بھارت کا امریکا سے ہاتھ

بھارت کا امریکا سے ہاتھ

بھارت کا دہشت گردوں کے خلاف امریکا کا ساتھ دینے کا اعلان مگر دہشت گردوں کے مرکز ملک افغانستان میں بھارتی فوج بھیجنے سے انکار تعاون کی عجیب و غریب مثال ہے۔ بھارت شاید اس لئے اپنی فوج افغانستان نہیں بھیجنا چاہتا کیونکہ اس کو افغانستان کے بھارتی فوج کے قبرستان بننے کا اندازہ تھا ۔ افغان حکومت اور حکمران بھارت سے کتنی بھی پینگیں بڑھائے افغانستان کے غیور مسلمان اور پختون کبھی بھی ہندو فوج کو اپنی سرزمین پر برداشت نہیں کر سکتے ۔ بھارت اگر افغانستان میں فوج بھجوانے کا فیصلہ کرتا تو ان کے خلاف پورے افغانستان کے عوام کا اختلافات بھلا کر اکٹھے مزاحمت کا اعلان فطری امر تھا بھارت کو افغانستان میں امریکا کے حشر کا بھی بخوبی علم ہے ۔ بھارت کے اس کردار و عمل کے اظہار کے بعد تو امریکی فوج اور اس کے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں مگر وہ چین سے مخاصمت اور چین کے خلا ف بھارت کو استعمال کرنے کی خام خیالی میں شاید سب کچھ برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ امریکا اگر دہشت گردی کے خاتمے کا حقیقی معنوں میں خواہاں ہے تو اسے بھارت سے سب سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیئے تھا ۔
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
خیبر پختونخوا کے اہم سرکاری عہدوں پر جونیئر افسران کی تقرری سینئر افسران کی حق تلفی ہی نہیں بلکہ ان کا اس طرح کے ماحول میں کام سے احتراز فطری امر ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں سینئر افسران طویل رخصت پرجانے کا اگر حربہ نہ اختیار کرتے تب بھی وہ دلجمعی سے کام نہ کرتے جس سے سرکاری کاموں کا متاثر ہونا اور عوام کے مسائل و مشکلات میں اضافہ ہوتا ۔ سرکای مشینر ی کو فعال بنانا بھی ایک فن ہے۔ صوبائی حکومت کو بیوروکریسی کے عدم تعاون کی تو شکایت رہتی ہے لیکن حکومت بیوروکریسی کے ساتھ اختیار کردہ اپنے رویے پر نظر ثانی کیلئے بالکل تیار نہیں ۔ سینئر عہدوں پر بلا ضرورت جونیئر افسران کی تقرری اصولی طور پر غلط ہے قانون میں گنجائش کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ اس کا سہارا لیکر سینئر افسران کی موجودگی میں جونیئر افسروں کو اچھے انتظامی عہدوں پر لگا دیا جائے ۔ صوبائی حکومت کو اپنے اس رویے کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے اس امر پر بھی غور کیا جانا چاہیئے کہ یہ تحریک انصاف کے بنیادی منشور اور نعرے کی سرا سر خلاف ورزی ہے۔ میرٹ کی پابندی اور حقد ار کو اس کا حق بلا امتیاز دینا حکومت کی آئینی و قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے ہی ان اقدار کی پامالی ہوگی تو اس کی پابندی کو ن کرے گا ۔ جونیئر افسران کو اعلیٰ عہدے نواز نے کے بعد کمزور پوزیشن کے ممنون احسان افسران کا حکمرانوں کی ہرجا ئزو ناجائز خواہش کو پوری کرنا بھی خرابی کا باعث امر ہے ۔ عرض صوبائی حکومت کے ایک اقدام کا سرکاری مشینر ی اور بیوروکریسی سے لیکر عوام تک اثرات بد بارے دوسری رائے ممکن ہی نہیں صوبائی حکومت اگر بیورو کریسی کا تعاون حاصل کرنے کی خواہاں ہے اور اپنے منشور کا پاس ہے تو تمام جونیئر افسران کی جگہ فی الفور اہل اور دیانتدار حقدار سینئر افسران کی تقرری کی جائے تاکہ سرکاری امور بروقت نمٹائے جاسکیں فنڈز کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے اور عوامی مسائل کا حل ہو ۔
عوام کی سہولت کیلئے پاک فوج کا تعاون ، احسن اقدام
باچا خان ائیر پورٹ کے سامنے پاک فوج کا سویلین گاڑیوں کی جانب سے پارکنگ کے مسئلے اور سیکورٹی مسائل کے حل کیلئے وسیع جگہ کی فراہمی نہایت مستحسن اقدام ہے جس سے یہاں پارکنگ کا مسئلہ کافی حد تک حل ہونا فطری امر ہوگا ۔ امر واقع یہ ہے کہ پارکنگ کی جگہ نہ ہونے سے یہاں گاڑیاں کھڑی کرنے کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر گیا تھا ۔ خصوصاًحج کے دنوں میں رش کے باعث مسافروں اور ان کو خوش آمدید کہنے والوں کو کافی مشکلات درپیش تھیں ۔ بیرون ملک جانے والے مسافروں کو الوداع کہنے کے لیے آنے والے عزیز واقربا اکثر گاڑیاں نامناسب جگہ کھڑی کردیتے ہیں جس سے ٹریفک کی روانی میں بھی خلل پیدا ہوجاتا اور اس سے سیکورٹی کے خدشات بھی بڑھ جاتے۔ بے پناہ رش کے باعث دہشت گردی کے واقعات کا اندیشہ رہتا ۔ پارکنگ کے لئے زمین فراہم کرنا عوام کے لیے پاک فوج کا ایک تحفہ ہے اس امرکے اعادے کی ضرورت نہیں کہ پاک فوج نے ہمیشہ پاکستان کے عوام کی ہر مشکل میں مدد کی ہے اور اس کے حل میں اپنا کردار اد ا کیا ہے ، حالانکہ یہ اس کے فرائض منصبی میں شامل نہیں لیکن پاک فوج نے اس کے باوجود عوام کی فلاح کی خاطر اپنی خدمات پیش کر کے عوام کی مشکل کو کم کرنے کا احسن اقدام کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیںلیا ۔

متعلقہ خبریں