سجن جندال کا مشن؟

سجن جندال کا مشن؟

پاک بھارت کشیدگی پوری طرح اپنے پر پھیلائے ہوئے ہے ۔دونوں ہمسایہ مگر روایتی حریفوں کے درمیان ڈپلومیسی کی کوئی صورت کارگر نہیں رہی ۔براہ راست سفارتی روابط اب احتجاجی مراسلوں ،جوابی مراسلوں ،سفارت کاروں کی بے دخلی اور الزامات تک محدود ہیں۔پس پردہ اور خفیہ روابط بھی قریب قریب ختم ہیں۔سرحدوں پر موم بتیاں روشن کرکے انہیں حقیر سی لکیر ثابت کرنے والے،مشترکہ ثقافتی تقریبات میں دھمالیں ڈالنے والے اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کے سو چکے ہیں اور دونوں ملکوں کے مشترکات پر اصرار کرنے والے اخبار نویس ،دانشور ،شاعر سلیمانی ٹوپیاں پہن کر گم ہو چکے ہیں۔ کشمیر پر نریندر مودی کے رویے کی سوئی وہیں ٹھہر کر رہ گئی ہے جہاں گجرات کے وزیر اعلیٰ اور وہاں مسلمانوں کے قتل عام کے وقت تھی جب مودی نے ایک سوال کے جواب میں پانچ ہزار انسانوں کے قتل اور عورتوں کی اجتماعی آبروریزی پر کمال بے نیازی سے کہا تھا کہ '' ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے''۔کشمیر میں طاقت کا بیل عوام نے سینگوں سے پکڑ رکھا ہے۔ سینگ چھڑانے کی کوئی تدبیر کار گر نہیں ہورہی۔طاقت اور مزید طاقت ،تشدد اور مزید تشدد اب بھارت کے پاس صرف یہی ایک نسخہ باقی بچا ہے اور وہ اسے بے رحمی کے ساتھ آزما رہا ہے۔ایسے میں کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ایک بار پھر دوڑی دوڑی دہلی کے راشٹر پتی بھون پہنچیں اور نریندر مودی سے واجپائی کے راستے پر آنے کی استدعا کی ۔واجپائی کے راستے کا مطلب معمولی سی لچک ہے۔واجپائی نے ہی اس سوال کے جواب میں کہ کیا آپ مسئلہ کشمیر کو آئین ہند سے باہر حل کرنا چاہتے ہیں،کہا تھا کہ میں انسانیت اور کشمیریت کے دائرے میں مسئلہ حل کرنا چاہتا ہوں۔بہت سے عناصرکا خیال ہے واجپائی کشمیریوں کو بہت کچھ دینا چاہتے تھے لیکن سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ لاہور سے واپسی کے بعد انہوں نے واجپائی سے پوچھا کہ وہ کیا حل ہے جس پر آپ متفق ہورہے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ سرحدوں کونرم کرنا اور آمدورفت کی بحالی ۔فاروق عبداللہ کی یہ بات اندر کی گواہی ہے کہ واجپائی نواز اور من موہن مشرف کے درمیان کشمیر کے جس حل کا بہت چرچا ہے اس میں کشمیرکے سیاسی پہلو کو پس پشت ڈال دیا گیا تھا ۔اگلے ماہ چین میں سی پیک پر ایک عالمی سیمینار منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں کم ازکم اٹھائیس صدور اور وزرائے اعظم شریک ہورہے ہیں ۔بھارت اس خطے کا واحد ملک ہے جس کا سربراہ اس سیمینار میں شریک نہیں ہوگا البتہ بھارت اس کھیل سے الگ رہنے کی صلاحیت بھی کھو رہا ہے اور بھارت کا نمائندہ سیمینار میں شریک ہوگا ۔یہ ایک عجیب سی تنہائی ہے جس کا بھارت کو سامنا ہوگا اور جس پاکستان کو بھارت تنہا کرنے چلا تھا وہ اس تقریب میں مرکز نگاہ ہوگا ۔چین اگر اس کانفرنس میں دولہا ہوگا تو پاکستان کم ازکم شہ بالا۔چین بڑی حد تک بھارت کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوچکا ہے کہ بھلے سے بھارت بڑا ملک ہے مگر امریکہ کی ہلہ شیری کی اونچی ایڑھی والی جوتی پہن کر مصنوعی طور سے قد اونچا کرنا مناسب نہیں۔کلبھوشن یادیو کے معاملے پر ڈکٹیشن کامعاملہ چلنے سے پہلے ہی ناکام ہوگیا ۔بھارت نے امریکہ کے انداز میںکلبھوشن یادیو کو ریمنڈ ڈیوس بنانے کی کوشش کی اور اب منت ترلے تک بات پہنچ چکی ہے۔یہاں بھارت کے اندازے غلط ثابت ہوئے ۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں نشیب وفراز آتے ہیں مگر دونوں میں ٹام اور جیری کا تعلق چلتا رہا ہے بھارت کے ساتھ پاکستان کا ایسا کوئی تعلق نہیں ۔دونوں کے درمیان پوری تاریخ جنگوں اور پراکسی جنگوں اور سفارتی رزم آرائیوں سے بھری پڑی ہے ۔اس لئے کلبھوشن یادیو ریمنڈ ڈیوس جیسی قسمت نہیں پاسکا۔اس منظر میں قائد اعظم کی رہائش گاہ کے حوالے سے مشہور ممبئی کی مالابار ہلز سے بھارت میں لوہے کے دوسرے بڑے کاروباری گھرانے کے چند افراد اسلام آباد ائیرپورٹ پر اترکر مری چلے جاتے ہیں۔ان میں سب سے نمایاں نام سجن جندال کا ہے ۔یہ ایک سیاسی اور کاروباری گھرانہ ہے ۔سجن جندال کے والد بھارتی پارلیمنٹ کے رکن رہ چکے ہیں اور ان کے بھائی اس وقت بھی رکن پارلیمنٹ ہیں۔یہ جے ایس ڈبلیو سٹیل کے نام سے بھارت میں لوہے کے دوسرے بڑے برآمد کنندگان ہیں۔صرف لوہا ہی نہیں یہ معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں بھی اپنا لوہا منوا رہا ہے۔سجن جندال اس وقت بھارت کی چیمبر آف کامرس کے صدر بھی ہیں۔یہ نریندرمودی کے ذاتی دوست اور فنانسر ز میں شمار کئے جاتے ہیں۔ان کی اچانک پاکستان آمد کے بعد جب یہ خبر میڈیا میں آئی تو مریم نوازنے ایک ٹویٹ کے ذریعے یہ انکشاف کیا کہ وہ میاں نوازشریف کے ذاتی دوست ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ نیپال میں مودی اور نوازشریف کے درمیان ملاقات اور مودی کی رائیونڈ آمدسجن جندال کی دو طرفہ ذاتی دوستی کی کرشمہ سازی تھی۔اب دونوں ملکوں کی کشیدگی کے سیاچن گلیشئر میں سجن جندال کا پہلا قدم بے سبب نہیںہوسکتا۔بھارت پاکستان کو الگ رکھ کر کشمیر کے حالات کو معمول پر لانے کی ناکام کوششیں کر چکا ہے اب شاید پاکستان کی مدد مانگنے کے سوا کوئی راہ باقی نہیں بچی ۔چند حلقوں کے ضمنی انتخابات میں عوام کے بائیکاٹ نے بھارت کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔یہ نوے کی دہائی کے بعد پہلا انتخاب تھا جو بھارت نے پاکستان کو الگ تھلگ بلکہ ناراض رکھ کر منعقد کرنے کی کوشش تھی جس میں بری طرح ناکامی ہوئی ۔ اس مرحلے پرسری نگر میں پھنسے بیل کے سینگ چھڑانے میں مدد دی تو بھارت کے ساتھ نفرت کی ساجھے داری اور کوئلوں کی دلالی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ دو عشرے سفارت کاری کے روایتی سانچوں سے باہر کیمروں کی نظروں سے اوجھل چھپ چھپ کرملاقاتوں سے عبارت ہیں۔نتیجہ کیا نکلا ہے ؟یہ کہانی چہار سو بکھری پڑی ہے۔اب ایک بار پھر سفارت کاری کا غیر روایتی انداز بحال کرنا وقت کاضیاع ہے۔

متعلقہ خبریں