تقریر پر تصویر کا پردہ ڈالنے کی کوشش

تقریر پر تصویر کا پردہ ڈالنے کی کوشش

بھارت کے اخبارہندوستان ٹائمز نے اعتراف کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تحریک طالبان پاکستان کے درمیان گہرے روابط قائم ہیں اور طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی گرفتاری اور انکشافات نے یہ راز اب طشت از بام کر دیا ہے۔اخبار کے مطابق اس عمل پر امریکہ کو بھی شدید تحفظات ہیں۔بھارتی اخبار کی اس دلچسپ رپورٹ سے یہ حقیقت عیاں ہے کہ اب امریکہ کو افغانستان میں بھارت کی موجودگی اور وہاں جاری سرگرمیوں کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہے ۔امریکہ کو پہلے بھی اس صورت حال کا پوری طرح اندازہ تھا مگر حالات کا شکارپاکستان خودچپ کا روزہ رکھے ہوئے تھا ۔پیپلزپارٹی کے دور میں وزیر داخلہ رحمان ملک کبھی کبھار دہشت گردی میں تیسرے ہاتھ کا ملفوف انداز سے ذکر کیا کرتے تھے مگر مسلم لیگ ن نے تیسرے ہاتھ کا معاملہ زیادہ شد ومد کے ساتھ اُٹھانے میں دلچسپی نہیں لی ۔پاکستان نے ایک ڈوزئیر تیار کرکے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت عالمی راہنمائوں کو دیا مگر جس قدرزور دار انداز سے یہ مہم چلائی جانی چاہئے تھی نہیں چلائی گئی۔اب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور اس کے بعد ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی اقوام متحدہ میں تقاریر کے بعد دنیا کو انداز ہ ہوگیا کہ پاکستان کا موڈ بدل رہا ہے اور پاکستان بھارت کے چہرے سے معصومیت اور مظلومیت کا نقاب نوچ پھینکنے کا فیصلہ کر چکا ہے ۔پاکستان کے اسی بدلے ہوئے موڈ کو امریکہ نے بھی محسوس کیا ہوگا اور وہ بھارت کو اپنی مذموم سرگرمیاں کم کرنے کے لیے دبائو بڑھانے پر مجبور ہو گیا ہے ۔ حکومت پاکستان کو اب قائم ہونے والے اس دبائو کو کسی طور بھی کم نہیں ہونے دینا چاہئے اور بھارت کو بے نقاب کرنے کی مہم میں کمی نہیں آنی چاہئے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس بار پاکستان اور بھارت کے درمیان بھرپور سفارتی دنگل جاری ہے ۔وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کشمیر میں بھارت کی چیرہ دستیوں کا ذکر کرکے گویاکہ بھارت کی دُم پر پائوں رکھ دیا ہے۔اس تقریر کے بعد اقوام متحدہ کے ایوان بھارت کی چیخوںسے اور ایوان کے باہر کے در ودیوار احتجاج کرنے والے مظاہرین کے نعروں سے گونج رہے ہیں۔شاہد خاقان عباسی کے خطاب کے جواب میں بھارتی مندوب خاتون اینم گھمبیر نے پاکستان کو ٹیررستان قرار دے کر حافظ سعید اور جیش محمد کا قصہ چھیڑ دیا ۔جواب الجواب کا حق استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے بھارتی وفد کے چھکے چھڑ ا دینے والی تقریر کی۔ انہوں نے کلبھوشن یادیو کا قصہ چھیڑ کر بھارتی وفد کو بغلیں جھانکنے پر مجبور کیا ۔پاکستان پر طعنہ زن بھارتی خاتون حیرت اور ندامت کی تصویر بن کر ملیحہ لودھی کی زبانی دانی اور ٹھوس دلائل کو سنتی رہیں۔ملیحہ لودھی نے پیلٹ گن سے چھلنی چہرے کی حامل ایک خاتون کی تصویر لہرا کر اپنا مقدمہ مضبوط کیا ۔بعد اسی تصویر کو بھارتی میڈیا نے نیا موضوع بنالیا ۔یہ کشمیری خاتون کی بجائے کسی فلسطینی لڑکی کی تصویر تھی۔ اس لڑکی کا نام روایا ہے ۔اس کے بعد سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر بھارتی باشندوں کی طرف سے ملیحہ لودھی کی تقریر کے خلاف طوفان اُٹھایا گیا ۔اس کا جواب بھی بھارت کے صحافی ابھیشک ساہا نے ہندوستان ٹائمز میں دیا ۔صحافی نے ایک مضمون میں لکھا کہ اصل معاملہ یہ نہیں کہ ملیحہ لودھی نے گوگل سے ایک غلط تصویر دکھائی بلکہ کشمیر میں اس سے بھی زیادہ دلدوز تصویریں موجود ہیں ۔صحافی نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ پیلٹ گن کے بے رحمانہ استعمال سے کشمیر میں 6000افراد متاثر ہوئے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر بھارت کے اس اعتراض کے جواب میں کشمیری صارفین نے پیلٹ گن کے زخمیوں کی تصویروں کا طوفان برپا کیا ۔بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کا خطاب محلے کی روایتی جھگڑالو عورتوں کی طرح طعنوں سے بھرپور تھا ۔سشما سوراج کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان ایک ساتھ آزاد ہوئے بھارت نے آئی آئی ٹیز اورآئی آئی ایمز پیدا کئے جبکہ پاکستان نے لشکر اور جیش پیدا کئے ۔آئی آئی ٹیز تیار کرنے کے دعوے دار ملک کی وزیر خارجہ یہ بھول گئیں کہ'' کلبھوشن یادیو ''کس ملک اور ادارے کی فخریہ پیشکش ہے ۔کلبھوشن یادیو پاکستان میں سانتا کلاز بن کر ٹافیاں تقسیم کرنے نہیں آیا تھا بلکہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے سب سے بڑے نیٹ ورک کا سرغنہ تھا جسے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور سی پیک کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا ۔سشما سوراج کی تقریر کے دوران اقوام متحدہ کی عمارت کے باہر آزاد ومقبوضہ کشمیر کے باشندے سراپا احتجاج رہے ۔جو بھارت کے اٹوٹ انگ کے دعوے کی یکسر نفی تھی ۔اس بار مسئلہ کشمیر کو زوردار انداز میں پیش کرنے پر ریاست پاکستان مبارکباد کی مستحق ہے اگر مصلحت کی یہ دیواریں اور زبانوں پر چُپ کے قفل بہت پہلے ٹوٹے ہوتے تو آج دنیا زیادہ بہتر انداز سے پاکستان کا موقف سمجھ رہی ہوتی ۔دیر آید درست آید کے مصداق جس جرات اور اعتماد کے ساتھ دنیا میں اپنا موقف پیش کرنے کا جو سلسلہ اب چل نکلا جاری رہنا چاہئے ۔ایسا نہ ہو کہ مصلحت کی مکڑی دوبارہ اس موقف پر جال بُننے میں کامیاب ہوجائے۔

متعلقہ خبریں