کیا جمہوری نظام سے تبدیلی آسکتی ہے؟

کیا جمہوری نظام سے تبدیلی آسکتی ہے؟

پولیٹیکل سائنس کا ایک محا ورہ ہے کہ جمہو ریت ایک ایسا نظام حکومت ہے جو عوام کا ہے ، عوام سے ہے اور عوام کیلئے ہے۔مگر افسوس کی بات ہے کہ پاکستانی سیاست پر یہ محا ورہ اور جُملہ صحیح فِٹ نہیں ہو تا ۔ پاکستان میں جمہو ریت ایک ایسا نظام حکومت ہے جو مالداروں اور پیسوں والوں کے لئے ہے۔ اس سے غریب عوام کا دور دور کا واسطہ نہیں۔اگر این اے 120کے ضمنی الیکشن پر نظر ڈالیں تو اس میں عوام نے جو فیصلہ کرنا تھا وہ تو کر لیا۔مگر وطن عزیز کا تعلیم یافتہ اور سنجیدہ طبقہ حیران اور پریشان ہے کیونکہ اس انتخاب کا نتیجہ نہ صرف غیر متوقع بلکہ بالکل حالات اور واقعات کے بر عکس تھا۔ یہ اسلئے نہیں کہ یہ الیکشن پاکستان مسلم لیگ نے جیتا بلکہ اسلئے کہ وہ عوام جو غُربت ، افلاس، بے روز گاری، مہنگائی ، بجلی اور سوئی گیس کے ہو شر با بلوں سے پریشان ہیں انہوں نے کیسے اُس پا رٹی کو ووٹ دیا جوان تمام معاملات کی ذمہ دار ہے۔ اور اس تنا ظر میں بھی کہ اس ملک میں جس طرح قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اُمیدوار کی اہلیت اور چنائو کے لئے کو ئی طریقہ کا ر متعین نہیں اسی طرح ووٹروں کی تعلیم اور تربیت اور شعور کا بھی کوئی معیار نہیں۔ ایسا شعور جس سے وہ اچھے اور بُرے میں تمیز کر لیں۔جس ملک میں ووٹ لنچ بکس، دو وقت کھانے،تھانے کچہری ، سکول کالج میں دا خلے ، سوئی گیس اور بجلی کنکشن ، بجلی ٹرانسفارمر کی مرمت اور گلی کو چوں کے پکا کرنے پر ملتاہے اُس قوم سے کیسی توقع کی جاسکتی ہے کہ اُسکا نمائندہ صحیح ہو گا۔ اور ملک کو احسن طریقے سے چلائے گا۔ ہمیں اتنا پتہ نہیں کہ جو ٹرانسفارمر، گلی میں ٹھیک کی جاتی ہے یا کالج اور یونیور سٹی میں دا خلہ دیا جاتا ہے وہ ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے۔ اور اس ملک میں ہمارے ایم این اے اور ایم پی اے جو کچھ کھاتے پیتے ہیں وہ اس دھرتی کے ٹیکس دہندہ اور پسے ہوئے عوام کے خون پسینے کی کمائی ہے۔ ایم این اے یا ایم پی اے اپنی جیب سے یہ کام نہیں کرتے۔اگر ہم پاکستانی قوم کی عقل اور دانش کا تجزیہ کریں تو ما ہرین کے مطابق وطن عزیز میں عام لوگوں کی عقل و دانش ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں نتیجتاً اس کا منفی پہلو ہماری سیاست پر نمایاں ہے۔معاشرتی علوم کے ماہر کہتے ہیں کہ جن جن ممالک میں تعلیم کی شرح زیادہ ہے وہاں جمہوری عمل اور جمہو ریت بھی ترقی پذیر مما لک کی نسبت بہتر ہے۔ نیو زی لینڈ، ڈنمارک، آئس لینڈ اور سویڈن کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ تعلیم Economist Intellegence Unitجو دنیا میں جمہوری نظام اور جمہوریت کو فروع دینے کا ایک بین الاقوامی ادارہ ہے ۔ جو دنیا میں 167 ممالک کی جمہوری نظام کی سروے اور مانیٹرنگ کرتا ہے کہتا ہے کہ دنیا کے 167 ممالک کے جمہوری نظام کوچا ر حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔پہلے نمبر پرFree Democracy یعنی آزاد جمہو ری نظام جمہو ریت،اس قسم کے جمہوری نظام میں جمہوری آزادی،چیک اینڈ بیلنس سسٹم، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا پر یقین رکھا جاتا ہے۔ جن ممالک میں آزاد جمہورت پو ری آب وتاب سے ہے ان میں ناروے، آئس لینڈ،نیو زی لینڈ، ڈنمارک اور فن لینڈ جیسے ممالک شام ہیں۔دوسرے نمبر پر جو نظام دنیا میں مر وج ہے اسے Flaw Democracy یعنی خامیوں والی جمہوریت کہا جاتا ہے ۔ ان میں وہ ممالک شامل ہیں جہاں پر جمہوری نظام میں فری ڈیمو کریسی کی نسبت زیادہ خامیاں ہو تی ہیں ۔ ان ممالک میں انتخابات صاف شفاف ہوتے ہیںوہاں پر میڈیا کے ایشوز ہوتے ہیں۔ عام طو رپر انتخابات میں کم تعداد میںووٹ پڑتے ہیں اور ریاستی مسائل ہوتے ہیں۔ ان ممالک میں جاپان، امریکہ، اٹلی ، فرانس، جنوبی کو ریا انڈیا اور سری لنکا جیسے ممالک شامل ہیں۔جہاں تک تیسرے نظام کا تعلق ہے اسکو HybridDemocracy کہتے ہیں ۔ اور اس نظام جمہوریت میں عام طور پر انتخابات میں دھاندلی ہوتی ہے ،نظام میں کرپشن اور بد عنوانی کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ ابلاغ عامہ ، ملک میں امن وامان اور اچھی حکمرانی کے مسائل ہو تے ہیں۔ان ممالک میں پاکستان، بنگلہ دیش نیپال، عراق اور ہیٹی جیسے ممالک شامل ہیں۔اور چو تھا جو نظام حکومت ہے اُسکو مطلق العنانی کہتے ہیں ۔ اس نظام میں قومیں اکثر غلامیت اور چند گروہوں کے زیر اثر ہوتی ہیں ۔ ان ممالک میں ایتھو پیا، اومان ، روس قطر اور یو اے ای جیسے ممالک شامل ہیں۔اگر ہم غور کر لیں تو پاکستان میں جمہوری ادارے تیسرے دور میں ہیں۔اور جس ملک کے جمہوری نظام میں چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم مخالفین پر دبائو،امن وامان، کرپشن اور اقربا پر وری ہو، غیر جانب دار سیاسی نظام اور میڈیا پر قد غنیں ہوں اور اچھی حکمرانی نہ ہواس ملک میں جمہوریت اور ووٹ کی کیا حقیقت ہے۔اُس نظام میں وہی لوگ حکمران ہوں گے جن کے پا س وسائل ہوں۔عام انتخابات میں صرف ڈرگ ما فیا ، لینڈ ما فیا کرپشن اور بد عنوانی سے پیسے کمانے والے حصہ لے سکتے ہیں۔ شعور اور عقل والوں کے لئے اس میں کوئی موقع نہیں۔ جبکہ اسکے بر عکس امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں عقل فہم رکھنے والے حکمران ہوتے ہیں۔ امریکہ کا جا رج واشنگٹن سر ویئر، جون انڈریو اُستاد، ابراہیم لنکن جنرل سٹور کا مالک اور بعد میں پوسٹ ما سٹر ، جیمس گری فیلڈ انسٹرکٹر ، ولیم ہور اسسٹنٹ پراسیکیو ٹر، ولسن پی ایچ ڈی، ہر برٹ ہو معدنیات انجینئر، ریگن فلمی اداکار، بارک اوباما کسی کمپنی کے ڈائریکٹر ، جا رج بُش سپو رٹ ٹیم کے مالک، کلنٹن لکھاری اور جمی کا رٹر نوبل انعام یا فتہ اور فو رڈ لکھا ری تھے۔

متعلقہ خبریں