افغان امن: پاکستان'چین اور روس کی مشترکہ کوشش

افغان امن: پاکستان'چین اور روس کی مشترکہ کوشش

افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکہ سمیت چار رکنی پہل قدمی افغان انٹیلی جنس کی طرف سے ملا عمر کی وفات سے متعلق خبر کے افشاء کی وجہ سے بے نتیجہ ختم ہو گئی۔ خبروں کے مطابق اس دوران افغانستان میں جو کشت و خون جاری ہے اس میں تیس ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ان میں 12ہزار افغان فوجی تھے ۔ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام سارے خطے خاص طور پرافغانستان کے ہمسایوں کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان ان میں سرفہرست ہے کہ اس کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد مشترک ہے۔ اور سرحد بھی ایسی جس کی نگرانی کا کوئی مستقل بندوبست نہیں۔اس صورت حال کے تدارک کے لیے پاکستان نے پاک افغان سرحدی انتظام پر توجہ دی ہے لیکن سرحدی انتظام کے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں افغانستان کی طرف سے ان کی مزاحمت کی جاری ہے۔ چین کو بھی افغانستان میں بدامنی پر تشویش ہے اور روس کو بھی تشویش ہے کہ افغانستان سے مسلح گروہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے راستے روس میں داخل ہو سکیں گے۔ افغانستان کے ہمسایوں میں افغانستان میں عدم استحکام کی صورت حال پر تشویش لازمی امر ہے۔ جس کے لیے پاکستان چین اور روس کے خارجہ محکموں کے اعلیٰ افسروں کے دو اجلاس ہو چکے ہیں جن کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ تیسرا اجلاس منگل کو ماسکو میں ہوا جس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا تھا جس میں پاکستان کی نمائندگی سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کی۔ اس پر افغانستان نے اعتراض کیا کہ اسے ان مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا۔ ظاہر ہے افغانستان میں قیام امن پر غور ہو اور خود افغانستان کو اس میں شامل نہ کیا جائے یہ بڑی عجیب بات ہے۔ لیکن سہ فریقی انتظام کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اگر ان مذاکرات میں شامل ہونا چاہے تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ روس کی تجویز ہے کہ ایران کو بھی ان مذاکرات میں شامل کیا جائے جو افغانستان کا ہمسایہ اور داعش کے خلاف روس اور ترکی کے اتحاد کا رکن ہے۔ پاکستان، چین اور روس کی مشترکہ کوشش کے آغاز کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں داعش کے عناصر پھیلتے جا رہے ہیں اور وہاں ایسے علاقوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جہاں حکومت افغانستان کی رٹ نہیں ہے۔ اول اول داعش کے وجود کی جب شہرت ہوئی تھی تو اس وقت بھی داعش کے کچھ لشکر افغانستان میں داخل ہوئے تھے جن کی طالبان کے ساتھ جھڑپوں کی خبریں بھی اخبارات میں شائع ہوئی تھیں۔ اس کے بعد جب داعش کے خلاف عراق اور شام میں بین الاقوامی اتحاد نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کیں تو خیال کیا جاتا ہے کہ داعش کی کمان نے اپنے عناصر کو افغانستان سے واپس بلا لیا تھا۔ اب جب شام اور عراق میں بین الاقوامی اتحاد کو کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ داعش کے لشکر پسپا ہو رہے ہیں تو یہ انداز کیا جا رہا ہے کہ داعش کے عناصر افغانستان میں نمودار ہوں گے۔ داعش کے خلاف اتحادیوں کا دعویٰ ہے کہ اس کے کچھ شواہد بھی ان کے پاس ہیں۔ اور اس کو تقویت اس بات سے ملتی ہے کہ افغانستان میں ایسے علاقوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جہاں کسی کی بھی حکمرانی نہیں ہے اور داعش اور دوسرے جنگجو عناصر ان علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ صورت حال افغانستان کے ہمسایوں کی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے کیونکہ اس طرح افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے خود افغانوں کے قائم کردہ خالص افغان امن کے امکانات دور ہو جائیں گے اور نئے جنگجو عناصر کی آمد کے باعث افغان مصالحت اور زیادہ مشکل ہو جائے گی۔ اس سہ فریقی انتظام پر امریکہ کو اعتراض ہے کہ اسے افغان امن کے پراسس سے سائیڈ لائن کیا جارہا ہے ۔ لیکن امریکہ کی شمولیت کے ساتھ جو چاررکنی پہل قدمی کی گئی تھی امریکہ اسے ختم ہونے سے بچا سکتا تھا۔ اگر وہ افغان حکومت کو چار رکنی پہل قدمی کی سرپرستی میں طالبان سے مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ کرتا۔ افغانستان نے بھی اس سہ فریقی انتظام پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ افغانوں کی شرکت کے بغیر نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ 

اس پر سہ فریقی انتظام نے افغانستان کو مذاکرات میں شرکت کی دعوت دے دی ہے۔ اور اگر امریکہ اس خواہش کا اظہار کرے تو یہ بھی قابل غور ہونا چاہیے، کیونکہ مقصد افغانستان میں دیر پا امن قائم کرنا ہے جس کی تعمیر خود افغانوں نے کی ہو۔ اس کے لیے سب سے پہلے افغان حکومت کو افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرنا ہوگا۔ اور ان کے مطالبات کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے سہ فریقی اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان کی مسلح اپوزیشن کو پرامن زندگی کی طرف واپس لانے کے لیے مفاہمت کی کوشش جاری رکھی جائے گی اور یہی بنیادی بات ہے کہ مسلح اپوزیشن پرامن زندگی گزارنے کے امکانات محسوس کرے۔ لیکن افغان حکومت کی پالیسی یہ نظر آتی ہے کہ طالبان کو دباؤ کے ذریعے اپنی پوزیشن پر سمجھوتے پر آمادہ کیا جائے، اس طرح دیر پا امن کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔ افغان حکومت نے گلبدین حکمت یار سے سمجھوتا کیا تو امید تھی کہ وہ مفاہمت کی طرف پیش قدمی پر آمادہ ہے لیکن معاہدے کی بنیادی شرائط میں ایک یہ تھی کہ افغان حکومت گلبدین حکمت یار کا نام اقوام متحدہ کے مطلوب افراد کی فہرست سے نکلوائے گی۔ افغان حکومت نے نہ صرف حکمت یار کا نام مطلوب افراد کی فہرست سے نکلوانے کے لیے خاطر خواہ کوشش نہیں کی بلکہ طالبان کے نئے امیر ملا ہبیت اللہ کا نام اس فہرست میں شامل کرانے کی کوشش کی ہے۔ یہ راستہ طالبان کے ساتھ مفاہمت کی طرف نہیں جاتا بلکہ اس کو مسدود کرتا ہے۔ افغانستان کو اس پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اور سہ فریقی کوشش میں شامل ہو کر خالص افغان امن قائم کرنے کے موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں