پشاورمحروم کیوں ؟؟

پشاورمحروم کیوں ؟؟

پشاور سے تحریک انصاف کے زیر عتاب رکن صوبائی اسمبلی ضیاء اللہ آفریدی نے اچانک متحرک ہو کر پشاور کی تعمیر وترقی کے لئے چندہ مہم شروع کر دی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پشاور کے ترقیاتی فنڈز نوشہرہ، مردان اور صوابی منتقل کر دئے گئے ہیں۔ اگر چہ کسی کی نیت پر شبہ نہیں کیا جا سکتا تاہم قرائین سے واضح ہے کہ ان کے اس طرز عمل میںپشاور کی محبت سے زیادہ ''بغض حکمرانان'' کا عنصر نمایاں ہے۔ وزیراعلیٰ کے خلاف پریس کانفرنس اور اسمبلی کے حالیہ سیشن میں ان کی تقریر اسی سلسلے کی کڑیا ں ہیں۔ اورعوامی سطح پر مہم چلانے کے لئے ان کے پاس پشاور کی محرومی یقینا ایک مقبول نعرہ ہے۔ وزیراعلیٰ اور ان کے حواریوں پر ضیاء اللہ آفریدی کے بدعنوانی کے الزامات کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ ایک الگ موضوع ہے۔ پشاور کو ترقیاتی فنڈز سے محروم کرنے کے حوالے سے اہل حیات آباد بھی چند ہفتے قبل احتجاج کر چکے ہیں۔ 

اور ان کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ فنڈز نوشہرہ منتقل ہوئے ہیں۔ پشاور سے چونکہ سوائے ایک کے تما م ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کا تعلق تحریک انصاف سے ہے اس لئے پشاور کے ساتھ ہونیوالی ناانصافیوں پر آواز اٹھانے والا کوئی نہیں۔ ہاں جب سیاسی یا ذاتی مفادات پرزد پڑتی ہے تو کوئی نہ کوئی دھمکی آمیز بیان سامنے آجاتاہے۔ یہی نسخہ جاوید نسیم ایم پی اے نے بھی آزمایا۔اور آج کل پارلیمانی سیکرٹری کے منصب سے مراعات سمیت لطف اندوز ہورہے ہیں۔ اور ان کے سینے میں پشاوریوں کے لئے اٹھنے والی ٹھیسوں کو اب آرام آگیا ہے ۔جہاں تک پشاور کے ساتھ ناانصافیوں کا تعلق ہے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ نہ ہی کسی ایک پارٹی کی کارستانی ہے بلکہ ہر حکومت نے پشاور کو محروم رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ کہیں یہی محرومی خدانخواستہ پشاور کا مقدر تو نہیں؟ دو ہزار سال سے زائد قدیم تاریخ اور تہذیب کا امین یہ شہر کئی مراحل سے گزرا ہے۔ ترقی اور عروج کا دور بھی دیکھاہے اور ہزاروں حکمرانوں کا مسکن اور راجدھانی بھی رہا۔ لیکن موجودہ دور میں اسے ترقی سے محروم رکھا جارہا ہے۔ اس پر شایان شان توجہ نہیں دی جارہی ۔اس شہر کی قدیم ثقافت بھی تحفظ کی متقاضی ہے مگر اب تو پشاور کا حلیہ ہی بگڑ رہا ہے۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ابتداء میں بلند وبانگ دعوے کئے اور حسین پشاور کا خواب بھی دکھایا۔ دوسال قبل کئے گئے اعلانات کو سامنے رکھ کر انسان سوچ میں ڈوب جاتا ہے کہ کہاں وہ دعوے اور وعدے اور کہاں پشاور کی یہ حالت ؟ حکومت نے پشاور کی سڑکوں بالخصوص حاجی کیمپ سے کارخانو مارکیٹ تک سڑک کشادہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسی طرح چارسدہ اور کوہاٹ بس اڈوں سے بھی ٹریفک رواں دواں رکھنے کے لئے اقدامات کا فیصلہ ہواتھا۔ مگر آج بھی صبح نو بجے سے بارہ ایک بجے تک ان سڑکوں پر سفر کرنا مشکل ہے۔
شہر کے لئے ٹرانسپورٹ انجینئرنگ یونٹ کے قیام کا بھی فیصلہ ہواتھا۔ جس کی کارکردگی اور عملی صورت کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ حاجی کیمپ جدید سہولیات سے آراستہ بس ٹرمینل بھی ایک دلفریب اعلان تھا۔ مگر آج بھی یہ بس اڈہ گرد وغبار سے اٹاہے۔ جہاں گاڑیاں کھڑی کرنے کاکوئی سلیقہ ہے نہ نظم وضبط۔ مسافروں کے بیٹھنے بالخصوص خواتین اور بچوں کے بیٹھنے کے لئے کوئی انتظام نہیں ۔ شہر کے اندر آمد ورفت سہل بنانے کے لئے مونو ٹرین اور تیز رفتار بس سروس کی بھی نوید سنائی گئی تھی۔یہ بھی اعلان ہواتھا کہ پشاور کی سڑکوں پر جی ٹی روڈ سے حیات آباد تک 81خصوصی بس سروس ہوگی ۔ہر 5منٹ بعد بس نکلے گی اور 45 منٹ میں منزل تک پہنچے گی۔ اس منصوبے کے لئے 7ارب روپے مختص کئے گئے تھے۔ ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ ہواتھا کہ یہ منصوبہ ایک سال میں مکمل کیا جائیگا۔
مگر دوسال بعد بھی اس کے آثار تک نظر نہیں آرہے۔شہر کو ''کلین اینڈ گرین''بنانے کا عمل بھی شروع ہواتھا۔ اور اب سال بھر گزرنے کے بعد''گلونہ پیخور''کے نام سے ایک اور منصوبہ شروع کیا جارہا ہے۔ کیا سرسبز اور صاف شہر کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے؟ یا پرانے مشروب کو نئے گلاس میں پیش کیا جارہا ہے؟ شہر کی بوسیدہ پائپ لائن کی تبدیلی کا بھی وعدہ ہواتھا۔ کہ اہالیان پشاور مزید آلودہ پانی نہیں بلکہ صاف شفاف اور صحت بخش پانی نوش کریں گے۔ مگر شاید یہ شفافیت بھی احتساب کمیشن کی طرح انتظامی بھول بھلیوں میں کہیں گم ہوگئی ہے۔ایسے درجنوں وعدے اور اعلانات ہیں جن کی تفصیل میں جانے سے کالم کا دامن تنگ ہوجائے گا۔ بد قسمتی یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں سے وابستہ توقعات بھی دم توڑ گئی ہیں۔
پشاور کی ضلعی حکومت بھی اختیارات اور فنڈز کی رسہ کشی کا شکار ہے۔ اور ٹائون کونسلیں بے اختیاری کا رونا رورہی ہیں۔ اب اہل پشاور جائیں تو جائیں کہاں؟ کس سے فریاد کریں۔ ورنہ اب بھی بہت کچھ کیا جاسکتاہے۔ا صلاح احوال کی گنجائش موجود ہے۔ ارکان اسمبلی اگر منہ میں زبان رکھتے ہیں تو پشاور کا مقدمہ لڑیں اور وزیر اعلیٰ سمیت پارٹی قیادت کو بتائیں کہ انہوں نے دوبارہ بھی انہی پشاوریوں کے پاس جاناہے۔ انہی سے ووٹ طلب کرنا ہے۔ پشاور کے باسی اگر راتوں رات بام عروج پر پہنچا سکتے ہیں، تو انہیں زمین پر پٹخنا بھی آتاہے۔

متعلقہ خبریں