حقیقی احتساب کا آغاز

حقیقی احتساب کا آغاز

اعصاب شکن انتظار کے بعد وزیر اعظم محمد نوازشریف کے خلاف بالا خر آنے والے فیصلے میں نہ صرف وہ نااہل ہوگئے ہیں ، امین اور صادق کے معیار پر پورا نہیں اتر تے بلکہ الیکشن کمیشن کے قوانین کی رو سے اب وہ اپنی جماعت مسلم لیگ (ن) کے قانونی سربراہ کے عہدے سے بھی محروم ہوگئے ہیں جن کو اب نیب میں اپنے بچوں داماد اور سمدھی سمیت ایک ایسے ریفرنس کا سامنا کرنا پڑے گا جو چھ ہفتوں میں دائر اور چھ ماہ کے اندر اس کا فیصلہ بھی آئے گا جس کی نگرانی سپریم کورٹ کے ایک جج کے کرنے سے اس امر کی مزید تفتیش ہونے کی ضمانت ہوگی کہ یہ وطن عزیز میں طاقتور ترین عناصر سے حقیقی احتساب کا آغاز ہوگا ۔ گوکہ اس فیصلے کو سیاست زدگی اور بعض اداروں سے بنا کر نہ رکھنے جیسے معاملات سے تعبیر کرنے کی گنجائش ہے اور ایسا کہا جانا عین متوقع بھی ہے اس ضمن میں قانونی نکات کا بھی سامنے لانا بعید نہیں لیکن تمام تر امکانات کے باوجود اس فیصلے کو وطن عزیز میں طاقتور عناصر کے احتساب کی پہلی کڑی کے طور پر دیکھنے کی بڑی گنجائش ہے اور اس فیصلے میں اگر من حیث المجموع خیر کا کوئی پہلو نکلتا ہے وہ یہی ہے ۔ اس فیصلے کے بعد سندھ کے وزیر اعظم کو سزااور پنجاب کے وزیر اعظم کو چھوڑ دینے کے تاثر اور الزامات کا بھی خاتمہ ہونا چاہیئے۔ درحقیقت عدالت شواہد کی بنیاد پر فیصلے دیتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ تاثر بعض اتفاقات کی بنا پر قائم ضرور تھا جس کا اب ازالہ ہونا چاہیئے ۔ گوکہ عدالتی فیصلے پر تبصرہ کرنے کی گنجائش نہیں لیکن اگر بنظر غائر دیکھاجائے تو عدالت عظمیٰ کا محولہ فیصلہ اس قدر جامع اور سخت آیا ہے کہ سپریم کورٹ میںسماعت اور جے آئی ٹی کی رپورٹ میں جو شواہد اور معاملات سامنے آئے جن کا دفاع نہ کیا جا سکایا سوالات کے جوابات تسلی بخش نہ پائے گئے فیصلے میں اس حوالے سے کوئی گنجائش کوئی ابہام اور کوئی جھول نہیں رکھا گیا بلکہ اس کیس سے متعلق سارے کرداروں کو برابر کا قصور وار گردانا گیا ۔سینیٹرو وزیر خزانہ اسحق ڈار بھی پوری طرح اس کی زد میں آئے ۔ اس فیصلے کے سیاسی مضمرات جو بھی ہوں اور فیصلے پر سیاسی فوائد اور نقصانات جس کے جس حصے میں آئے ہوں وہ سیاسی جماعتوں کے معاملات ہیں۔ اب جبکہ صاف اور شفاف طریقے سے اس کیس کا فیصلہ سامنے آگیا ہے تو متاثرہ فریق کی جانب سے تو جیہات ت پیش کرنے کی گنجائش ہے اور ایسا کرنا فطری امر ہے لیکن جن جماعتوں کی جدوجہد اور قانونی جنگ کو سرخروئی نصیب ہوئی ہے اگر ان کی جانب سے اس معاملے کو سیاست سے جوڑ نے کی کوشش کی گئی اور اس فیصلے اور خاندان تک اسے رکھنے پر اکتفا کیا گیا تو ان کی جانب سے عملی طور پر اسے وزیر اعظم کو عہدے سے محروم رکھنے کے مقصد تک محدود کرنا عملی طور پر ثابت ہو جائے گا جسے حقیقی مقصد کے حصول سے عوامی سطح پر تعبیر نہیں کیا جائے گا ۔اگر محولہ سیاسی جماعتیں اب ایک طاقتور کے احتساب کے بعد ماضی کے حکمرانوں ، سیاستدانوں ، اہم شخصیات ، بیور و کریٹس ، جرنیلوں اور صحافیوں تک کے احتساب کے عمل میں اسے تبدیل کرنے کی سعی کے طورپر بر قرار رکھتی ہیں اور ان عناصر کے خلاف بھی ہموار فضا میں عدالتوں اور نیب میں زیر التواء مقدمات کو کھولنے کی عوامی اور قانونی جدوجہد کا راستہ چنتے ہیں تو یہ ان کے خلوص اور ملک میں حقیقی احتساب اور قوم کا پیسہ لوٹنے والوں کے خلاف حقیقی معنوں میں مہم ہوگی جس کا عوام خیر مقدم کریں گے ۔جہاں تک ملکی اداروں کا سوال ہے ہمارے تئیں اس مقدمے کی کارروائی اور فیصلے تک کے مراحل کا جائزہ لیا جائے تو اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اداروں کو ماضی کے برعکس اس مرتبہ عوامی تائید و حمایت زیادہ واضح اور بہتر انداز میں حاصل تھی جس کی وجہ سے ایک ایسا ماحول بنا جس میں فیصلہ ساز اذہان کو مصلحتیں اور مصلحتوں پر مبنی نکات تلاش کرنے کی بجائے صاف واضح اور کھرے انداز میں ایک ایسا فیصلہ دینے کا موقع میسر آیا جو ملکی تاریخ میں اہم ترین اور تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا بشرطیکہ اس چلتی گاڑی کو یہیں پر بریک نہ لگ جائے ۔ نواز شریف اور ان کے اہل خاندان کے خلاف نیب میں ریفرنس بھیجنے کے فیصلے کو اگر خود معززعدالت کے اس بنچ کے ایک جج کے ریمارکس کی رو سے دیکھا جائے اور نیب کے ماضی مقدمات کا جائزہ لیاجائے تو ایک گونہ مایوسی کا احساس ہونا فطری امر ہوگا لیکن یہاں عدالت نے ایک جسٹس کی نگرانی اور چھ ماہ کاوقت مقرر کرکے اس کمزوری کودور کرنے کا بندوبست کر رکھا ہے اس کے باوجود بھی ہمارے تئیں زندہ درگورنیب کو نئی روح بخشنے کیلئے صرف ایک مقد مے میں عدالت کی اتنی دلچسپی اور اقدامات کافی نہیںجب تک نیب کے قوانین اور طریقہ کار میں اس قسم کی تبدیلی نہیں لائی جاتی جس کے نتیجے میں نیب کو ہر طاقتورکا حقیقی احتساب کرنے کے قابل ادارہ نہ بنایا جائے۔ اس فیصلے سے وطن عزیز میں احتساب کی کیا نئی راہیں کھلتی ہیں اور اس ضمن میں وابستہ عوامی توقعات کس حد تک پوری ہوتی ہیں اور خاص طور پر سیاسی جماعتیں اس ضمن میں کیا کردار ادا کرتی ہیں وہ زیادہ اہمیت کے حامل معاملات ہوں گے ۔ جہاں تک اس فیصلے کے اثرات و مضمرات کا تعلق ہے اس سے انکار نہیں کہ اس فیصلے کے عدالتی ، عوامی حکومتی اور سیاسی مضمرات ہوںگے ۔ متعلقہ فورمز اور فریقوں کو اس امر کا ادراکر کونے کی ضرورت ہے کہ اس ساری صورتحال میں وطن عزیزمیں حکومتی ، ملکی اور سیاسی عدم استحکام اختلافات اور خدا نخواستہ انتشارکی نوبت نہ آئے ۔ اس فیصلے کے اثرات کو تضادات اور منفی معاملات کا حامل بنانے کی بجائے ذمہ دارانہ کردار کی ادائیگی کے ذریعے اسے ایک عدالتی فیصلہ ہی رہنے دیا جائے ۔ حکومتی سطح پر وزیر اعظم کی نا اہلی اور اس کا بینہ کی تحلیل کے بعد جو خلا پیدا ہوا ہے اس کے پر کرنے کاطریقہ کار موجود ہے جس پر کم سے کم وقت میں عمل کر کے قیام حکومت اور استحکام حکومت کی ذمہ داریاں پوری کی جائیں تمام ریاستی اداروں کی بھی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ضمن میں آئینی وقانونی ذمہ داریوں کو درست انداز میں پورا کریں ۔مسلم لیگ (ن)میں حکومت سازی اور جماعتی قیادت پر جتنا جلد اتفاق رائے سامنے آئے اتنا ہی سب کیلئے بہتر ہوگا ۔ گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میںبطور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ملک کو گھیرنے کی کوششوں اور جس ناز ک ملکی صورتحال کی نشاندہی کی تھی ان معروضات کو ایک ذمہ دار اوربا خبر شخصیت کی طرف سے پوری ذمہ داری اور درمندی قوم اور اداروں کو آگاہ کرنے کا اقدام سمجھ کر مزید ذمہ دارانہ اور احتیاط کے تقاضوں کے مطابق لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر چوہدری نثار علی خان نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور جماعت کے ساتھ اپنی وابستگی و وفاداری کو تمام شکوک و شبہات سے بالا تر گردان کر عدالتی فیصلہ قبول کرنے اور محاذ آرائی سے گریز کا جو زریں مشورہ دیا ہے اس کو جذبات سے نہیں ٹھنڈے دل سے لیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے ۔ وزیر اعظم کے نااہل ہونے اور کابینہ کی تحلیل کوئی بحرانی صورت نہیں اور نہ ہی اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے آئین میں اس کا حل موجود ہے ۔ یقینا ہم نے اس ملک کا تحفظ کرنا ہے اور اس ملک کے تحفظ کی جتنی ذمہ داری اس کے ذمہ داروں حکمرانوں اور عوام پر عائد ہوتی ہے اس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں ۔ ملک میں امن وامان ، داخلی استحکام سی پیک جیسے بڑے اور اہم ترین منصوبے کو آگے بڑھانے اور کامیاب بنانے کیلئے ضروری ہے حکومت کے خاتمے اور سیاسی عدم استحکام کے باعث اس پر پڑنے والے اثرات کو اس قدر کم سے کم کرنے کی پوری کوشش کی ضرورت ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر ان حالات کا کوئی اثر نہ پڑے ۔ ہمارے تئیںذمہ دارانہ اور مبنی بر خلوص کردار کا ہر سطح پر مظاہر ہ نہ صرف اس وقت کی اہم ضرورت ہے بلکہ اس کا اظہار مسلسل اور ہر وقت ہونا ضروری ہے ۔ اب جبکہ ایک اعصاب شکن صورتحال کا نتیجہ سامنے آیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کو اب طے شدہ گردان کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے آگے چل کر مزید سیاسی مقدمات کا فیصلہ بھی سامنے آنا ہے جس کے لئے موجودہ فیصلہ ایک نظیر کا حامل قرار پا سکتا ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کو اس قدر کھینچ تاننے سے گریز ہی بہتر ہوگا تاکہ آج سیاسی جیت نظر آنے والا ماحول اگر بصورت دیگر کے طور پر سامنے آئے تو اس کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ ہمارے تئیں اس وقت کے معاملات کو خواہ جس قدر بھی قانونی اور آئینی قرار دیا جائے اور در حقیقت یہ ہے بھی ایسا ہی ، لیکن سیاست اور سیاسی معاملات کو اس ساری صورتحال سے اس لئے الگ تھلگ نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے نتیجے میں ملک کی ایک بڑی مضبوط اور منظم جماعت کی قیادت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں حکومتی اور سیاسی قیادت میں تبدیلی آئی ہے۔ ایسے میں اس کے سیاسی اثرات اور مضمرات کا آئندہ عام انتخابات تک جاری رہنا فطری امر ہوگا۔ آنے والے انتخابات میں عوام کس کو قابل احتساب گردانتے ہیں اور اقتدار کا ہما کس کے سر بٹھانے کا فیصلہ کرتے ہیں سیاسی دنیا میں ان سارے امور کو مد نظر رکھنا اور اس کے مطابق فیصلہ کرنا ہوگا ۔ عدالتی اور قانونی معاملا ت سے قطع نظر سیاست کی دنیا میں اس طرح کی صورتحال اہلیت و نا اہلی یہاں تک کہ جیل اور ملک بدری اقتدار کے کھیل اور معمولات کا حصہ گردانے جاتے ہیں ۔ سیاسی دنیا میں اس طرح کے معاملات کا حل یا پھر ان کا ازالہ سیاسی طورپر کیا جاتا ہے بعض منفی معاملات کو اس مہارت کے ساتھ مثبت اور مظلومیت کی داستان بنا کر پیش کیا جاتا ہے کہ بظاہر تباہی پر مبنی معاملات کو عوامی سطح پر اس انداز میں کیش کیا جاتا ہے کہ عوام کی ہمدردیاں تمام تر تقاصیر کے باوجود معتوب سیاسی جماعت کو حاصل ہوتی ہیں ۔ بہر حال ان سارے امکانات کی نہ صرف گنجائش موجود ہے بلکہ اس کے مظاہر کا سامنے آنا بھی غیر متوقع اور عجب نہ ہوگا ۔ آنے والے دن قانونی اور آئینی طور پر ہی کٹھن دکھائی نہیںدیتے بلکہ سیاسی طو رپر بھی ملک میں نئی صف بندیوں میں کچھ ایسے عجائب کا ظہور ناممکن نہیں جس کے نتیجے میں آج ایک صف میں کھڑی جماعتیں مد مقابل آجائیں۔ ان سارے معاملات کا دار ومدار اس امر پر دکھائی دیتا ہے کہ احتساب کا مطالبہ کرنے والے صرف اسی پر اکتفا کریں گے ۔یا پھر ملک میں مزید احتساب کے مطالبات اٹھنے پر خود ہی اختلافات کا شکار ہوتے ہیں اور احتساب کا عمل ہی خدا نخواستہ دھندلا جاتا ہے ۔

متعلقہ خبریں