ ڈاکٹر صاحب نے برازیل سے پی ایچ ڈی کی ہے ہم نے بہت پہلے کہیں پڑھا تھا کہ ایک مرتبہ امریکیوں نے برازیلیوں کے خلاف ایک جلوس نکال کر احتجاج کیا کہ یہ اتنے آزاد خیال اور بے پردہ ہیں کہ ان کی وجہ سے ہماری تہذیب خطرے میں ہے، ہماری معاشرت متاثر ہورہی ہے !بس اسی دن سے ہماری رائے برازیلیوں کے حق میں کوئی زیادہ اچھی نہیں۔ ہماری جب ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی تو ہم نے سب سے پہلے ان کے سامنے یہی مسئلہ رکھ دیا کہ جناب ہمیں بتائیں اس بات میں کتنی صداقت ہے؟ وہ ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ امریکیوں کا احتجاج بجا تھا اس طرح کے مسائل ان لوگوں میں کسی حد تک یقینا موجود ہیں لیکن مجموعی طور پر برازیلین بڑی خوبیوں کے مالک ہیںہمارا وقت ان کے ساتھ بڑا اچھا گزرا ۔ برازیل آبادی کے لحاظ سے چھٹے اور رقبے کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر ہے یہ لاطینی اور جنوبی امریکہ کا سب سے بڑا ملک ہے اس میں دنیا کا سب سے بڑا جنگل ہے جسے امازون کہتے ہیں۔یہ دنیا کی آٹھویں بڑی معیشت ہے یہ پچھلے ایک سو پچاس برسوں سے سب سے زیادہ کافی برآمد کرنے والا ملک ہے۔ برازیل میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں جن میں پرتگال، اٹلی، جاپان، جرمنی، لبنان ،افریقہ شامل ہیں۔ ان لوگوں نے قدرتی آفات یا جنگوں کی وجہ سے ہجرت کی تھی۔ لارن ہومز ایک انگریز خاتون ہے جو پچھلے تین سالوں سے برازیل میں رہا ئش پذیرہے۔ اس کا کہنا ہے کہ آپ کو برازیل جانے سے پہلے کچھ باتوں کا علم ضرور ہونا چاہیے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ برازیل کوئی سستا ملک نہیں ہے یہاں رہ کر آپ کے لیے بچت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ چیزوں کی قیمتیں وہی ہیں جو لندن میں ہیں لیکن معیار لندن کی طرح نہیں ہے۔ شہروں میں سستی رہائش کا ملنا مشکل ہے البتہ شہروں سے باہر مضافات میں مناسب کرائے پر رہائش مل جاتی ہے۔ لوگ بڑے دلچسپ ہیں یہ ان حالات و واقعات پر بہت زیادہ بولنے کے شوقین ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی وقوع پذیر نہیں ہونا ہوتایوں کہیے خیالی پلائو پکاتے رہتے ہیں۔ اگر آپ برازیل میں بے روزگار ہیں اور آپ کو ملازمت چاہیے تو اس کے لیے آپ کو لوگوں کے ساتھ ملنا جلنا ہوگا ان کے ساتھ تعلقات بنانے ہوں گے ان کو اعتماد میں لیے بغیر جاب کا ملنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ بالمشافہ گفتگو کے بغیر جاب کا ملنا ناممکنات میں سے ہے۔ برازیل میں پرتگالی زبان بولی جاتی ہے اگر آپ یہ زبان بولنا سیکھ جاتے ہیں یا کسی حد تک سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر آپ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور آپ کے لیے برازیل میں زندگی گزارنا بہت آسان ہوجاتا ہے ۔ زبان جاننے کی وجہ سے آپ کو جاب بھی آسانی سے مل جاتی ہے۔ برازیلین دارالخلافہ رائیو ڈی جنیرو میں پرتگالی زبان سکھانے کے بہت سے سکول ہیں۔وہاں پر ہیلتھ سروس بڑی شاندار ہے۔ اگر آپ ملازمت کر رہے ہیں تو آپ کی ہیلتھ انشورنس کی ادائیگی اسی جاب میں ادا ہوجاتی ہے اور آپ کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہوتی ہے پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کافی مہنگا ہے البتہ وہاں کے پبلک ہسپتالوں میں علاج بہت سستا ہے لیکن پبلک ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتیں معیاری اور بہتر نہیں ہیں۔ تعلیم کے حوالے سے بھی برازیل کسی سے کم نہیں ہے بہت سے طلباء کو مفت تعلیم اور سکالرشپ کی سہولت حاصل ہوتی ہے اس میں مقامی اور غیر ملکی دونوں قسم کے طالب علم شامل ہیں۔ یہاں کے لوگ ہنسی خوشی زندگی گزارنے والے ہیں اور اپنے آپ کو خوشحال کہتے ہیں اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ ہر ویک اینڈ پر پارٹیاں کرتے ہیںاور دوستوں کو ضرور دعوت دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب چائے یا کافی پینے یا کھانا کھانے کے لیے جاتے ہیں تو اکیلے کبھی بھی نہیں جاتے عموماً ٹولیوں کی شکل میں گپ شپ لگاتے ہوئے جاتے ہیں۔ملنسار اور مہمان نواز طبیعت کے مالک ہیںگپ شپ کے شوقین ہیں آپ کی بات پوری توجہ اور دلچسپی کے ساتھ سنتے ہیںوہ مذہبی اقدار کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے لیکن آپ کے مذہبی معاملات میں رکاوٹ بھی نہیں بنتے بلکہ آپ کے معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں۔ ڈاکٹر ذوالقرنین کہتے ہیں کہ وہ عام طور نماز لیبارٹری میں ادا کرتے تھے لیکن جب کبھی کسی دوسری جگہ نماز پڑھتے تو وہ باقاعدہ پوچھتے اور یاد دلاتے کہ آپ نے آج نماز ادانہیں کی !اس طرح رمضان المبارک میں حال احوال پوچھتے۔ وہ لوگ اپنی والدہ کی بہت قدر کرتے ہیں کوئی کام بھی ماں کے مشورے کے بغیر نہیں کرتے۔ عام طور پر بچے بڑے ہوکر والدین سے الگ زندگی گزارتے ہیں لیکن ان کے ساتھ رابطہ ضرور رکھتے ہیںاور فارغ اوقات میں والدین کی خبر گیری ضرور کرتے ہیں۔کام کے اوقات میں خوب کام کرتے ہیں لیکن جلد باز نہیں ہیں۔ پورے سکون اور دلجمعی سے کام کرتے ہیں دبائو میں کام نہیں کرتے ہر جگہ صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن کام وقت پر ختم کرتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کے بقول ان کا برازیل میں تعلیم حاصل کرنا ایک خوشگوارتجربہ تھا اور مجموعی طور پر وہاں کے لوگوں نے انہیں اپنے اخلاق و عادات سے بہت زیادہ متاثر کیا۔ 

متعلقہ خبریں