مشرقیات

مشرقیات

حضرت عمرو بن شرحبیل فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو جب مرنے کے بعد دفن کیاگیا تو اس کے پاس فرشتے آئے اور کہا کہ ہم تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے سو کوڑے ماریں گے۔اس نے اپنے روزوں' نماز اور محنت و ریاضت کا ذکر کیا تو انہوں نے تخفیف کرکے دس کوڑے کردئیے۔ اس نے دوبارہ بات چیت کی تو معاملہ ایک کوڑے پر آکر ٹھہر گیا اور کہا کہ بس یہ ضروری ہے۔
چنانچہ انہوں نے ایک کوڑا مارا تو پوری قبر آگ سے بھر گئی اور اس کو ہوش نہ رہا۔ جب ہوش آیا تو اس نے پوچھا کہ مجھے یہ کوڑا کس غلطی کے بدلے مارا گیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ تو ایک دن سو کر اٹھا تو نے نماز پڑھی مگر تو نے وضو نہیں کیا تھا اور ایک مرتبہ ایک مظلوم شخص نے مدد مانگی تونے مدد نہیں کی۔حضرت ابن عبداللہ بجلی کا بیان ہے کہ ہمارا ایک پڑوسی وفات پاگیا' ہم نے اس کی تجہیز و تکفین کے لئے جب قبر کھودی تو اس میں سے بلی کے مشابہ ایک جانور نمودار ہوا۔
اس کو قبر سے بھگانے کی بہت کوشش کی گئی لیکن وہ نہ بھاگا۔ گورکن نے کدال اس کی پیشانی پر ماری مگر پھر بھی وہ نہ بھاگا۔
مجبور ہو کر دوسری قبر کھودی گئی' اس قبر میں بھی اسی طرح جانور نکل آیا اور کسی طرح سے بھی وہ جانور وہاں سے نہ ہٹا۔ ہم مجبور ہو کر تیسری قبر کھودنے لگے' جب تیسری قبر کی لحد تیار ہوئی تو اچانک وہ جانور اس سے بھی نکل پڑا اور کسی صورت نہ بھاگا۔
ہم لوگ مجبور ہوگئے اور اسی میں میت کو دفن کردیا۔دفن کے بعد ہم نے اس کی ہڈیوں کی آواز سنی' یہ ایسا عجیب واقعہ تھا کہ پہلے کبھی پیش نہ آیا تھا۔ ہم نے اس مردہ کی بیوی سے واقعہ بیان کرکے دریافت کیا کہ تیرا شوہر کیا عمل کرتا تھا؟ تو اس نے بتایا کہ وہ غسل جنابت نہیں کرتا تھا۔
حضرت عمرو بن دینار کا بیان ہے کہ مدینہ میں رہنے والے ایک شخص کی بہن کا انتقال ہوا تو اس کی تجہیز و تکفین کرکے اس کی تدفین کردی گئی۔ تدفین کے بعد بھائی جب گھر آیا تو اس کو یاد آگیا کہ ایک تھیلی قبر ہی میں بھول آیا ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے ایک دوست کو ساتھ لیا اور بہن کی قبر پر جا کر قبر کھودی اور اپنی تھیلی لے لی۔ پھر اس نے اپنے دوست سے کہا کہ تم ذرا ایک کنارے ہو جائو' میں دیکھوں کہ میری بہن کس حالت میں ہے۔
دوست الگ ہوگیا اور اس نے لحد پر سے اینٹ کھول کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہے کہ قبر شعلے مار رہی ہے۔ اس نے فوراً اینٹ اپنی جگہ پر رکھ کر قبر کو بند کردیا اور گھر آکر اپنی ماں سے اس کا حال پوچھا۔ ماں نے کہا کہ وہ نماز دیر کرکے پڑھا کرتی تھی اور میرا خیال ہے کہ وہ بے وضو بھی نماز پڑھتی تھی اور پڑوسی جب سو جاتے تو ان کے دروازوں پر جاکر کان لگاتی اوران کی باتیں سن کر ادھر ادھر پھیلاتی تھی۔ (عذاب قبر کے مناظر)

متعلقہ خبریں