تعلیم کے ذریعے فاٹا کی بحالی

تعلیم کے ذریعے فاٹا کی بحالی

یہ فاٹا کی تحصیل باڑہ ہے جس میں ایک حجرے میں قائم عارضی سکول کے خالی کلاس روم میں نو سے سولہ سال کی عمر کے لڑکے زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے کچھ لڑکوں نے سردی سے بچنے کے لئے اپنے سروں کو مفلر اور رومال سے ڈھانپا ہوا ہے۔ ان لڑکوں میں سے ایک نوجوان آصف خان، جو باڑہ خیبر ایجنسی کا رہائشی ہے، کا کہنا ہے '' جو کچھ کلاس میں پڑھایا جاتا ہے مجھے اس کی سمجھ نہیں آتی ۔ مجھے بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ پڑھائے جانے والے سبق کو سمجھنے کی رفتار بہت سست ہے۔ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میرا پڑھنے لکھنے، سیکھنے اور تعلیم حاصل کرنے کا بہترین وقت گزر چکا ہے''۔ آصف خان ضائع ہونے والے وقت پر افسوس کا اظہار کرتا ہے جب اس کو اپنے علاقے میں خانہ جنگی کی وجہ سے تعلیم سے دور رہناپڑا۔ بچوں کی تعلیم کے ہونے والے نقصان پر قابو پانے کے لئے 'آلٹرنیٹو لرننگ سکول (اے ایل ایس)' کا پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔ آلٹرنیٹو لرننگ سکول دراصل اینول ڈیویلپمنٹ پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت شروع کی جانے والی مہم 'لٹریسی فار آل' کا حصہ ہے جس کا مقصد عسکریت پسندی کے شکار فاٹا میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی ہے۔بچوں کے تعلیمی نقصان کو پورا کرنے کے لئے اگرچہ یہ پروگرام نہایت اہمیت کا حامل ہے لیکن اس پراجیکٹ کو سہولیات کی کمی جیسے مسائل کا سامنابھی ہے۔ سکول کی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے سکول کو ایک حجرے کی عمارت میں چلایا جا رہا ہے جہاں پر یہ بچے اس وقت تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ مذکورہ سکول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں میں سے ایک خالد بھی ہے جس کی عمر تیرہ سال ہے اور باڑہ کا رہائشی ہے۔ علاقے میں حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے خالد کو اپنا علاقہ چھوڑ کر جانا پڑا تھا لیکن اب خالد واپس اپنے علاقے میں آ چکا ہے اور اس عمارت سے چند قدم دور ہی تعلیم حاصل کررہا ہے جو ایک زمانے میں عسکریت پسندوں کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ خالد پچھلے دور کو یاد کرتے ہوئے بتاتا ہے '' علاقے میں لشکرِ اسلامی کے اثرورسوخ کی وجہ سے مجھے اپنا گھر چھوڑنا پڑا تھا۔ ملٹری آپریشن کے دوران نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے بہت سے مارٹر شیل فائر کئے گئے تھے جس کی وجہ سے علاقے کے مکینوں کو نقل مکانی کرنی پڑی تھی''۔ 2009ء سے 2014ء تک خالد اور ان کا خاندان لنڈی کوتل کے علاقے زخہ خیل میں قیام پذیر رہا۔ اپنے علاقے میں واپس آنے کے بعد خالد نے فاٹا ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے قائم کئے گئے آلٹرنیٹو لرننگ سکول میں داخلہ لے لیا۔آلٹرنیٹو لرننگ سکول کا مقصد ملٹری آپریشن اور عسکریت پسندی کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے بچوں کے تعلیمی نقصان کو پورا کرنا ہے اور ان کی تعلیم کا تسلسل جاری رکھنا ہے۔ آصف خان کے خیال میں آلٹرنیٹو لرننگ سکول ایک بہت احسن اقدام ہے لیکن وہ سہولیات کی کمی کی شکایت کرتانظر آتا ہے ۔ ا صف خان کہتا ہے '' ہمیں اپنی تعلیم جاری رکھنے اور سیکھنے کے لئے باتھ روم، ڈسٹ بن، فرنیچر، بڑے بلیک بورڈ اور دیگر سہولیات کی ضرورت ہے''۔ فاٹا ایجوکیشن فائونڈیشن کے منیجرپلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ جاوید اقبال کہتے ہیں کہ طلباء کو ڈیسک اور سٹیشنری فراہم کرنے کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ سامان اگلے دو مہینوں میں سکول کو مہیا کر دیا جائے گا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سکول کی نگرانی کا عمل ویلج ایجوکیشن کمیٹی(وی ای سی) کے ذریعے یقینی بنایا جائے گاجو دوپہر دو بجے سے شام چھ بجے کے دوران سکول کا معائنہ کرے گی۔ فاٹا ایجوکیشن فائونڈیشن کے مطابق پورے قبائلی علاقے میں لڑکوں کے لئے 76 سے زائد جبکہ لڑکیوں کے 61 سکول قائم کئے گئے ہیں ۔ ان کمیونٹی بیسڈ سکولوں کا مقصد بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی کے نتیجے میں بچوںکے تعلیمی نقصان کا ازالہ کرنا ہے۔فاٹا ایجوکیشن فائونڈیشن کی جانب سے شروع کئے گئے اس پراجیکٹ کی وجہ سے علاقے کے مکین نہایت خوش ہیں جن میں سے ایک ممتاز آفریدی بھی ہیںجن کے بچے پڑھنے کے لئے دور جانے کی بجائے اب اپنے گائوں میںہی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ممتاز آفریدی کہتے ہیں ''یہاں پر تعلیم حاصل کرنے والے بچے مستقبل میں ڈاکٹر، انجینئر، ٹیچر بننے کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دیں گے '' ۔ فاٹا کے متاثرہ علاقوں میں فاٹا ایجوکیشن فائونڈیشن کو 175 سکول قائم کرنے کا ہدف دیا گیا تھا جس میں سے 137سکول قائم کئے جاچکے ہیں جس کی بدولت نہ صرف بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں بلکہ علاقے کے مکینوں کے لئے بھی روزگار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔

اس پراجیکٹ کے ذریعے جہاں مقامی نوجوان روزگار حاصل کریں گے وہیں پر طلبا و طالبات پانچویں جماعت کا سر ٹیفکیٹ حاصل کرسکیں گے جو دیگر سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں قابلِ قبول ہوگا۔ اس سال کے اوائل میں خیبر پختونخواہ کے گورنراقبال ظفر جھگڑا نے فاٹا کے چار لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے کے لئے 'ایمرجنسی انرولمنٹ پلان' کا آغاز کیا تھا جس میں سے اس سال کا ہدف 150,000 بچوں کو سکولوں میں داخل کرنا تھا۔آلٹرنیٹو لرننگ سکول پراجیکٹ اپنے اہداف حاصل کرنے کی جانب گامزن ہے جس کی وجہ سے آصف خان اور خالد جیسے بچوں کو امید کی ایک نئی کرن ملی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے خوابوں کو سچ کرسکتے ہیں۔
(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں