حال بد گفتنی نہیں ، لیکن ۔۔۔۔۔

حال بد گفتنی نہیں ، لیکن ۔۔۔۔۔

بالآخر پانامہ کیس پرسپریم کورٹ کا فیصلہ آہی گیا ۔ فاضل عدالت کے فل بنچ نے پرائم منسٹر نواز شریف کو واضح اور متفقہ طور پر نااہل قرار دیدیا ہے ، اس حوالے سے جو فیصلہ سامنے آیا ہے اس کے مطابق دو فاضل جج صاحبان پہلے ہی وزیر اعظم کو نااہل قرار دے چکے تھے جبکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد باقی تین فاضل جج صاحبان نے بھی انہیں نااہل قرار دیدیا ہے ، جبکہ شریف فیملی کا کیس نیب کو بھجوا نے کی بھی ہدایت کر دی ہے ۔ ان سطور کو تحریر کرنے کے دوران ہی یہ تازہ ترین خبر بھی آئی ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنے منصب سے سبکدوش ہونے کا اعلان کر دیا ہے ، (ن) لیگ کے ترجمان نے کہا ہے کہ باوجود شدید تحفظات اور مقدمے کے آغاز سے لیکر اختتام تک بار بار اعتراضات کے باوجود ان کے اعتراضات کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ۔ فاضل عدالت کے فیصلے کے حوالے سے بھی اور اس سے پہلے عدالتی کارروائی کے دوران مختلف مواقع پر ماہرین آئین و قانون جس قسم کے خیالات کا اظہار کر رہے تھے وہ آراء بھی منقسم تھیں ، بعض قانونی ماہرین اگر موجودہ فیصلے کے حوالے سے فاضل عدالت کو سپورٹ کرتے دکھائی دے رہے تھے کہ عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف کو براہ راست نااہل قرار دے سکتے ہیں تو بعض اس بات پر زور دے رہے تھے کہ فاضل عدالت ملزم یا ملزمان کو اپیل کے حق سے محروم کر کے نااہلی کا حکم جاری نہیں کر سکتے اور اس سے پہلے ایسی مثال نہیں ملتی ، اس سوچ کے حامل ماہرین قانون کے مطابق اگر عدالت نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ صادر کرتی ہے تو اس سے پاکستان کی سیاسی ، سماجی صورتحال بہت بدل جائے گی اور آئندہ ماتحت عدالتوں کی جانب سے کسی کو بھی نااہل قرار دینے کا حق حاصل ہوجائے گا جس سے سیاسی حلقوں کو آگے جا کر بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ٹی وی چینلز پر تجزیہ کار ابھی سے ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس فیصلے کے اثرات آنے والے دنوں میں دیگر کئی جماعتوں کے رہنما ئوں پر بھی پڑنے والے ہیں ۔ 

صورتحال اب یہ ہوگئی ہے کہ نواز شریف کے خلاف آنے والے فیصلے کے بعد ماہرین کے مطابق اب میاں نواز شریف وزارت عظمیٰ ، ممبر پارلیمنٹ یہاں تک کہ مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے بھی اہل نہیں رہے ، یعنی وہ اب پارٹی عہدے پر بھی نہیں رہ سکتے ، اس لئے سب سے پہلے اور بڑا مرحلہ تو نئے وزیر اعظم کی تقرری کا فیصلہ ہے ، جبکہ نئے وزیر اعظم کی تقرری کے بعد نئی کابینہ میں شمولیت کیلئے بھی لیگ (ن) کی صفوں میں ہلچل کی خبریں آرہی ہیں اور چند روز سے یہ جو بعض حلقوں کی جانب سے پانامہ کے فیصلے کے بعد (ن) لیگ میں دراڑیں پڑنے کی باتیں کی جارہی تھیں ، اور اب بھی بعض اینکر ز زور و شور سے یہ دعوے کر رہے ہیں ، تو ان پیشگوئیوں پر عمل در آمد کے امکانات کم کم ہی دکھائی دیتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی پنجاب جیسے بڑے صوبے میں اسی جماعت ہی کی حکومت ہے بلکہ پنجاب حکومت کی باگ ڈور شریف فیملی ہی کے پا س ہے ، جبکہ مرکز میں ن لیگ ابھی تک In-tactہے ، اور امکان اسی بات کا ہے کہ اگلے سال مارچ میں سینیٹ کے انتخابات ہونے میں جس میں مسلم لیگ (ن) کے اکثریت میں آنے کے امکانات روشن ہیں ، اور اسی حوالے سے ابھی ن لیگ کی صفوں میں جس قسم کی دراڑیں پڑنے کی باتیں کی جارہی ہیں ،وہ شاید اس طرح سے سامنے نہ آئیں ، اگر چہ مسلم لیگ کے دیگر دھڑے اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بانہیں کھول کر لیگ ن کے ممکنہ بھگوڑوں اور لوٹوں کو قبول کرنے کی جتنی بھی کوششیں کی جائیں ، کم از کم ان جماعتوں کی توقعات اس سطح تک نہیں پہنچ سکتیں جس کی توقع کی جارہی ہے ۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ ملکی سیاسی صورتحال میں جو ہری تبدیلی آنے کے امکانات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ، کیونکہ مسلم لیگ (ن) پر قابض شریف خاندان سے اگر یہ جماعت گلو خلاصی پا گئی ہے تو امید یہ ہے کہ اب دیگر سیاسی خاندانوں کا نمبر بھی آنے والا ہے ، بد قسمتی سے پاکستان میں جس جمہوریت کا ڈھنڈورہ پیٹا جارہا ہے ، اس کی حقیقت اور اصلیت یہ ہے کہ یہاں مختلف سیاسی جماعتوں پر شخصیات کی بادشاہی قائم ہے اور پارٹی کے تمام معاملات ان شخصیات کے چشم وا برو کے تحت ہی چلائے جاتے ہیں ۔ اس ضمن میں پاکستان پیپلز پارٹی ہو ، تحریک انصاف ہو ، لیگ (ق) ہو یا مختلف صوبوں کے اندر صوبائی یا علاقائی جماعتیں ، تمام پر خاندانی سیاست چھائی ہوئی ہے اور جو بھی سیاسی جماعت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ جمہوریت کے فروغ میں یقین رکھتی ہے اور جمہوری اقدار کی پاسداری کرتی ہے وہ انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی سے جھوٹ بول کر عوام کو دھوکہ دے رہی ہے۔ ملک میںجس قسم کی لوٹ مار ، کرپشن اور اپنے اصل اثاثے چھپانے کی دوڑ لگی ہوتی ہے اور جس کی و جہ سے ملک بیرونی قرضوں میں روز بروز جکڑ تا چلا جارہا ہے جب کہ غریب عوام دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں ، اس کا علاج صرف اور صرف یہی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے نام پر ان خاندانی سیاسی کلبوںسے ملک کو چھٹکارا ملے ۔ مگر بد قسمتی سے ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا ،کیونکہ عوام کا مزاج بھی ان 70برسوں میں ان سیاسی خاندانوں کے ذاتی غلاموں کا سابن چکا ہے ، اور ایسا ا س لئے ہوا کہ ان سیاسی وڈیروں نے عوام میں سیاسی شعور بیدار کرنے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا ، بلکہ الٹا انہیں شاہ دولا کے چوہے بنا کر رکھ دیا تاکہ یہ ان سے کوئی سوال ہی نہ کرسکیں ۔ بہر حال اب اس ملک کے اہل دانش (ماسو ا ئے سیاسی جماعتوں سے وابستہ مفاد پرست غلام ) کو اس سوال پر توجہ دینا پڑے گی کہ ن لیگ کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں کے اندر شخصیت پر ستی سے عوام کو بچانے کیلئے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیئے ، تاکہ واقعی جمہوریت کی حقیقی صورت سامنے آسکے ۔
حال بد گفتنی نہیں، لیکن
تم نے پوچھا تو مہربانی کی

متعلقہ خبریں