گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را

گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را

آئین کی دفعہ 62، 63کے تحت عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیے جانے کے بعد سابق وزیر اعظم نے اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے کھچاکھچ بھری پریس کانفرنس سے خطاب کیا جسے پریس کانفرنس کی بجائے پریس ٹاک کہنا مناسب ہو گا کیونکہ اپنا لکھا ہوا بیان پڑھنے کے بعد میڈیا والوں کو سوالات کاموقع دیے بغیر وہ چلے گئے۔ میڈیا والوں کے پاس ان کے لیے بہت سے سوال تھے مثال کے طور پر یہ کہ ان کا آئندہ پروگرام کیا ہے۔ وہ عدالت کے فیصلے سے شاکی ہونے کے باوجود عدالتی کارروائی کا سامنا کن وجوہ کی بنا پر کر رہے ہیں۔ اس اعلان کے بعد کہ وہ عوام کے مینڈیٹ کا مقدمہ لے کر اُٹھے ہیں وہ اس مقدمہ کے لیے کیا پروگرام اختیار کریں گے۔ تاہم انہوں نے اور بہت سی باتیں کی ہیں جو وہ اس سے پہلے بھی دہراتے رہے ہیں۔ خیال ہے کہ ان باتوں پر میڈیا والے آئندہ ان سے مخاطب رہیں گے۔ زیرِ نظرسطورمیں ان کے ایک انتباہ سے بحث مقصود ہے کیونکہ اس میں ابہام اور مغالطے نظر آتے ہیں لیکن بالعموم انہیں نظر انداز کر دیا جاتاہے اور یہ تاثر عام ہو گیا ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ کی وجہ عوامی لیگ کی اکثریت کے سامنے اقلیتی ووٹ کی آوازاُٹھانے والی پیپلز پارٹی تھی جس کا دعویٰ یہ تھا کہ اس نے عوامی لیگ کے چھ نکات تسلیم کرنے سے انکار کر کے پاکستان کو پانچ ملک بننے سے بچالیا جواقوام متحدہ میں پولینڈ کی قرارداد کا بھی منشاتھا جس کا مقصد تھا کہ عوامی لیگ کے چھ نکات کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی کنفیڈریشن بنا دیا جائے حالانکہ چھ نکات کی حمایت مشرقی پاکستان کے سواکسی دوسرے صوبے میں نہیں تھی ۔ سارے مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کا صرف ایک رکن قومی اسمبلی منتخب ہوا تھا۔ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پولینڈکی قرارداد پھاڑ کر پھینک دی تھی ۔ اس قرارداد کے مندرجات جانے بغیر اس کو زیر بحث لائے بغیر بھٹو شہیدکو اس بنا پر مطعون کیا جاتاہے۔ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''عوام کا حق حکمرانی تسلیم نہ کرنے سے پاکستان دو لخت ہوا، ڈرہے پھر کوئی حادثہ نہ ہو جائے۔'' یہ ٹھیک ہے کہ پیپلز پارٹی اور مغربی پاکستان کی دیگر جماعتوں نے مجیب الرحمان کے چھ نکات کو تسلیم نہیں کیاتھا۔ اس کی وجوہ میں جانے سے پہلے اس وقت کے اور آج کے حالات کاجائزہ لے لیا جانا چاہیے۔ 1970ء کے عام انتخابات کے وقت پاکستان سرزمینِ بے آئین تھا۔صدر یحییٰ خان کے لیگل فریم ورک آرڈر پرکام چلایا جارہاتھا۔ صدر یحییٰ خان نے عام انتخابات کااعلان کیا۔ان انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والی اسمبلی کو آئین ساز اسمبلی بھی ہونا تھا۔ یحییٰ خان نے انتخابات کے اعلان کے ساتھ یہ نہیں کہا تھاکہ یہ اسمبلی متفقہ آئین بنائے گی یا نوے فیصد، اسی فیصد یا ستر فیصد اکثریت کا منظور شدہ آئین بنائے گی۔ اس اسمبلی میں بھی ایک ووٹ کی سادہ اکثریت تمام فیصلوں کے لیے کافی تھی۔ یحییٰ خان نے ایسی شرط کیوں نہیں لگائی؟ یہ سوال قابلِ غور ہونا چاہیے تھا حالانکہ اس اسمبلی نے آئین بنانا تھااور آئین کے لیے ضروری تھا کہ وہ ان سب کا متفقہ ہوجنہوں نے اس آئین کے تحت زندگی گزارنی تھی۔ یحییٰ خان کو معلوم تھاکہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ ایک بڑی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کی بھاری اکثریت متوقع ہے۔ مشرقی پاکستان میں دوسری بڑی پارٹی مولانا بھاشانی کی نیپ تھی ۔ انتخابات سے چند ماہ پہلے مولانا بھاشانی لاہور آئے۔ یحییٰ خان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا لیکن یحییٰ خان نے کہا کہ آپ نے جو کچھ کہنا ہے وہ گورنر امیر محمد خان کو بتا دیں۔ مولانا بھاشانی نے محمود علی قصوری مرحوم کے گھر سے گورنر ہاؤس روانہ ہونے سے پہلے وہاں موجود متعدد سیاسی عناصر کو جن میں شاید مولانا عبدالستار نیازی بھی شامل تھے یہ بتا کے گئے تھے کہ وہ یہ انتباہ کرنے جا رہے ہیں کہ ان کے سیکرٹری جنرل مسیح الرحمان سمیت نیپ کے گرفتار ورکروں کو رہا کر دیا جائے بصورت دیگر مجیب الرحمان کی عوامی لیگ انتخابات میں صفایا کر دے گی۔ کچھ عرصہ کے بعد جب یحییٰ خان مشرقی پاکستان کے دورے پر گئے تو مولانا نے ایک سینئر صحافی کے ذریعے (نام یاد نہیں آ رہا) جو اس وقت پی ایف یو جے کے صدر تھے اور بعد میں چین میں بنگلہ دیش کے سفیر مقرر ہوئے ایئرپورٹ پر یہ سوال کرایا کہ آپ نیپ کے گرفتار ورکروں کو کب رہا کریں گے۔ اس پر یحییٰ خان نے کہا تھا پاکستان میں کوئی سیاسی قیدی نہیں ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ یحییٰ خان کو یہ بتایا جاچکا تھا کہ چھ نکات کے مطالبے کے ساتھ عوامی لیگ مشرقی پاکستان میں بھاری اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے وزیر اطلاعات نوابزادہ شیر علی کی وساطت سے یحییٰ خان کو یہ یقین بھی دلایا جا چکا تھا کہ جماعت اسلامی مشرقی اور مغربی پاکستان میں بھاری اکثریت حاصل کر ے گی ۔ یہ سب کچھ بیان کرنا مقصد یہ بتانا ہے کہ یحییٰ خان کو معلوم تھا کہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں جماعت اسلامی بہت حد تک کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی بھی بڑی جماعتیں ہوں گی۔ تینوں پارٹیوں کے مؤقف اس قدر طے شدہ تھے کہ کوئی متفقہ آئین وجود میں نہیں آ سکتا تھا۔ اس لیے یحییٰ خان ہی نیا آئین دیں گے اور ان کی صدارت برقرار رہے گی۔ اس اندازے کو تقویت اس واقعہ سے بھی پہنچتی ہے کہ انتخابات کے فوراًبعدایک آئین کا مسودہ بھی ٹیلی پرنٹروں پر جاری کر دیا گیا تھا جس کے کچھ حصے اخبارات میں موصول ہوئے اور پھر یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یحییٰ خان کے پاس ایک تیار شدہ آئینی مسودہ موجود تھا۔ میاں صاحب جو آج مشرقی پاکستان تک محدود عوامی لیگ کے بارے میں پاکستان کے لیے جس آئین سازی و حکمرانی کے حق کے تسلیم نہ کیے جانے کا نوحہ کر رہے ہیں جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو شاید نوجوان ہوں گے اور اس وقت کے سبھی نوجوانوں کی طرح سیاست میں دلچسپی لیتے ہوں گے تبھی تو ضیاء الحق کے اقتدار میں آنے کے بعد جنرل جیلانی کی نظر ان پر پڑی اور وہ سیاست میں آئے۔ (جاری ہے)

متعلقہ خبریں