طیب اردوان اور تہذیبوں کا معاملہ

طیب اردوان اور تہذیبوں کا معاملہ

تہذیب اور مہذب ہونے کی بحث بڑی دلچسپ بھی ہے اور خطرناک بھی۔ دلچسپ اس لحاظ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں موسم اور جغرافیائی صورتحال کے اختلاف کی بنیاد پر مختلف اقوام پیدا کی ہیں۔ اس لئے ان کے رنگوں‘ زبانوں‘ رہن سہن‘ کھانے پینے اورشادی بیاہ اور زندگی کے دیگر معاملات میں اختلاف اور تنوع ایک فطری امر ہے اور یہ بہت ہی باعث دلچسپی اور قابل تحقیق ہے۔ دنیا میں جتنے انسان گزرے ہیں موجود ہیں اور مستقبل میں آئیں گے یہ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق تھے‘ ہیں اور رہیں گے۔ ان کے مختلف رنگوں اور زبانوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانی قرار دیا ہے۔ نسب کے لحاظ سے دنیا کے سارے انسانوں کو ابن آدم قرار دے کر یہ بات واضح کی ہے کہ بحیثیت انسان سب لوگ برابر ہیں یعنی احترام اور اکرام میں سب انسان بحیثیت بشر برابر ہیں لیکن اپنی محنت ‘ قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر انسانوں کے درمیان اونچ نیچ قائم ہے اور موجود ہے اور رہے گی۔ البتہ اللہ کے نزدیک بزرگ و مکرم اور قابل احترام وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوتا ہے۔انسانیت کی تاریخ میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والی شخصیت ( بزرگ ترین) جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں۔ اس کے ساتھ دیگر سارے انبیاء کرام اسی ذیل میں آتے ہیں۔ اس لئے انسانیت کی تاریخ میں اشرف اخلائق انبیائے کرام علیہم السلام ہیں۔ ان کے بعد جو لوگ جتنا زیادہ انبیاء کرام اور اب قیامت تک خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں گے اتنے ہی مکرم و محترم ہوں گے۔تہذیبوں کا عقیدے کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی مکۃ المکرمہ میں ایک ہی قوم و قبیلے میں عقیدے‘ سوچ‘ فکرو نظر اور زندگی کے دیگر معاملات میں بنیادی فرق واقع ہوا۔ اس تہذیبی فکر کے اختلاف نے ایک ہی قوم کو میدان بدر میں آمنے سامنے کھڑا کیا جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل حق کو فتح دلائی۔تہذیب کا عقیدے کے علاوہ معاشیات کے ساتھ بھی ایک اہم تعلق ہوتا ہے اور وہ تہذیب غالب آجاتی ہے جس کی معیشت (اکانومی) مضبوط ہو۔ مضبوط اکانومی کی بنیاد تعلیم ہوتی ہے۔ تعلیم کے نتیجے میں ٹیکنالوجی وجود میں آتی ہے۔ علوم و فنون اور ٹیکنالوجی افراد و اقوام کی زبانوں‘ تہذیب و ثقافت اور اخلاقیات متاثر کرتی ہے اور بڑی بڑی تبدیلیاں وجود میں آتی ہیں۔مسلمان قرونِ وسطیٰ میں تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ تھے۔ ایک دنیا ان سے متاثر تھی۔ مغرب و مشرق میں ان کی ٹیکنالوجی اور علوم کی بنیاد پر ان کی تہذیب و ثقافت پھیلتی چلی گئی۔ مغرب میں ہمارے علماء کرام ابن رشد‘ بوعلیسینا‘ ابن لہیثم‘ فارابی‘ رازی اور ۔۔۔۔کے تتبع میں وہاں کے پادری اور سکالر پگڑی اور ٹوپیاں پہنتے تھے۔ آکسفورڈ اور کیمبرج کے فارغ التحصیل طلبہ ڈگری لیتے وقت ٹوپی پر پگڑی اور گائون بھی ہمارے علماء کی تقلید میں رائج کرچکے ہیں جن کی تقلید آج ہماری جامعات میں ہوتی ہے۔اٹھارہویں صدی کے بعد مغرب علوم و فنون اور ٹیکنالوجی میں ساری دنیا پر غلبہ حاصل کرگیا۔ اور اسی غلبے نے ان کو تجارتی اور اقتصادی برتری دی اور پھر وہ ’’استعمار‘‘ بن گیا اور عثمانی خلافت ڈنواںڈول اور زوال پذیر ہو کر ختم ہوگئی۔ 

مغرب( برطانیہ‘ فرانس‘ اٹلی‘ ہالینڈ وغیرہ) ڈیڑھ صدی مسلمان خطوں پر حکمران رہے اور یوں ان کی غالب اور طاقتور تہذیب و زبان نے ہماری تہذیبوں اور زبانوں عربی اور فارسی کو بالخصوص پچھاڑ دیا۔ مادری زبانوں کا تو یہ حال ہوا کہ آج کے پی میں پختون بچوں کو نہ پشتو پڑھنا آتی ہے نہ لکھنا۔ البتہ انگریزی زبان کا غلغلہ گزشتہ دو صدیوں سے جاری ہے اورشاید ایک صدی مزید بھی جاری رہے کیونکہ امریکہ‘ برطانیہ کے وارث کے طور پر پہلی جنگ عظیم کے بعد تخت اقتدار سنبھال چکا ہے۔امریکہ گزشتہ ایک صدی سے سپر پاور بنا ہوا ہے لہٰذا اس کی تہذیب بھی غالب تہذیب کے طور پر برتر قرار پائی ہے۔ اس بات کی وضاحت کے لئے فوکو یاما نے The End of History لکھ کر اپنی دانست میں بات ختم کردی ہے۔ ہنٹنگٹن نے ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ لکھ کر خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسلام اور مغربی تہذیب کے درمیان چونکہ جوہری اختلافات خاص کر عقائد و تہذیب کے حوالے سے موجود ہیں لہٰذا تصادم بھی واقع ہوسکتا ہے۔ترکی ایک زمانے میں ایک طویل مدت تک اسلامی عقائد و تہذیب کا علمبردار و محافظ رہا ہے۔ مغرب نے عثمانی خلافت کے خاتمے کا معاہدہ بھی لوزان کے مقام پر ترکوں کے ساتھ سائن کیا تھا۔ اس لئے مغرب( اور آج امریکہ) کو ترکی کے طیب اردوان سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ ا س لئے تو اس کے خلاف ترکی کے اندر سے طوفان برپا کرنے کی خونریز کوشش کی گئی۔ یہ تو اللہ کا فضل و کرم رہا کہ طیب اردوان کی حکومت بچ گئی۔امریکہ میں طیب اردوان کے محافظوں کی گرفتاری کے پیچھے یہی تہذیبوں کا اختلاف اور تصادم کار فرما ہے۔ یہ کہانی بہت لمبی ہے اور کسی وقت خطرناک موڑ بھی اختیار کرسکتی ہے۔ اس لئے اردوان کو خذواخذر کم۔ اپنے آپ کو ہر وقت تیار و مستعد رکھو اور یہی سبق عالم اسلام کو سیکھنا چاہئے۔ طیب اردوان کو قیادت سنبھالتے ہوئے عالم اسلام کے اتحاد‘ تعلیم اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے لئے ’’ترک تیز گام کہ منزل مادور نیست‘‘ پر عمل کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں