دہشتگردوںکا اہم مہرہ

دہشتگردوںکا اہم مہرہ

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان پاک فوج کی تحویل میں ہے اور اس کا اعترافی بیان میڈیا پر شائع ہو چکا ہے۔ اپنے اعترافی بیان میں احسان اللہ احسان نے بیرونی مداخلت اور بھارت و اسرائیل سمیت پاکستان کے دشمن ممالک سے مدد لینے کا اعتراف کیا ہے۔ اس کی تفصیلات بھی میڈیا میں آ چکی ہیں۔ احسان اللہ احسان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے اپنے تلخ ماضی سے رجوع کرکے سرینڈر کر دیا ہے۔ 

پاک فوج طالبان کے ترجمان کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے یہ تو آنے والے لمحات ہی بتا سکتے ہیں۔لیکن سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں کی تردید پیمرا نے بروقت نوٹس لیتے ہوئے ایک نجی ٹی وی پر نشر ہونے والے احسان اللہ احسان کے انٹرویو پر پابندی عائدکرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے شخص کا کسی بھی چینل کے پلیٹ فارم پر انٹرویو کرنا ' اس کو دکھانا ان ہزاروں فوجیوں' سویلین اور شہید بچوں کے والدین ' رشتہ داروں ' دوستوں اور کروڑوں پاکستانیوں کے لیے ایک انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ تاہم نیشنل ایکشن پلان کے تحت جاری کردہ ہدایات اور الیکٹرانک میڈیا ضابطہ اخلاق کی شق 3کے مطابق احسان اللہ احسان کے پہلے سے جاری کردہ سیکورٹی اداروں کو دیے گئے اعترافی بیان کے صرف ان حصوں کو دکھایا جا سکتا ہے جن میں مذہب کے غلط استعمال ' ظلم و سفاکی اور غیر ملکی ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات کا اعتراف ہو۔ پیمرا کی جانب سے احسان اللہ احسان کے انٹرویو پر پابندی لگانایقینا بروقت اور اہم فیصلہ ہے لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ احسان اللہ احسان کالعدم تحریک طالبان کا اہم مہرہ رہا ہے۔ ترجمان ہونے کے ناطے ہر طرح کے راز سے آگاہ ہے' اسے یہ بھی معلوم ہے کہ طالبان کی فنڈنگ کہاں سے ہوتی ہے' وہ یہ بھی جانتا ہے کہ طالبان کی پناہ گاہیں کہاں ہیں اور یہ بھی کہ طالبان کے گروہ میں کتنے اور کون کون لوگ ہیں،نیٹ ورک کس طرح اور کس کی سپورٹ سے کام کر رہاہے،احسان اللہ احسان چونکہ 9سال تک طالبان کا اہم حصہ رہا ہے اس لئے اس سے اور انکشافات بھی متوقع ہیں۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو احسان اللہ احسان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مضبوط ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور دشمن کے خلاف اسی صورت استعمال کیا جا سکتا ہے کہ وہ سیکورٹی فورسز کی تحویل میں بقید حیات رہے۔ اس مضبوط ہتھیار کو بیک وقت دو محاذوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک تو کالعدم تحریک طالبان کے خلاف ۔ کیونکہ احسان اللہ احسان کالعدم تحریک طالبان کا اہم حصہ رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ بھارت کی پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردوں کی پشت پناہی سے بخوبی واقف ہے جس کا اس نے بر ملا اعتراف بھی کیا ہے سو اسے بھارت کے خلاف بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بھارت پاکستان کو عالمی دنیا میں تنہا کرنے کے ہر طرح کے جتن رہا ہے۔ وہ عالمی دنیا میں پاکستان مخالف اپنے پراپیگنڈے میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوا ہے۔ یہ بھارت ہی کی کارستانی اور پاکستان دشمنی کا نتیجہ ہے کہ عالمی دنیا میں ہماری پہچان دہشت گرد کے طور پر ہوتی ہے۔ ہم خود بھی کسی حد تک اس کے ذمہ دار ہیں کہ ہم نے عالمی دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ اس انداز میں پیش نہیں کیا جس طرح ضرورت تھی، ہم عالمی دنیا کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے ہیں کہ پاکستان کے عوام پر امن اور مہذب قوم کے باشندے ہیں۔
گزشتہ دنوں اسلام آباد مارگلہ ہوٹل میں روس سے آئے ہوئے ایک مہمان کے ساتھ ملاقات ہوئی توروسی مہمان نے بتایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ عالمی دنیا میں پاکستان کو کن نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے؟ میں نے نفی میں سر ہلایا تو اس نے بتایا کہ پاکستانیوں کی پہچان عالمی دنیا میں دو وجوہات کی بنا پر بہت خراب ہے۔ ایک تو دہشت گردی کے حوالے سے اور دوسرا خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کے حوالے سے۔ روسی مہمان نے بتایا کہ جب تک میں پاکستان نہیں آیا تھا میرا تاثر بھی آپ لوگوں کے بارے میں اچھا نہیں تھا۔ لیکن اب جب کہ میں پاکستان میںہوں تو مجھے اتنی محبت اپنے ملک میں نہیں ملی جتنی پاکستان میں ملی ہے اور خواتین کے بارے میںتاثر بھی زائل ہو گیا ہے۔ کہنے لگے آپ لوگو ں کو چاہیے کہ عالمی دنیا کے سامنے پاکستان کا حقیقی چہرہ پیش کریں۔
جو لوگ احسان اللہ احسان کو فوری تختہ دار پر دیکھنا چاہتے ہیں وہ شاید جذبات میں آ کر ایک پہلو پر نظر رکھے ایسی باتیں کر رہے ہیں وگرنہ اگر وہ ٹھنڈے دماغ سے سوچیں تو انہیں اطمینان ہو گا کہ احسان اللہ احسان ہماری سیکورٹی فورسز کی تحویل میں ہے،سیکیورٹی فورسز یہ بات بخوبی جانتی ہے کہ احسان اللہ احسان ہزاروں پاکستانیوں کے قاتل گروہ کا ترجمان تھا۔ دوسرے یہ کہ اس نے خود سرینڈر کیا ہے اور سب سے اہم یہ کہ احسان اللہ احسان کے ذریعے ہم عالمی دنیاکو یہ بتا سکتے ہیں کہ بھارت پاکستان میں کس طرح دہشت گردوں کی پشت پناہی اور فنڈنگ کر رہا ہے،افغانستان کے کن راستوں سے وطن عزیز میں دراندازی ہو رہی ہے۔مذکورہ بالا سطور سے معلوم ہوا کہ احسان اللہ احسان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم گواہ ہے اور گواہ کے ذریعے ہی ہم اپنے ٹارگٹ تک پہنچ سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں