تعلیم کے شعبے پر سکول مافیا کا راج

تعلیم کے شعبے پر سکول مافیا کا راج

پاکستانی بچوں میں سے کچھ بچوں کو ہی سکول جانا اور وہاں پر تعلیم کرنا نصیب ہوتا ہے اور ان میں سے بھی بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو کہ اپنی تعلیم مکمل کئے بغیر سکول چھوڑنے سے بچ جاتے ہیں۔رواں سال کے اوائل میں منسٹری آف فیڈرل ایجوکیشن اور پروفیشنل ٹریننگ کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں 2کروڑ 26 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ پہلی سے دسویں جماعت تک صرف 30فیصد بچے ہی سکولوں میں داخل رہتے ہیں اور اپنی تعلیم مکمل کرپاتے ہیں ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی سے دسویں جماعت کے درمیان 70 فیصد بچے اپنی تعلیم مکمل کئے بغیر سکول چھوڑ دیتے ہیں۔اگر ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لئے یہ اعدادوشما ر کافی نہیں تو حالات کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ سکولوں میں داخل بچوں کی اکثریت سرکاری سکولوں میں زیرِ تعلیم ہے۔گزشتہ چند دہائیوں میں ان سرکاری سکولوں کے نصاب کے معیار ، طریقہِ تدریس اورانفراسٹرکچر میں بے پناہ تنزلی دیکھنے میں آئی ہے۔ سرکاری سکولوں کی حالتِ زار کی وجہ سے ملک بھر میں پرائیویٹ سکولوں کا جال بچھ چکا ہے اور وہ والدین اور بچے خوش قسمت ہیں جو ان سکولوں سے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ 

اگرچہ پرائیویٹ سکولوں کے معیارِ تعلیم پر بھی ایک سیرحاصل بحث کی جاسکتی ہے اور پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں اور دیگر اخراجات پر بھی سوال اٹھائے جاسکتے ہیں لیکن ان سکولو ں میں داخل بچے کچھ نہ کچھ تعلیم تو حاصل کرہی رہے ہیں۔پرائیویٹ سکولوں میں داخل یہ بچے کم از کم ان بچوں سے تو بہتر ہیں جن کو آج تک کمرہِ جماعت اندر سے دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ اگر پرائیویٹ سکولوں میں داخل یہ بچے اور ان کے والدین اس سکول کے تعلیمی معیار سے خوش نہیں تو کم از کم ان کے پاس دوسرے پرائیویٹ سکول میں داخل ہونے کا راستہ تو موجود ہے۔ اس کے علاوہ اگر ایلیٹ پرائیویٹ سکولوں کی بات کی جائے تو وہاں داخل بچے انتہائی خوش قسمت ہیں کیونکہ ان سکولوں میں وہ نہ صرف معیاری تعلیم حاصل کررہے ہیں بلکہ ان کو ڈیسک، اے سی یا پنکھے اور باتھ روم جیسی سہولیات بھی حاصل ہیں۔ ان ایلیٹ سکولوں میں داخل بچے ملک کے معیارِ تعلیم یا سکولوں سے باہر بچوں کی بڑی تعداد کے بارے میں کیوں بات کریں گے ؟ اور اگر ان بچوں کے والدین پانچ یا چھ ہندسوں والی فیس ادا کرنے کے قابل ہیں تو انہیں اس ملک کے سرکاری سکولوں کی حالتِ زار کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئے گی۔ اگر اس ساری صورتحال کا دوسرا رُخ دیکھا جائے تو ملک کے کسی بھی سکول میں داخل بچوں اور ان کے والدین کے پاس اور کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے ۔ یہ تمام بچے اور والدین دراصل ایک سکول مافیا کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔تعلیم کے شعبے پر مافیا کے قبضے کا مطلب یہ ہے کہ کسٹمرز، یعنی طالب علم اور ان کے والدین، کے پاس سکولوں میں داخلے اور ان کے معیار کے حوالے سے انتہائی محدود آپشن ہیں۔ میں اپنے بچے کو اے ، بی ، سی میں سے کسی ایک سکول بھیج سکتی ہوں ، جس کی فیس دس ہزار سے کم ہوگی، یا پھر میں اپنے بچے کو ایکس ، وائی، زیڈ سکول بھیج سکتی ہوں جس کی فیس 30,000 روپے تک ہوگی ۔ لیکن اگر ہم سکولوں کی دونوں اقسام کا معیارِ تعلیم کے لحاظ سے موازنہ کریں تو دونوں اقسام کے درمیان زیادہ فرق نہیں پایا جاتا۔ یہی وجہ کہ پرائیویٹ سکول اپنی مرضی کے مطابق ہر سال اپنی سالانہ فیسوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں کیوں کہ ان کے مقابلے میں دوسرے سکول بھی یہی کام کررہے ہوتے ہیںلیکن دونوں اقسام کے سکولوں کے پاس فیسوں میں اضافے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہوتی۔ یہ معاملہ اس وقت میڈیا کے سامنے آیا تھا جب اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں واقع ایلیٹ سکول نے بغیر کسی وجہ کے اپنی ٹیوشن فیس میں بے پناہ اضافہ کردیا تھا جس کے بعد اس سکول میں داخل بچوں کے والدین نے احتجاج کیا تھا اور پنجاب حکومت نے پرائیویٹ سکولوں کی فیس میں ایک مخصوص شرح سے زیادہ اضافہ نہ کرنے کا قانون منظور کردیا تھا۔
اسی طرح سندھ میں بھی پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں میں اضافے کے خلاف ہائی کورٹ میں مقدمہ کیا گیا تھا ۔ یہاں پر مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سکولوں نے کسی پرائیویٹ کمپنی کی طرح اپنی فیسوں کو مختلف کٹیگریز میں تقسیم کیا ہوتا ہے۔ اگرکورٹ ان کو ٹیوشن فیس میں اضافہ کرنے سے روکتی ہے تو یہ دیگر کٹیگریز، جیسا کہ بنیادی فیس، غیر نصابی سرگرمیوں کی فیس، سیکھنے کے مواد اور کتابیں وغیرہ، کی فیسوں میں اضافہ کرکے اپنا مقصد پورا کرلیتے ہیں ۔ یہ ایسے والدین کے بچوں کے لئے انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے جو اپنے بچوں کو ان مہنگے پرائیویٹ سکولوں میں بھیجنے کی استطاعت رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے بچے سکول ٹا ئم کے بعد بھی ٹیوشن پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اگر آپ نے اپنے بچے کو ٹیوشن ہی پڑھانی ہے تو پھر ان مہنگے سکولوں کی فیسیں بھرنے کا کیا فائدہ ؟ اس ساری صورتحال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جب آپ کی تعلیم کا پورا شعبہ ہی ہائی جیک کرلیا گیا ہو تو پھر قوانین پاس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ پاکستانی کے غریب عوام کے علاوہ امیر طبقے کو بھی سکول مافیا کے چنگل سے چھڑانے کے لئے سرکاری سکولوں میں بہتری لانا ناگزیر ہوچکا ہے۔
(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں