چہ دلا وراست دزدے

چہ دلا وراست دزدے

پشاور یونیورسٹی جیسے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے سے یونیورسٹی کی سیکورٹی اور پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی کے باوجود گیارہ ہزار لائین بجلی کی تاروں کی چوری دلچسپ اور فکر انگیز معاملہ ہے جس سے یونیورسٹی کی سیکورٹی پر سوالات کا اٹھنا فطری امر تو ہے ہی حیرت کی بات یہ ہے کہ دیدہ دلیر چوروں کو ذرا بھی کسی کی پرواہ نہ تھی کہ بجلی کے کھمبو ں سے بھاری تاریں ہی اڑا کر لے گئے ۔ چوری کی اس واردات میں گھنٹے لگے ہوں گے مستزادان تاروں کو گاڑیوں میں لے جایا گیا ہوگا مگر اس کے باوجودکسی کو خبر تک نہ ہونا اور کسی کو شک نہ گزرنا باعث تعجب امر ہے ۔ چوری کی یہ واردات منصوبہ بندی مہارت اور پوری تیاری کے بغیر ممکن نہ تھی نیز اس قسم کی چوری فن مہارت رکھنے والے چوروں ہی کی کار ستانی ہو سکتی ہے جس کی بنا ء پر بجا طور پر پہلا شک پیسکو کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کا ہوتا ہے۔ اس میں یونیورسٹی ملازمین کے بھی ملوث ہونے کا برابر امکان ہے ۔ اس سارے وقت میں یونیورسٹی انتظامیہ اور مکین کہاں سوتے رہ گئے تاریں لاد کر باہر لیجاتے ہوئے دروازوں پر تعینات عملے نے روکا کیوں نہیںبہر حال ایسا لگتا ہے کہ یہ سارا عمل اس قدر اعتماد ، اعتبار اور مہارت سے سر انجام دیا گیا ہوگا کہ کسی کو شک بھی نہ گزرا ہوگا۔ یونیورسٹی میں جا بجا کیمرے لگے ہوئے ہیں سیکورٹی کے اہلکاروں نے بھی ان افراد کو دیکھا ہوگا جن کی مدد سے ان چوروں کا سراغ لگانا اور ان کو قانون کے کٹہر ے میں لا کھڑا کرنے میں تساہل کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیئے ۔ پشاور یونیورسٹی سیکورٹی کی صورتحال راہداریوں اور سبزہ زاروں میں ہونے والی سرگرمیوں کے حوالے سے پہلے سے ہی نیک نام نہ تھی رہی سہی کسر چوری کی بڑی انوکھی واردات سے پوری ہوگئی ہے۔ اب تو اس خدشے کا اظہار بجا ہر گز نہیں کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ اور پولیس اس قابل نہیں کہ خدا نخواستہ کسی بڑے حادثے اور واقعے سے نمٹ سکے۔ اگر جامعہ پشاور میں اتنی بڑی واردات کا ارتکاب با آسانی ممکن ہو سکتا ہے تو باقی بھی جس کے دل میں جو آئے گا اس کے کرگزرنے سے روکنے والا کوئی نہ ہوگا ۔ اس واقعے کا اعلیٰ ترین سطح پر نوٹس لینے کی ضرورت ہے اسے چوری کی واردات کے طور پر نہیں سیکورٹی کی پوری طرح ناکامی کے تناظر میں لیکر اس کی تحقیقات کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کے ذمہ دار عناصر سیکورٹی اہلکاروں اور پولیس کے خلاف بلا امتیازکارروائی کی جانی چاہیئے ۔
علاج معالجے کی سہولتوں پر مزید توجہ کی ضرورت
صوبہ کے سرکاری ہسپتالوں کے انتظامی معاملات سے ہمیں کوئی سروکار نہیں اس صورتحال سے قطع نظر مریضوں کو جس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ نہایت تکلیف دہ چیز بنتی جارہی ہے ۔اصلاحات اور توجہ کے حامل شعبہ صحت میں اس وقت ہسپتالوں میں ڈاکٹروںکی بد دلی اور بیزاری کا رویہ مریضوں کیلئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ ڈاکٹروں کی دلچسپی ہسپتالوں میں علاج معالجے کی بجائے ہسپتالوں سے باہر آمدنی کے ذریعے اور موقع کی تلاش میںر ہتی ہے جس کے باعث ہسپتالوں میں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے ۔ صوبے کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال کی حالت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ انتظامی تبدیلی لانے اور لاکھوں روپے کی تنخواہیں دے کر ڈائریکٹروں کی تقرری کے باوجود پر نالہ وہیں کا وہیں گررہا ہے ۔ ہمارے تئیں ہسپتال کوئی مالیاتی ادارے نہیں جہاں ڈائریکٹروں اور منیجروں کی فوج بھرتی کر کے بہتری لائی جائے۔ ہسپتال شفا خا نے ہیں جہاں ڈاکٹروں اور متعلقہ طبی عملے کی تعداد پوری کر کے ان کو کام کا مناسب ماحول مہیا کرکے ہی عوام کو علاج کی بہتر سہولت مہیا کی جاسکتی ہے۔ پشاور کے سرکاری ہسپتالوں میں یونین بازی اور ہڑتالوں کے باعث صحت کے نظام کا شل ہو جانا لمحہ فکر یہ ہے ۔ سرکاری ہسپتالوں کے نظام میں اصلاحات اور بہتری لانے کیلئے جو بھی اقدامات کئے جائیں ان کا بھر پور خیر مقدم کیا جانا چاہئے تاہم یہ اصلاحات اور تبدیلیاں اس قابل تو ہوں کہ جنکی بدولت ہسپتالوں میں مریضوں کو علاج معالجہ کی بہتر سہولیات حاصل ہو ۔
آئے روز کی ٹارگٹ کلنگ
مختصر مدت میں مختلف علاقوں میں علماء کا قتل اور زخمی کرنے کے پے درپے واقعات اور اس میںاضافہ توجہ طلب امور ہیں ۔ کسی عالم دین اور کسی شخص کا غیر ملکی ہونا یا ان کاپیشہ اور ذریعہ روز گار ان کے لئے خطرے کا باعث نہیں ہونا چاہیئے۔ اگر کوئی شخص خواہ وہ مدارس سے متعلق ہو یا یونیورسٹی کا لج سے اس کے کسی فعل کے ارتکاب پر اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے ۔ چن چن کر ایک خاص مکتبہ فکر کے علمائے کرام کو نشانہ بنانے سے منافرت اور فرقہ واریت پھیلنے کا اندیشہ ہے انتظامیہ کو اس طرح کے واقعات کی روک تھام اور شہریوں کو بلا امتیاز تحفظ کی فراہمی میں سنجید گی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں