ہاتھی کے دانت

ہاتھی کے دانت

ہر سال سردی کے موسم میں ایک آدھ کالم موسم سرما کے لذیذ پکوانوں پر ہو جایا کرتا تھا لیکن اس سال تو سردی کا موسم آیا ہی نہیں دسمبر بغیر بارش کے گزر گیا ۔خشک سردی سے چھوٹے بڑے سب نالاں ہیں جسے دیکھیے کھانس رہا ہے زکام کی اٹکھیلیاں بدستور جاری ہیں پہلے لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ خشک سردی کے شاخسانے ہیں ایک آدھ بارش ہوگئی تو نزلہ زکام کو دیس نکالا مل جائے گا جیسے ہی بارش ہوتی لوگ رضائیوں اور گرم کپڑوں کے حوالے سے سیل فون پر پیارے پیارے پیغامات بھجواتے لنڈے بازار کی گرم کپڑوں، کوٹ، سویٹرزسے سجی سجائی دکانوں کی تصویریں اخباری صفحات کی زینت بنتیں لیکن اب کہاں کا دسمبر اور کہاں کی جنوری!سیاست کی گرمی اس پر مستزاد ہے۔ صبح اخبار پر نظر پڑتے ہی بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے سیاستدانوں کی ساری توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر صر ف ہورہی ہیں اور عوام ہونق بنے سیاستدانوں کی پھرتیاں دیکھ رہے ہیں سب کو اپنی فکر ہے اپنی کرسی کی فکر ہے آنے والے الیکشن میں جیتنے کی خواہش ہے اگر فکر نہیں ہے تو ان لوگوں کی جن کے ووٹوں کی مدد سے یہ سب لیڈر بنے پھرتے ہیں کاش یہ زندگی کے حقیقی روپ کو بھی ایک نظر دیکھ لینے کی زحمت گوارا کر لیتے تو کتنا اچھا ہوتا ۔ زندگی کی کہانی بھی کتنی عجیب ہے ایک طرف اغوابرائے تاوان کی وارداتیں عروج پر ہیں چھوٹے چھوٹے بچوں کو اغوا کیا جارہا ہے لوگوں کے گھروں میں دن دیہاڑے چوریاں ہورہی ہیں موٹر سائیکل چھینے جارہے ہیں شہر کی گلیوں میں بدسکونی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں پستول دکھا کر سیل فون اور نقدی سے محروم کردیا جاتا ہے اور اگر مزاحمت کی کوشش کی جائے تو چند لمحوں میں مزاحمت کرنے والا موت کے گھاٹ اتر جاتا ہے شہری آبادیاں تو ایک طرف قبرستانوں میں بھی لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے لوگ مردہ دفنا کر ٹولیوں کی صورت میں واپس آتے ہیں اور اگر کوئی تنہا واپس آئے تو اسے راستے میں لوٹ لیا جاتا ہے سیاستدان ان سب باتوں سے بے خبر کارنر میٹنگز میں مصروف ہیں روٹھے ہوئے کارکنوں کو منایا جارہا ہے اب تو شمولیتی جلسوں کا رواج چل نکلا ہے جب لوگ کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہوتے ہیں تو باقاعدہ جلسہ منعقد کیا جاتا ہے۔ تاکہ مخالف سیاسی جماعت کو بھی مرعوب کیا جاسکے انتخا بات ایک سیاستدان کی زندگی میں بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں انتخابات کا میلہ بھی عوام ہی کے دم قدم سے آباد ہوتا ہے مگر ستم ظریفی کی انتہا تو یہ ہے کہ عوام کے ووٹوں کی مدد سے حکومت بنانے والے سیاستدان سب سے پہلے عوام کو فراموش کردیتے ہیں۔الیکشن کے دنوں میں سیاستدان عوام کے در دولت پر حاضری دیتے ہیں ان سے بہت سے وعدے بھی کیے جاتے ہیں جو کبھی بھی ایفا نہیں ہوتے بس انہیں سبز باغ دکھا کر ان سے ووٹ ہتھیا لیا جاتا ہے۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب قائداعظم اپنے کھانے کے پیسے اپنی جیب سے ادا کیا کرتے تھے آج صدر مملکت اور وزیر اعظم کے کچن اخراجات پر کروڑوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں اسمبلی کے اجلاسوں پر کروڑوں روپے اٹھ رہے ہیں کیا وطن عزیز کا بجٹ اس قسم کے اللے تللے برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہے ؟قوم کا ہر بچہ مقروض پیدا ہوتا ہے اور یہ قرضے روزبروز بڑھتے ہی چلے جارہے ہیںلیکن ارباب اقتدار کے اخراجات ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے اور دبائو پڑتا ہے تو عام آدمی پر جسے عرف عام میں عوام کہا جاتا ہے کبھی پٹرول ، کبھی گیس اور کبھی بجلی کے نرخ بڑھا دیے جاتے ہیں۔ اس سردیوں میں عوام کو جو سب سے شاندار تحفہ دیا جارہا ہے وہ گیس کی لوڈ شیڈنگ ہے صبح ناشتہ وقت پر تیار نہیں کیا جاسکتا اس لیے بچے وقت پر سکول نہیں پہنچ پاتے کم ازکم کھانے کے اوقات میں تو لوڈ شیڈنگ سے غریب عوام کو نجات دلائی جائے ان بیچاروں کا صرف اتنا قصور ہے کہ انھوں نے آپ کو ووٹ دے کر حکمران بنایا ہے ۔سیاستدانوں کی اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ عام آدمی جلسے جلوسوں میں ان کے لیے زندہ باد مردہ باد کے نعرے بھی لگاتا ہے جب لاٹھی چارج ہوتا ہے تو سر بھی غریب کے بچے کا پھٹتا ہے اس کے باوجود جب اسے جمہوریت کے سنہرے خواب دکھائے جاتے ہیں تو یہ ان پر آنکھیں اور دماغ دونوں بند کرکے یقین بھی کرلیتا ہے جب اسے ہم جیسے نادان یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جناب یہ ہاتھی کے دانت ہیں کھانے کے اوردکھانے کے اور ہیںتو یہ ہمارے ساتھ مرنے مارنے پر تل جاتا ہے۔ جب سے وطن عزیز عالم وجود میں آیا ہے عام آدمی سہانے خواب ہی دیکھ رہا ہے! سیاستدانوں سے سو سوالوں کا ایک سوال یہ ہے کہ تمہاری آپس کی لڑائیاں کب ختم ہوں گی؟ اب تو شجرہ نسب کی باتیں بھی چل نکلی ہیں مرحوم بزرگوں کو بھی درمیان میں گھسیٹا جارہا ہے ۔خدا کے لیے عام آدمی کے بارے میں بھی سوچئیے یہ آپ کی سب سے اولین ذمہ داری ہے!

متعلقہ خبریں