پاکستان کے چار بڑے دشمن

پاکستان کے چار بڑے دشمن

ہم امریکہ اور بھارت سے دوستی اور امن کی آشا کی باتیں کرتے نہیں جھکتے، مگر وہ مختلف طریقوں سے مسلمانوں اور پاکستان کی جڑوں کو کرنے کے درپے ہیں ۔ پاکستان دشمنی میں ،اسر ائیل کی خفیہ ایجنسی مو ساد، بھا رت کی را اور امریکہ کی سی آئی اے اور انگریزوں کا لگا یاہوا پوداقادیانی پیش پیش ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ممالک اور انکی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کی دشمن کیوں ہیں ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی یہ کو شش ہے کہ پاکستان کو غیر مُستحکم کر کے اس سے فا ٹا، کے پی کے اور بلو چستان کو علیحدہ اور ایٹم بم چھینا جائے، کیونکہ یہود و ہنود کسی مسلمان ملک کے پاس نیوکلیئر ہتھیار اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ علا وہ ازیں پاکستان اور دنیا کے مختلف خطوں میں قا دیانی جو یہو دیوں اور ہندئوں کے کے آلہ کار ہیںاور جو پاکستان میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں اُنکی بھی کو شش ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کر کے تو ڑا جائے اور اس سے ایٹم بم چھین کر بین الاقوامی ایجنسی کے زیر اثر لایاجا ئے اور اسی طرح یہود و ہنو د کو کھلی چُھٹی جائے تاکہ وہ غریب اور جدید دور کی ٹیکنالوجی سے محروم اسلامی ممالک کو زور اور طاقت کے بل بو تے پر زیر اثر کر کے انکے قدرتی وسائل پر قبضہ جمائیں ۔ مسلم اُمہ میں پاکستان وا حد جو ہری طاقت ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ پاکستان سے خو ف اور ڈر محسوس کرتے ہیں۔ بھارت جس کو تجارت کے لحا ظ سے تر جیحی ملک کا درجہ دیا ہے، اس کی پو ری کو شش ہے کہ پاکستان کو توڑا جائے ۔ ایک مشہو ر اخبا ر ڈیلی میل کا کہنا ہے کہ بھارت کی اندرا گاندھی نے جو نہی بھارت کی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھا لا تو ا نہوں نے بھارت کی خفیہ ایجنسی کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ کوئی ایسا منصوبہ بنائیں تاکہ پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹا یا جاسکے۔ جس نے یہ منصوبہ بندی کی تھی اس کا نام رامیش ور ناتھ کائو تھااور اس منصوبے کو اُسی کے نام کائو سے یاد کیا جاتا ہے۔ منصوبہ یہ تھا کہ مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک چلائی جائے گی ۔ اوراس کوایک خود مختار ریاست بنایا جائے گا اور بد قسمتی سے را کے قیام کے 30 مہینے بعد 1971 میں مشرقی پاکستان پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ ''کائو''منصوبے کے تحت بلوچستان کو اور خیبر پختون خوا کو ایک علیحدہ خو د مختار ریاست بنانے کی منصوبہ بندی ہے ۔ فی الو قت بلو چستان ، فا ٹا اور ملک کے دوسرے حصوں میں جو افرا تفری اور غیر یقینی صورت حال ہے ، اس میں بھارت ، امریکہ، اسرائیل اور پاکستانی قادیانی ملو ث ہیں۔ ریسر چ میں کہا گیا ہے کہ 9/11 کے بعد بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور امریکی سی آئی اے کے درمیان روابط بڑھ گئے۔ اور اس طر ح بھارت اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے بلو چستان کو پاکستان سے جدا کرنے کے لئے منفی کارروائیاں شروع کیں اور ابھی بلو چستان، فا ٹا اور پاکستان کے دوسرے حصوں میں جو کچھ تخریبی کار روا ئیاں ہو رہی ہیں اُس میں دوسرے عوامل کے علاوہ امریکہ کی'' سی آئی اے''، بھارت کی ''را ''اور اسرائیل کی ''مو ساد ''وطن عزیز کے کچھ شر پسند عنا صر اور قادیانی افسروں کا ہاتھ ہے۔ کیونکہ قادیانی بھی کسی صو ر ت بھارت کی ''را'' امریکہ کی '' سی آئی'' اے اور اسرائیل کی'' مو ساد''سے کم نہیں۔بلو چستان کی علیحدگی کے لئے کا ئو منصوبہ 2004-5 میں شروع ہو ا اور پو رے صوبے میں تخریبی کا رروائیوں نے کا فی زور پکڑا ہے۔''دی میل ''کا کہنا ہے کہ امریکہ کی کا نگرس نے حال ہی میں بلو چستان کے لوگوں کے حق خود ارادیت کی مدد کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں بلو چستان، کراچی اور قبائلی علاقہ جات میں بلیک واٹر پاکستان کو غیر مستحکم کر نے میں لگی ہوئی ہے۔ایک صحافی وائن میڈسن جنہوں نے فو کس ٹی وی، اے بی سی، این بی سی، سی بی ایس،پی بی ایس، سی این این ، بی بی سی الجزیرہ، ایم ایس این بی سی اور دوسرے کئی چینلوں کے لیے کام کیا ہے کا کہنا ہے کہ میں اس بات کی تہہ تک پہنچا ہوں کہ پاکستان اور بلو چستان میں بلیک وا ٹر دہشت گر حملوں میں ملو ث ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلیک واٹر پاکستان کے کراچی، پشاور،اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں تخریبی کا رروائیوں میںمصروف ہیں۔ اور یہ تمام تخریبی کار روائیاں امریکہ سی آئی اے کی ایما پر ہو رہی ہے ۔ کرسٹینا پالمیر جو" دی میل" میں کام کر تی ہیں اُنکا کہنا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ''را'' پاکستان میں فر قہ وارانہ جنگ کو ہوا دینے کی کو شش کر رہی ہے اوربلو چستان میں عام لوگوں کا قتل عام کر نا اس سلسلے کی کڑی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں امریکہ کی دہشت گر دی کی جنگ سے نکلناچاہئے ۔ جب ہم امریکہ کی دہشت گر دی کی جنگ چھو ڑیں گے تو ہمیں دشمن کا آسانی سے پتہ چلے گا کہ ہمارا دشمن کو ن ہے۔ پاکستان کو اپنے پڑو سی ممالک چین، سری لنکا، نیپال، ایران بالخصوص اسلامی ممالک اور بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات اُستوار کرنے چاہئیں اور امریکہ کو خیر باد کہنا چاہئے ۔ کہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ دشمنی خطر ناک مگر دوستی مہلک ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو وطن عزیز میں ملک دشمن اور بالخصوص قادیانیوں پر کڑی نظر رکھنی چاہئے ۔ اسکے علاوہ وطن عزیز میں نیشنل سیکو رٹی کو نسل کی جگہ تھنک ٹینک بنانا چاہئے جس میں پار لیمنٹرین کے علاوہ ٹیکنو کریٹس اور متعلقہ ماہرین شامل ہونے چاہئیں اور انکو پو را اختیار دیا جائے کہ وہ ملک کے لئے پالیسی سازی میں پار لیمنٹ کی مدد کریں۔ ہر بِل کو قانون ساز اداروں میں پیش کرنے سے پہلے تھنک ٹینک کے پاس جا نا چاہئے۔

متعلقہ خبریں