ایک اور ڈرون حملہ

ایک اور ڈرون حملہ

شمالی وزیرستان میں مبینہ امریکی ڈرون حملہ میں کالعدم تحریک طالبان کے سات دہشت گردوں کی ہلاکت سے امریکہ کی جانب سے تبصرے سے گریز اور پاکستان کی جانب سے کسی ردعمل کا سامنے نہ آنا مشترکہ کارروائی اور اس واقعہ کے مفاہمت سے ہونے کا عندیہ ملتا ہے ۔ امریکہ میں ٹرمپ کے بر سر اقتدا ر آنے کے بعد کسی پاکستانی علاقے میں یہ دوسرا حملہ ہے ۔ اصولی طور پر تو دہشت گرد عناصر کا پیچھا کرکے ان کے خلاف کارروائی کی مخالفت نہیں کی جا سکتی لیکن امریکی ڈرونز حملے بہر حال عوامی سطح پر ملکی سلامتی اور دفاع پر سوالات اٹھانے کے ساتھ ساتھ باعث نفرت امر ضرور گردانے جاتے رہے ہیں اور ان کے خلاف احتجاج بھی ہوتا رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں حال ہی میں ہونے والی بڑی کارروائی کے بعد پاکستا نی علاقے میں ہدف کو نشانہ بنانا اس امر پر دال ہے کہ دہشت گردوں کے ٹکڑیوں میں بکھرے عناصر کے خلاف پھر سے حملے تیز کئے جائیں۔ کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان کی جانب سے حساس اداروں کو معلومات کی فراہمی کے نتیجے میں بعض کارروائیاں غیر متوقع نہیں ۔ شمالی وزیر ستان میں انتظامی کنٹرول اور آمد و رفت کے حوالے سے اختیار کر دہ انتظامات کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو سات دہشت گرد وں کا ایک ساتھ ایک علاقے تک پہنچنا اور ایک گھر میں موجودگی خاصا حیران کن امر ہے لیکن بہر حال اس کی گنجائش ہونے سے یکسر صرف نظر کرنا بھی ممکن نہیں ۔ پاک فوج کی جانب سے زمینی آپریشن اور علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد امریکی ڈرون حملوں کی گنجائش اور اجازت نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ خواہ دشمنوں اور دہشت گردوں کے خلاف ہی کارروائی کیوں نہ ہو اس سے پاک و طن کی سرحدوں کے تقدس کو ٹھیس پہنچتی ہے اور لوگوں میں اس حوالے سے بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پھر سے پیدا ہوتا ہے ۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاملات انٹیلی جنس شیئر نگ اور منصوبہ بندی کی حد تک ہی رکھے جائیں عملی طور پر کارروائی کی ذمہ داری پاک فوج نبھائے ۔قبل نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاک افغان سرحد ی علاقوں میں موجود عنا صر کے خلاف کارروائی کے اعلان کے اگلے دو تین دنوں کے اندر لوئر کرم کے علاقے میں افغانستان سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے والے دو کمانڈروں کو نشانہ بنانے اور پاک افغان سرحد پر سرحد کے اس پار طالبان کے ٹھکانے کو نشانہ بنا کر چار طالبان کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے کا واقعہ پیش آیا جس کے ساتھ ہی بنوں کے علاقہ جانی خیل میں سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں پر شدت پسندوں کے حملے میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ اور نائیک کی شہادت کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ ممکن ہے ان واقعات کا باہم کوئی تعلق نہ تھا لیکن بہر حال یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جب بھی قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے ہوتے رہے ہیں اس کا رد عمل پاکستانی علاقوں میں اور خاص طور پر پاک فوج پر حملوں کی صورت میں ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔ دہشت گرد عناصر کا یہ مو قف رہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی منشا ء بلکہ تعاون کے بغیر ڈرون حملے ممکن نہیں اس سے قطع نظر تشویش کا باعث امر یہ ہے کہ دہشت گردوں نے ملک بھر میں کئی خوفناک حملے کئے اور گزشتہ روز کے دونوں واقعات اس بناء پر تشویش کا باعث ہیں کہ اس سے شدت پسندی کی نئی لہر شروع ہونے کا خطرہ ہے جن عناصر کو آپریشن ضرب عضب کے موقع پر دبایا بھگا دیا گیا تھا ان کے سر اٹھانے پر آپریشن رد الفسا د کی ضرورت آن پڑی۔ اب ایک بار پھر پاکستان کو ڈرون حملوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمارے تئیں اس طرح کی صورتحال کا حل یہ نہیں کہ اس طرح کے عناصر کوپاکستانی علاقے میں نشانہ بنا کرپاکستان کیلئے مشکلات پیدا کی جائیں۔ ان عناصر کے خلاف افغانستان میں وسیع پیمانے پر کارروائی ہو اور پاک افغان سرحدوں کی بہترنگرانی اور خاص طور پر افغان سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کی آمد ورفت اور ان کے کیمپوں کو ختم کر دیا جائے تو یہ زیادہ مئو ثر اور موزوں امر ہوگا ۔ پاکستان کو امریکی حکام سے ڈرون حملے کے خلاف احتجاج کرنے کی ضرورت ہے ان کو اس امر کا احساس دلایا جائے کہ ان کا یہ اقدام دہشت گردوں کو پاک فوج کے خلاف اور پاکستانی علاقوں میں کارروائی پر اکسانے کا باعث ہے ۔مستزاد ڈرون حملے پاکستانی عوام کا خود اپنی حکومت اور اداروں پر اعتماد متزلزل کرنے اور ان کی ناراضگی کا باعث بن رہے ہیں ۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کی ہیئت کو اب تبدیل ہونا چاہیئے اور اب تک اختیا ر کیئے گئے طریقہ کار کے جو نقائص اور نقصانات سامنے آئے ہیں اُن کے پیش نظر ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جس سے دونوں ممالک کے دائرہ کار اور علاقائی تحفظ و سا لمیت کے احترام میں کمی واقع نہ ہو۔ امریکہ کو چاہیئے کہ اب وہ ڈرون حملے مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کرے اور اس ضمن میں پاک فوج کی صلاحیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس پر اعتماد کیا جائے تاکہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں غلط فہمیوں کی گنجائش باقی نہ رہے ۔

متعلقہ خبریں