ریاست ، سیاست اور قیادت کے تاریخی تناظر میں

ریاست ، سیاست اور قیادت کے تاریخی تناظر میں

عنوان بالا کی متذکرہ اصطلاحات آپس میں گہرا تعلق رکھتی ہیں لیکن یہ بحث آج تک فلاسفہ اور مفکرین کے ہاں جاری ہے کہ ان میں سے کون سی چیز پہلے وجود میں آئی اور کون سی بعد میں ۔ اس حوالے سے دو واضح اور بڑے نظریات اسلامی اور غیر اسلامی بد ستور چلے آرہے ہیں اور ان دونوں افکار و نظریات کی بعض چیزیں بعض اوقات مشترک بھی نظر آتی ہیں لیکن حقیقت میںان دونوں نقطہ ہائے نظر کے درمیان بہت بڑا فر ق ہے ۔ ریاست اور قیادت کا تعلق انسان سے ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک نفس سے پیدا فرمایا ۔ اس لحاظ سے تمام انسانوں کی حقیقت اور ماہیت ایک ہے ۔ حضرت آدم کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما کر جنت میں بھیجا لیکن وہاں ہرقسم کے آرام وراحت کے باوجود تنہائی کے ہاتھوں آد م کو مکمل سکون حاصل نہ تھا کیونکہ انسان کی فطرت وجبلت تنہائی برداشت نہیں کر سکتی ۔ حکیم ذات نے اس لیے اس کا جوڑا اُس ذات (نفس) سے پیدا فرمایا تاکہ دونوں مل کر آرام و سکون کی اجتماعی زندگی گزار سکیں۔ آدم و حوا نے اجتماعی زندگی گزارنے کے لیے آپس میں ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوئے جو نظام وضع کیااُس کو علوم عمرانیات کی رو سے ''سیاست البیت ''کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ گھر پہلی ریاست ، گھر کا نظام چلانے کے لیے طریقہ کار سیاست (سیاستہ البیت ) اور آدم اور حوا شوہر اور بیوی کے تعلق کے ساتھ اس کے پہلے امیر (حکمران ) اور مامور (عوام ) تھے ۔ آدم کو زمین پر اُتار نے کے ساتھ ہی ریاست و سیاست (گھریلونظام حیات ) کے اصول واحکام اور زمین پر موجود اولین ، فطری اور سادہ وبادہ ریاست و حکومت یہی تھی جس نے وقت گزرنے کے ساتھ اور آبادی میں اضافہ نے نئی شکل اور سیاست المنزل اور سیاست مدینہ (City state) یاقومی حکومت کے نام کے ساتھ اختیار کر لی ۔ آدم اللہ کے پہلے بندے ، پہلے نبی ورسول اور پہلے انسان تھے جن کو زمین پر ریاست و حکومت اور خلافت ملی ۔ آدم کی وفات کے بعد آپ کے بیٹوں کو یہ وظیفہ اور مذہب منتقل ہوتا رہا اور ایک طویل مدت (بعض روایات میں دس قرنوں ) تک نظام ریاست و حکومت ٹھیک چلتا رہا سوائے چند معمولی خرابیوں کے ، لیکن اس کے بعد زمین پر انسان دو واضح حصوں میں بٹ گئے ۔ ایک وہ لوگ جو اُسی نظام کے مطابق چلتے رہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کے ذریعے بھیجا تھا اور ایک وہ لوگ جنہوں نے شرک' خواہشات نفسانی اور دنیا پرستی اختیار کی اور ان کی اصلاح کے لئے حضرت نوح علیہ السلام بھیجے گئے۔لفظ انسان میں بذات خود لغوی لحاظ سے یہ چیز موجود ہے کہ انسان انس و محبت اور میل جول کا مرکب ہے۔ انس کا متضاد لفظ وحشت' تنہائی اور منافرت ہے۔ گویا انسان کی فطرت و جبلت میں معاشرت (Society) ہے منافرت نہیں۔ سیاسی نظام' ریاست اور قیادت اسی انس و مودت و محبت اور مل جل کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور ایثار و قربانی کے جذبات کے ساتھ زند کی بسر کرنے کا نام ہے۔ سورہ حجرات میں انسان کی تخلیق ایک مرد اور ایک عورت سے بتائی گئی ہے لیکن اختلاف قبائل اور (رنگ و جغرافیہ) کو پہچان کے لئے بنایاگیا ہے۔ تعارف و پہچان ہی سے ایک دوسرے کے ساتھ انسیت و محبت پیدا ہوتی ہے اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ تعاون و تعلق سے ہی مضبوط معاشروں کی بنیاد پڑتی ہے۔ اسی باہمی تعاون و تعلق کو تمدن اور اجتماعیت کہتے ہیں جس سے ریاست و حکومت و جود میں آتی ہیں اور ان کو بطریق احسن چلانے کے لئے سیاست و قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن تاریخ میں بعض مفکرین سیاست ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ابتدائی دور کا انسان سیاسی اور تمدنی شعور سے نا آشنا تھا اور ریاست' حکومت اور سیاست و قیادت وغیرہ کے نظم و تنظیم سے بے خبر تھا۔ سیاسی و سماجی و معاشرتی زندگی کا شعور ایک طویل زمانہ گزرنے کے بعد حالات' واقعات' حادثات اور سانحات نے انسان کے اندر پیدا کیا۔ اپنے اس فکر و نظریہ کے حوالے سے اس کے اثبات و ثبوت کے لئے ان کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت و دلائل موجود نہیں۔ اگرچہ اپنے اس قسم کے دعاوی کے اثبات کے لئے انہوں نے علم نفسیات اور آثار قدیمہ کے اثریات سے کھینچ تان کر کچھ اصول وغیرہ وضع کرنے کی کوشش کی ہے لیکن پہلی نظر میں یہ صاف طور پر نظر آتا ہے کہ اس میں قیاس اور خیالی فلسفے کا عمل دخل زیادہ ہے۔ تاریخ فلسفہ کے یہ بڑے بڑے ناموں والے فلسفی نہ تو تاریخ انسانی کو صحیح طور پر پڑھ کر سمجھ سکے اور نہ ہی خود اپنے آپ اور اپنے نفس کو پہچان سکے۔ حالانکہ ان کا اپنا نفس بھی انفرادیت کے بجائے اجتماعیت کو پسند کرتا ہے۔ البتہ اتنی بات کا یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ '' انسان ابتداء میں امن و امان ' سکون و اطمینان اور مسرت و شادمانی کی زندگی بسر کر رہا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ دنیا پرستی اور ضروریات زندگی کے حصول پر جھگڑے اور لڑائیاں شروع ہوئیں اور اس کے نتیجے میں طبقاتی کشمکش شروع ہوگئی جس سے تنگ آکر ان مسائل کو حل کرنے کے لئے لوگوں نے آپس میں معاہدے کئے اور ان کے ذریعے حقوق کے تحفظ و تعین کے لئے ریاست و حکومت کی بنیاد پڑی۔ اور بعض فلاسفر اس کے برعکس یہ کہتے ہیں کہ انسان کا ابتدائی دور جہالت اور ظلم و بربریت اور وحشت و سنگدلی کا تھا جس سے تنگ آکر لوگوں نے معاہدوں کے ذریعے ریاست و قیادت کے اصول بنائے۔

متعلقہ خبریں