مشرقیات

مشرقیات

امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان کی خدمت میں بنومخزوم کے ایک شخص نے اپنے مقروض ہونے کا شکوہ کیا ۔ امیر المومنین نے فرمایا : اگر تو واقعی مستحق ہے تو ہم تیرا قرض ادا کردیں گے ۔
وہ مخزومی بولا: اے امیر المومنین ! میں آپ کی طرف سے قرض کی ادئیگی کا مستحق کیوں نہیں بن سکتا جبکہ میرے گھرانے اور قربت داروں سے آپ بخوبی واقف ہیں ۔
امیر المومنین نے فرمایا : کیا تو نے قرآن پڑھا ہے ؟
مخزومی : نہیں ۔
امیر المومنین : میرے قریب آجائو جب وہ مخزومی قریب ہوا تو امیر المومنین نے اپنی چھڑی سے اس کے سر سے عما مہ اتاردیا ، اور اپنے ہم نشینو ں میں سے ایک آدمی سے فرمایا : ''اس کو اپنے ساتھ لے جائو اور اس وقت تک الگ مت کرنا جب تک کہ یہ قرآن پڑھ نہ لے ۔ ''
اس کے بعد ایک دوسرا آدمی کھڑا ہو ا اور گویا ہو ا : اے امیر المومنین ! آپ میرا قرض ادا کریں ۔
امیر المومنین نے پوچھا : '' کیا تو قرآن پڑھنا جانتا ہے ؟ '' وہ شخص بولا :ہاں !پھر امیر المومنین نے اس سے 10آیات سورہ الانفال کی اور 10آیات سورہ برأت کی تلاوت کروا کر سنیں اور فرمایا : ''ہاں ، ہم تیر ا قرض ادا کر دیتے ہیں ، کیونکہ تو اس کا مستحق ہے ۔''
(تاریخی واقعات)
ایک روز امیر معاویہ نے اپنے نشینوں سے پوچھا : باپ ، ماں ، نانا ، نانی ، چچا ، پھو پھی ، ماموں اور خالہ کے اعتبار سے لوگوں میں سب زیادہ معزز اورکریم کون ہے ؟ ہم نشینوں نے عرض کیا : امیر المومنین ہی کو اس بارے میں زیادہ معلوم ہے۔
امیر المومنین امیر حضر ت معاویہ نے حضرت حسن بن علی کا ہاتھ پکڑ ا اور فرمایا : وہ معزز یہ ہیں ، ان کے باپ حضرت علی بن ابی طالب ، ماں حضرت فاطمہ بنت محمدۖ ، نانا رسول اکرم ۖ ، نانی حضرت خدیجہ ، چچا حضرت جعفر ، پھوپھی حضرت ہالہ بنت ابی طالب ، مامو ں حضرت قاسم بن محمد ، اور خالہ حضرت زینب بنت محمد ۖ اور رقیہ بنت محمد ۖ ہیں ۔
(سنہرے واقعات)
ایک مرتبہ ہارون رشید نے اپنے صاحبزادے مامون کو اپنی لائبریری میں دیکھا ، جو ایک کتاب ہاتھ میں لیے ہوئے تھا اور اسے الٹ پلٹ رہا تھا ۔ ہارون رشید نے پوچھا : تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ مامون نے جواب دیا : ایک ایسی چیز ہے جس سے ذہن و دماغ کو تیز بنانے کے لیے خوراک ملتی ہے ، یہ غفلت کو دور کرتی ہے اور اس کے ذریعے سے وحشت سے اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔ ہارون رشید نے پوچھا : تجھے کون ساتحفہ پسند ہے ؟ مامون نے جواب دیا : اپنا اچھا مشورہ دیں ۔ ہارون رشید نے کہا: '' تمام تعریف اس خدا کے لئے ہے ، جس نے مجھے ایسے بیٹے سے نوازاجو ( امور زندگی کو )جسم اور عمر سے زیادہ عقل کی آنکھ سے دیکھتا ہے ۔ ''

متعلقہ خبریں