ٹکرائو کا عندیہ مگر مفاہمت کے ساتھ

ٹکرائو کا عندیہ مگر مفاہمت کے ساتھ

شہید رانی بے نظیر بھٹو کے یوم شہادت کے موقع پر منعقدہ جلسہ عام میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے احتجاج کا اعلان اور وزیر اعظم محمد نواز شریف کا مولانا فضل الرحمن کو مفاہمت کا ٹاسک سونپ دینا دونوں طرف سے معاملات پر مفاہمت کاواضح عندیہ ہے۔ مستزاد پی پی پی کے چیئر مین سابق صدر آصف علی زرداری کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری کے زور آورجملوں کی جس طرح وضاحت کی گئی ہے اس سے بھی مفاہمت کے بادشاہ کی حکمت عملی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ پی پی پی کے شریک چیئر مین نے جوان سال چیئر مین کے پر جوش الفاظ کی وضاحت میں کہا کہ بلاول نے جو باتیں کہی ہیں وہ سب جمہوری ہیں اس نے یہ نہیں کہا کہ وہ سڑکوں پر آکر پارلیمان پر حملہ کردے گا۔ بہر حال الفاظ کی تشریح و وضاحت اور مفہوم جو بھی بیان کیا جائے بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم نواز شریف کی پالیسیوں پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اپنے چار مطالبات کے لیے لانگ مارچ کرنا ہے اور اس کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اب پارٹی کے اجلاس میں اس پر مشاورت اور فیصلہ کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب اپنے مطالبات کے لیے پورے ملک کا دورہ کروں گا کار کن تیار ہو جائیں۔ اب میں غاصبوں کا قبضہ ختم کرنے اور جاتی امرا کی بادشاہت کے خاتمے کے لیے شہر شہر،گائوں گائوں جائوں گا۔بلاول کے چار مطالبات یہ ہیں۔سابق صدر آصف زرداری کے دور میں اقتصادی راہداری پر ہونے والی اے پی سی کی قرار دادوں پر عمل ہونا چاہیے۔ پاناما لیکس پر پیپلزپارٹی کے بل کو منظور کیا جائے۔ فوری طور پر ملک میں مستقل وزیرخارجہ کو تعینات کیا جائے۔ پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی ازسر نو تشکیل دی جائے۔پارٹی کے شریک چیئرمین اور حال ہی میں18ماہ کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد واپس لوٹنے والے آصف علی زرداری نے بلاول بھٹو زرداری سے پہلے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ بلاول بھٹو نے جو مطالبات پورے کرنے کا کہا وہ جمہوری باتیں ہیں۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ وہ سڑکوں پر آ کر اور پارلیمان پر حملہ کر دے گا، دوسرے لیڈروں کی طرح یہ نہیں کہا کر آپ کو دفن کر دوں گا۔ احتجاج ہمارا حق ہے اور جمہوری حق لیں گے جس میں اسمبلی اور عدالتوں میں احتجاج کریں گے۔یہ شاید حکومت کی حکمت عملی ہی ہوگی کہ پی پی پی کے چار نکات پر اب تک بات چیت شروع کرنے میں تاخیر سے کام لیاگیا وگرنہ پی پی پی کے چار نکات ایسے نہیں کہ ان پر بات چیت نہ ہوسکے اور مفاہمت کا امکان نہ ہو۔ تین نکات پر عملدرآمد بظاہر بھی کوئی مشکل نہیں البتہ پانامہ لیکس پر پیپلز پارٹی کے بل کی منظوری میں ممکن ہے کچھ مشکلات حائل ہوں۔ سیاسی جماعتوں میں بھی مطالبات پیش کرنے اور منوانے کا عمل ہوتا ہے تو اس میں لچک اور مفاہمت کی گنجائش ضرور ہوتی ہے۔بلاول کی گرجدار تقریر کے باوجود حکومت اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کے درمیان ایسی صورتحال نہیں کہ مولانا فضل الرحمن کو مفاہمانہ کردار دینے کی ضرورت پڑے۔ ایسا کرکے وزیر اعظم نے ایک طرح سے تحریک انصاف کو پیغام دیا ہے کہ پی پی پی احتجاج کے اعلان کے باوجود بھی حکومت کے لئے غیر نہیں اور تحریک انصاف کی حزب اختلاف کا حصہ ہونے کے باوجود بھی پی پی پی سے قربت مشکل ہے۔ آصف زرداری کا بلاول بھٹو زرداری کو لے کر قومی اسمبلی میں آمد کا عندیہ بھی مفاہمت اور اس حکومت کو پورا پورا موقع دینے کا واضح اظہار ہے۔ ان کی ایوان میں آمد مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے لئے سیاسی طور پر مشکلات کا باعث ثابت بھی ہو جائے تب بھی حکومت خطرے میں نہیں ہوگی۔ 2017ء کا سال انتخابی تیاریوں کا سال ہے۔ اس موقع پر آصف زرداری کے ایوان کی رکنیت کے حصول کا ایک مقصد بعض مبصرین کے مطابق خود کو کسی ممکنہ گرفتاری سے بچانا ہے۔ گو کہ ان کی آمد پر رینجرز کے چھاپے اور ان کے قریبی ساتھی کا سنگین مقدمات بھگتنا خاصی سنجیدہ صورتحال ضرور ہے لیکن اس کے باوجود آصف زرداری کی گرفتاری کاکوئی امکان نظر نہیں آتا اور نہ ہی حکومت ایسا چاہے گی۔ اس کے باوجود کہ سابق صدر نے مفاہمت کے خاتمے اور حکومت کو سبق سکھانے کا بھی اعلان کیا ہے مگر ان کی مفاہمانہ طبیعت ان کے جلال پر ہمیشہ غالب رہی ہے۔ میثاق جمہوریت کی خلاف ورزی سے سیاسی جماعتوں اور نظام کی بقاء کا سوال پیدا ہوگا۔ جواں سال بلاول بھٹو زرداری کی تربیت کا تقاضا خون گرمانے میں ہے۔ بناء بریں اس طرح سے ان کی سیاسی تربیت بہر حال ہوگی۔ یوں پی پی پی معاملات کو آخری نہج پر لے جانے سے گریز کرتے ہوئے ملک میں سیاسی احیاء کی سعی انتخابات تک جاری رکھے گی۔

متعلقہ خبریں