استادوں سے استادی کتنی مہنگی پڑی

استادوں سے استادی کتنی مہنگی پڑی

''میرے دوستوں میرے ساتھیوں میرے شیروں چاروں طرف پھیل جائو اس سے پہلے کہ حکومت دوسرا وار کرے ان کی جڑیں کاٹ ڈالو اور ان کی جڑیں آپ کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان ظالموں کے مستقبل کو Block کرو۔۔۔خٹک بھی کیا یاد کرے گا کہ استادوں سے استادی کتنی مہنگی پڑی''یہ پیغام واٹس ایپ کے ذریعے کسی ٹیچر نے میرے موبائل نمبر پر بھیجا ہے۔ اس ٹیچر کے نام سے میں آگاہ نہیں۔ اس پیغام کے ہمراہ اس بھلے مانس ٹیچر کی خوبصورت تصویر سے اس کی اچھی صحت اور عمر کے اس حصے کا اندازہ ہوتا ہے جس میں ایسے لوگ دنیا بھر کی کایا پلٹ ڈالنے کی باتیں کرتے ہیں۔ ہمیں واٹس ایپ کے ذریعے ملنے والے اس میسج یا پیغام کو پڑھ کر ڈاکٹر اسماعیل قمر کے گائے ہوئے ایک گیت کی پیروڈی کرکے گنگنانا پڑا کہ نعرے دھونسیں دھمکیاں سب باتیں ہیں باتوں کا کیا۔ پرانے اور سیانے لوگوں نے باتیں کرنے والوں یا بولتے رہنے والوں کے بارے میں ناصحانہ انداز میں بڑے پتے کی بات کی ہے کہ پہلے تولو اور پھر بولو۔ میں بزرگوں کی بتائی ہوئی اس نصیحت یا قول زریں نما بات میں اپنی جانب سے گرہ لگاتے ہوئے کہتا ہوں کہ ''پہلے تولو اور پھر بولو اور اگر خود نہیں تول سکتے تو بولنے سے پہلے کسی سے تلوا لیا کرو''۔ یعنی کسی سے اصلاح لے لیا کرو اگر اصلاح نہیں لے سکتے تو صلاح ہی لے لیا کرو۔ ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے دوستوں میرے ساتھیوں میرے شیروں چاروں طرف پھیل جاؤ۔ اس سے پہلے کہ حکومت دوسرا وار کرے ان کی جڑیں کاٹ ڈالو اور ان کی جڑیں آپ کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان ظالموں کے مستقبل کو Block کرو، خٹک بھی کیا یاد کرے گا کہ استادوں سے استادی کتنی مہنگی پڑی۔اس میسج کے مکتوب الیہ اپنے دوستوں، ساتھیوں اور شیروں سے مخاطب ہیں لیکن حسن تخاطب تو ملاحظہ فرمائیں۔ جہاں ان کو دوستو، ساتھیو، اور شیرو کہنا چاہیے تھا وہاں انہوں نے نون غنہ کا فالتو استعمال کرکے میسج کے آغاز ہی میں اپنی استادی کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ قصور ان کا نہیں اردو لکھنے میں ایسی غلطیوں کا سرزد ہونا عام سی بات ہے۔ ہمیں اپنی روز مرہ زندگی میں ایسے بہت سے جملے سائن بورڈوں اور بینروں کے علاوہ بسوں اور رکشوں کے پیچھے لکھے مل جاتے ہیں جن کو دیکھ کر ہم سر پیٹنے کی بجائے مسکرانا شروع کردیتے ہیں ۔ لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ عبارت لکھنے والادرس و تدریس کے شعبہ سے منسلک ہے تو بقول کسے ہم کھلکھلا کر رونے یا پھوٹ پھوٹ کر ہنسنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ عرض کرچکا ہوں واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہونے والے اس میسج میں 'دوستوں ساتھیوں اور شیروں' سے خطاب کیا گیا ہے۔ میسج ارسال کرنے والے نے یہ میسج مجھے کیوں بھیجا اگر وہ میرا دوست یا ساتھی ہوتا تو اس کا نام میرے موبائل فون سیٹ کی کنٹیکٹ لسٹ میں ضرور ہوتا اس لئے میں فطری طور پر اس سوچ میں پڑ گیا کہ اگر بھیجنے والا میرا دوست یا ساتھی نہیں تو اس نے مجھے شیر سمجھ کر یہ میسج بھیجا ہوگا۔ کیونکہ اس کے میسج کا تیسرا مخاطب شیر ہی تھا۔ یہ بات سوچتے ہی ہمیں اپنی جوانی کا وہ زمانہ یاد آگیا جب لوگ ہم سے ہمارے قلمی نام کے ساتھ پیوست حرف شین کے بارے میں پوچھتے تو ہم کہہ دیتے کہ اردو یا اس قبیل کی دیگر زبانوں کے ابتدائی قاعدوں میں شین شیر لکھا ہے۔ جب کہ وہاں شین شوکت لکھا ہونا چاہئے تھا۔ ہماری زبان سے ادا ہونے والی یہ بھڑک سن کر ہماری بات سننے والے کہہ اٹھتے کیوں؟ جس کے جواب میں ہمیں کہنا پڑتا کہ ہم کسی شیر سے کم ہیں کیا۔ تو پھر آپ کی دم بھی ہوگی ہماری یہ بات سن کر کسی ترکی بہ ترکی جواب دینے والے نے کہا اور پھر لگے ہم اپنی دم تلاش کرنے جو تا دم تحریر ہاتھ نہ آسکی اور یوں ہم اپنے آپ کو بے دم شیر کہہ کر خاموش ہو بیٹھے۔ کبھی کوئی بے دم یا دم کٹا شیر بھی ہوتا ہے۔ جب کوئی سمجھ بوجھ والا ہم سے یہ سوال کرتا ہے تو ہم بے دھڑک کہہ اٹھتے ہیں ہوتا کیوں نہیں بے دم کا شیر۔ اور اس کے بعد ہم اپنی بات کا بھرم رکھنے کی غرض سے مسلم لیگ نون والوں کی مثال پیش کرنے لگتے ہیں ۔ہمیں میسج بھیجنے والے بھلے مانس نے اپنے میسج کے ذریعے بغیر دم کے شیروں کی غیرت کو للکار تے ہوئے ان کو حکومت کی جڑیں کاٹ کر ان کے ہاتھ میں دینے کو کہا ہے۔ میسج بھیجنے والے نے اپنے اس دھماکے دار میسج میں کس خٹک کی طرف اشارہ کیا ہے، ہم کچھ بھی نہ جان پائے ۔شاید اس لئے کہ ہم صرف خوشحال خان خٹک کو جانتے ہیں جو قلم کے علاوہ تلوار کے بھی دھنی تھے۔ خوشحال خان خٹک کے علاوہ ہم پریشان خٹک سے بھی ملے تھے جنہوں نے کسی تقریب میں حیران خٹک کو دیکھ کرکہا تھا کہ خٹک ہمیشہ خوشحال ہوتا ہے یا پریشان ، نہ جانے یہ حیران خٹک کہا ںسے آگیا۔ ہم نے بر سبیل تذکرہ جو بات چھیڑ دی وہ بہت پرانی ہوچکی ہے ۔ زمانہ بدل چکا ہے پرویز خٹک بھی میدان میں آگئے ہیں۔ سچ پوچھیں تو ان کے نام سے زیادہ ان کے ڈانس نے بہت شہرت پائی ۔ جس کو دیکھ کر ہم سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا یہی ہے وہ عالم گیر شہرت یافتہ خٹک ڈانس جس کے چرچے تاریخ کے صفحات کے علاوہ اقوام عالم میں گونجتے رہتے ہیں ۔ نہیں نہیں خٹک نے عمران کے دھرنوں کے دوران جو رقص کیا تھا اسے کسی اور نام سے یا د کیا جانا چاہئے ۔ ہم اسے تگنی کا ناچ بھی نہیں کہہ سکتے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ اساتذہ کرام کا میسج بھیجنے والا ٹولہ انہیں تگنی کا ناچ نچوانا چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے میسج میں جس بات پر زور دے رہا ہے وہ ان جملوں پر ختم ہوتی ہے کہ '' خٹک بھی کیا یاد کرے گا کہ استادوں سے استادی کتنی مہنگی پڑی''۔

متعلقہ خبریں