امن کوششوں پر اتفاق

امن کوششوں پر اتفاق

روس، چین اور پاکستان کا افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ میں اضافے پر تشویش کا اظہار سنجیدہ معاملہ ہے جس سے خطے میں نئے خطرے کی بو آتی ہے ۔ قبل ازیں بھی افغانستان ہی کے باعث دنیا کے امن کو جن خطرات کا سامنا کرنا پڑا وہ کسی سے پوشیدہ امر نہیں ۔خطے کے تین اہم ممالک کا طالبان اور افغان حکومت کے درمیان معاملات طے کرنے میں دلچسپی کا اظہار افغانستان کے لئے ایک موقع ہے جسے افغان حکام کو ضائع نہیں کرنا چاہیئے ۔ افغان حکام کو روس کی طالبان سے مفاہمت کی مساعی پر تنقید کی بجائے اس امر پر غور کرنا چاہیئے کہ جن عناصر نے افغانستان کی سرزمین پر روس سے براہ راست ٹکر لی وہ تو مفاہمت پر تیار ہونے لگے ہیں مگر افغانستان کی حکومت اور امریکہ طالبان کو ایک حقیقت تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ طالبان کا خاتمہ اگر اب بھی طاقت سے ممکن ہے تو ایسا کر گزرنے میں تاخیر نہ کی جائے ۔اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ جب تک اختیار نہیں کیا جاتا ا س وقت تک افغانستان کی اندرونی صورتحال میں بہتری نہیں آسکتی ۔ طالبان سے مفاہمت اور مذاکرات اس لئے بھی ضروری ہے کہ داعش کی افغانستان میں نشوونما بڑھنے لگی ہے جو خطرناک عمل ہے یہ عناصر افغان حکومت اور طالبان دونوں ہی کیلئے خطرہ ہیں اور ان کی افغانستان میں آمد خطے میں بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہوگا۔ ان کا مقابلہ اس صورت ہی میں ممکن ہوگا جب افغانستان میں داخلی طور پر مفاہمت کی فضا پیدا ہوگی ۔ جہاں تک خطے کے ممالک کا تعلق ہے خاص طور پر پاکستان نے داعش کے نیٹ ورک کے قیام کی جس طرح سختی سے روک تھام کے اقدامات کئے وہ قابل تحسین ہیں ۔ افغانستا ن کا مفاد اور خطے کے ممالک کا مفاد مشترکہ اور ایک ہے قیام امن اور استحکام امن تمام مفادات کو بالا تر رکھ کر حاصل کیا جائے ۔
میٹروں کی ترتیب بھی درست کرنے پر توجہ کی ضرورت
پیسکو کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے بجلی کی بوسیدہ خطرناک تاروں کی تبدیلی کا اعلان یقینا خوش آئند امر ہے مگر اس کی رفتار اتنی ہونی چاہیئے کہ اس کام کو انجام دینے میں سالہا سا ل نہ گزر یں ۔ شہر میں بجلی کی خطرناک حد تک لٹکتی تاریں اور عمارتوں کے قریب سے گزرنے والی تاریں کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں لٹکتی تاریں صر ف شہر کے قدیم علاقوں ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ حیات آباد جیسی نو آباد بستی میں بھی اس طرح کی خطرناک صورتحال دیکھی جاسکتی ہے ۔ جہاں تک ڈیجیٹل میٹر لگانے کے لئے ایک اچھے انتظام کے ساتھ میٹروں کی تنصیب کی گئی ہے کیا ہی اچھا ہوکہ باقی میٹروں کو بھی اس طرح ایک ترتیب اور نظم کے ساتھ لگایا جائے ۔ میٹروں کی کھمبوں پر خطرناک انداز میں تنصیب کی اصلاح کے لئے پیسکو کو کوئی اضافی سٹاف اور وسائل کی ضرورت نہیں۔ موسم سرما میں بجلی کی بندش اور ٹرانسفار مر وں کی خرابی وتبدیلی کا کا م نہ ہونے کے برابر ہے اگر ہر سب ڈویژن میں موجود کمپلینٹ سیل کے عملے کو روزانہ ایک ایک گلی میں کھمبوں پر میٹروں کو تر تیب سے لگانے کی ذمہ داری دی جائے تویہ کام باآسانی ممکن ہو سکتا ہے ۔ جہاں جہاں بوسید ہ تاروں کی تبدیلی کا عمل کیا جائے وہاں خاص طور پر میٹروں کی تنصیب کو ترتیب اور نظم سے نصب کرنے کی ہدایت کی جائے ۔
کونسلروں میں بے چینی
تحریک انصاف کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کے درمیان سیاسی رسہ کشی اور کشیدگی جس سطح کی بھی ہوا س امر کی نوبت نہیں آنی چاہیئے کہ کونسلر حضرات آپس میں دست وگریبا ں ہو ں۔ ایک خاتون کونسلر کی جانب سے ہراساں کرنے کی شکایت کی اگرچہ متعلقہ کونسلر کی جانب سے تردید کی گئی ہے لیکن کسی خاتون کونسلر کی موجودگی میں مرد کونسلروں کا باہم گالم گلوچ اور تلخ کلامی اور اس میں خاتون کونسلر کی بھی مبینہ شمولیت کسی طور بھی عوامی نمائندوں کے شایان شان نہیں۔ عوام نے بلدیاتی نمائندوں کو اپنے مسائل کے حل کے لئے ووٹ دیا ہے اگر وہ خود مسائل کا شکار ہو جائیں بلکہ مسائل کا باعث بننے لگیں تو عوامی مسائل کے حل کیا ہوگا ۔ بلدیاتی نمائندوں کے درمیان بے چینی کی ایک بڑی وجہ حکومت کی جانب سے اختیارات اور فنڈ ز کا نہ ملنا بھی ہے اور یہ صورتحال ان کے باہم چپقلش کا باعث بھی بن رہی ہے ۔ جس پر اگر توجہ نہ دی گئی تو آئندہ انتخابات میں یہ خود تحریک انصاف کے لئے مشکلات کا باعث ہو سکتا ہے ۔ قطع نظر اس کے کونسلروں کو اختیارات و حقوق اور فنڈ ز کی فراہمی حکومت کا فرض ہے جسے نبھانے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں