دولت نعمت بھی اور لعنت بھی

دولت نعمت بھی اور لعنت بھی

ہمارے آج کے معاشرے میں یہ بات ایک محاورہ کی صورت اختیار کرچکی ہے کہ ''یہاں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے'' حالانکہ اس بات کا تقدیر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہر انسان کے لئے زندگی گزارنے کے وسائل اور مواقع رکھے ہیں اور ہر انسان تک زندی کی بنیادی ضروریات کی ترسیل اور بہم رسانی کے لئے الٰہی قوانین و نظام کے نفاذ کے لئے اپنے برگزیدہ بندوں انبیاء کرام علیہم السلام کا ایک طویل سلسلہ چلایا جس کی آخری اور کامل کڑی جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے جن افراد کی تربیت ہوئی اور جو معاشرہ تشکیل پایا اس میں عدل و انصاف کے ذریعے ہر انسان کو بلا تفریق رنگ و نسل اور بلا امتیاز مذہب و عقیدہ روٹی کپڑا مکان کی ہر ممکن سہولیات دستیاب وسائل و ذرائع کے مطابق فراہم کی جاتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ اس زمانے میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر نہیں ہوتا تھا بلکہ جو لوگ صاحب حیثیت اور متمول ہوتے تھے اور اپنے مال سے اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق غریبوں کی دستگیری کرتے تھے جس سے معاشرے میں دولت اور اس کے استعمال کے حوالے سے افراط و تفریط نہیں ہوتی تھی۔ اس مبارک زمانے میں دولت و کمائی کا حلال ہونا لازم تھا۔ اس پاک ریاست (مدینہ طیبہ) میں حرام کام و کاروبار کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ اسی وجہ سے بعض ایسے امور کی بھی اجازت نہیں تھی جس سے مالی معاملات اور معاشی سرگرمیوں پر کسی ایک فرد یا گروپ کی اجارہ داری قائم ہونے کا امکان ہو۔ اسلام نے جس طرح غیر اسلامی معاشروں اور تہذیبوں کے پیدا کردہ انگنت معاشرتی' اقتصادی' سماجی' سیاسی اور تہذیبی مسائل کا حل پیش کرکے انسانیت کو مشکلات سے نکالا ۔ اسی طرح انسانی زندگی کے بہت اہم جزو (Component) معاشیات و اقتصادیات جیسے گمبھیر مسئلے کا ایسا حل پیش کیا جس سے انسانیت کو اس دنیا میں سکون واطمینان نصیب ہوا۔ اسلام میں دھن اور دولت زندگی گزارنے کا ایک ذریعہ ضرور گردانا گیا ہے لیکن اس کو مقصد زندگی ہر گز نہیں بنایا بلکہ دولت کے حلال طریقے سے حصول اور استعمال کو مقصد زندگی کے حصول کے لئے بہت بڑا ذریعہ بنا کر پیش کیا ہے۔مملکت خداداد کے قیام کا ایک بہت ہی اہم اور بنیادی مقصد یہ بھی تھا کہ اس عظیم ریاست میں مسلمان مل کر ایسی حکومت تشکیل دیں گے جس میں غریب عوام متحدہ ہندوستان میں ہندو ساہو کار کے معاشی دست برد سے محفوظ ہو کر معاشی سرگرمیوں کو اسلام کے نظام معیشت کے مطابق ترتیب دیں گے جس کا سادہ لفظوں میں مظاہرہ یوں ہوگا کہ دولت مند اور صاحب ثروت لوگوں کے ہاں دھن دولت کی کشادگی کا فیض ان کے غریب رشتہ داروں اور ضرورت مندوں کو پہنچے گا۔ لیکن ستم ظریفی اور بد قسمتی دیکھئے کہ پاکستان کے قیام اور قائد اعظم کی وفات کے بعد یہاں وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے جو چھینا جھپٹی شروع ہوئی وہ آج اس بلندی پر پہنچ چکی ہے کہ کرپشن پاکستان کی پہچان بن چکی ہے۔ کرپشن' حرام اور نا جائز ذرائع سے کمائی گئی دولت کا استعمال بھی ایسے ناجائز کاموں میں ہوتا ہے جس سے ہمارے معاشرے کی پریشانیوں' دکھوں' شکایتوں اور مسائل میں اتنا اضافہ ہو چکا ہے کہ بدیہی نظر میں تو سمجھ نہیں آتا کہ یا الٰہی! اس ملک کے غریب عوام کے دکھ اور پریشانیوں کے حل کے لئے کوئی مسیحا آئے گا بھی کہ نہیں۔ اگرچہ مسلمان کی حیثیت سے مایوسی کفر ہے لیکن جب دنیا بھر سے الگ' انوکھا اور اپنی نوعیت کا منفرد پلی بارگین کا قانون جاری و ساری دیکھتے ہیں تو لوگ مایوسی کی دلدل میں اس لئے گھرتے چلے جاتے ہیں کہ گویا یہاں سرکاری عہدیداروں' وزرائ' امراء اور صاحبان طاقت و اقتدار کے لئے صلائے عام ہے کہ جتنا مار دھاڑ کرسکتے ہو کرو' کہیں بد قسمتی سے گرفت میں آئے تو کوئی بات نہیں ' چالیس ارب میں سے دو ارب واپس کرکے پاک و صاف (سپین باز) ہو جائو۔ کوئی دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کہ دنیا کے کسی اور ملک میں بھی ایسا ہوتا ہے؟۔ ہمارے نام و نمائش' دکھاوے اور ''بڑا'' ہونے کی خواہش اور اس کے لئے حرام و بے لگام کمائی نے ہماری اسلامی اور مشرقی اقدار کا جنازہ نکال دیا ہے۔ اب یہاں شرافت' کردار' تعلیم اور تقویٰ و پرہیز گاری جیسی خوبیوں اور صفات کو کوئی درخور اعتنا نہیں سمجھتا۔ رشتوں ناتوں اور دوستی و تعلق میں دولت' عہدہ اور اقدار ہی کو ترجیح اول حاصل ہے۔ اس رجحان نے دولت ہی کو خوبی کا واحد معیار قرار دیا ہے جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں طبقاتی تقسیم اتنی گہری ہوگئی ہے کہ بعض اوقات یوں لگتا ہے کہ شاید اتنا تو برہمن اور شودر میں فرق نہیں ہوگا۔ کسی دانا نے کیا خوب لکھا ہے کہ ''انسان اور حیوان میں بہت تھوڑا فرق ہوتا ہے اور زیادہ تر لوگ اس فرق کو بھی مٹا دیتے ہیں'' یہ فرق اسی معاشرے میں مٹتا ہے جہاں ہر چیز کو دولت کی باٹ سے تولا جاتا ہے۔ ہم انسان کا وقار اور وقعت بڑھا سکتے ہیں اگر پاکستان کے پاکستان ہی کی بدولت کمائی ہوئی اربوں روپوں میں سے ذرا سی فیاضی اور سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاشرے کے غریب غربا کو خیرات ہی سہی اتنا دینا گوارا کرلیں کہ وہ فاقہ کشی کے ہاتھوں خودکشی نہ کریں یا پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے ڈاکہ زنی پر مجبور نہ ہوں۔ اگر یہ نہ ہوگا تو یاد رکھنا چاہئے کہ معاشی لحاظ سے امیر ترین اور غریب ترین طبقات میں تقسیم معاشروں میں امن' سکون اور خوشحالی نہیں آتی کیونکہ زر قاضی الحاجات بھی ہے اور نعمت بھی' بشرطیکہ اس سے معاشرے کے غریبوں کو بھی فائدہ پہنچایا جائے ورنہ یہی دولت اسی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی لعنت بھی بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں