تعلیم اور نظا م تعلیم

تعلیم اور نظا م تعلیم

کسی بھی قوم کے کچھ نصب العین ہوتے ہیں اور ان کا حصول اس قوم کا مطمح نظر ہوتا ہے۔اسی نصب العین کے حصول کے لیے قومیں اپنے نظام کو تشکیل دیتی ہیں۔جسے قومی پالیسی کہتے ہیںاور خاص طور پراس نظام میں تعلیم کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ تعلیمی نظام ہی کے ذریعے مستقبل کی ضرورتوں کے مطابق افرادی قوت تیار کی جاتی ہے اور یہ کسی قوم کا تعلیمی نظام ہی ہوتا ہے جو کسی قوم کے اجتماعی تشخص کی بنیاد تیار کرتا ہے۔ایک قومی سوچ کی تشکیل بھی اسی تعلیمی نظام کے مرہونِ منت ہوتی ہے۔کیونکہ کسی بھی ملک میںمختلف نسلوں ،زبانوں اور مسلکوںکے لوگ بسا کرتے ہیں۔اس لئے ان کی نسلی عصبیت پرقومی عصبیت کو برتر لانااس ملک کے لیے ہی بہتر ہوتا ہے۔ ہمارے سامنے بہت سے معاشرے مثال کے لئے موجود ہیں کہ جہاں کثیر المذہبی،کثیراللسانی اور کثیرالنسلی عوام بستے ہیں۔ اُن معاشروں میں ان تمام تر مذکورہ بالا عصبیتوںکوقابو میں رکھنے کی ایک ہی صورت پرکام کیا جاتا ہے کہ ایک قومی سوچ کی تشکیل کی جائے۔جس سے وہ تمام عصبیتیں قومی دھارے میں داخل ہوجاتی ہیں۔ہمارے ہاں یوں تو کئی تعلیمی پالیسیاں مرتب کی گئی ہیں ۔اور ہنوز مرتب ہوتی جارہی ہیں۔مگر وہ نتائج جو ہمیں درکارتھے شاید وہ ہم ابھی تک حاصل نہیں کرپائے۔اور شاید ہماری سب سے بڑی بدقسمتی بھی یہی رہی ہے۔کہ قوم نے اپنا پیٹ کاٹ کر جو دولت حکومتوں کو دی حکومتوں نے ان رقوم سے بہت سے سفید ہاتھی تو پالے رکھے مگر تعلیم جیسی اہم ضرورت کو درخورِاعتناء نہ سمجھاگیا۔ مزید بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ تاحال تعلیم کی قومی اہمیت کو نہیں سمجھا گیا ہے۔اکبر الٰہ آبادی نے کہا تھا کہ 

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
اکبرنے تو یہ شعر سرسید کی مخالفت میں کہے تھے مگر مطالب سے یہ بات ضرور سامنے آتی ہے کہ تعلیمی نظام ہی کسی کے ذہن کو کس طرح بدل سکتا ہے۔ہمارا پیارا ملک شاید دنیا کا واحد ملک ہوگا کہ جہاں ایک سے (کئی)زیادہ تعلیمی نظام ایک ساتھ چل رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ایک ہمارا سرکاری اردو میڈیم سکول سسٹم ہے۔دوسرا انگلش میڈیم سسٹم۔ (اس میں بھی اختلاف ہے کوئی آکسفورڈ پڑھا رہا ہے تو کوئی کیمبرج۔اور کوئی دونوں کا ملغوبہ)اور ایک مدرسوںکا نظام ہے۔(یہ بھی کئی قسموں کا ہے۔جس نے جو پڑھا دیا اللہ بسم اللہ)آپ پوچھیں مجھے کیا اعتراض ہے اور ان مختلف نظام ہائے تعلیم سے مجھے کیا تکلیف؟۔اور قوم کو بھلا کیا نقصان؟لوگ سکول اور مدرسے کھول رہے ہیں اور والدین اپنی اپنی مرضی سے بچوں کو داخل کروارہے ہیں۔توعرض یہ ہے کہ ہمارے اردو میڈیم اور گلی محلوں اور تجارتی ماڈل سکولوں سے ایک خاص قسم کی مڈل کلاس نسل اپنے احساس کمتری کی گٹھری کا بوجھ کاندھے پہ اٹھائے پیدا ہورہی ہے،جبکہ ''پنج ستارہ''سکولوںسے ایک دوسری کلاس جنم لے رہی ہے جو حکمران کلاس بھی کہی جاسکتی ہے۔جبکہ مدرسوں سے کسی اور قسم کی کلاس ڈھلی ڈھلائی سامنے آرہی ہے۔ پہلے ہم جنریشن گیپ کا سنتے تھے، مگر اب تو ہمارے موجودہ تعلیمی نظام کی بدولت ایک ہی نسل میں بہت بڑا گیپ سامنے آرہا ہے۔اورایک ہی نسل کی یہ تینوں کلاسیں اپنی اپنی سوچ کے ساتھ اپنی اپنی طرز کی زندگی گزار رہی ہیں۔تعلیمی نظام صرف ادارے کھو لنے کا نام نہیں بلکہ قومی نصب العین کا نام ہے ۔ ہمارے ہاں ہوا یہ ہے کہ ہم مغرب سے اپنے لئے تعلیمی نظام درآمد کرتے رہتے ہیں۔اس میں بھی کوئی بری بات نہیں ۔لیکن یہ توکم از کم ضرور دیکھ لیناچاہئیے کہ آخر ہماری معروضی ضرورتیں کیا ہیں،ہمارے معروضی حالات کیا ہیں،ہمارا قومی نصب العین کیا ہے اور ہمارے وسائل کیا ہیں۔جب تک ان حوالوں سے نہیں سوچا جائے گا ہماا تعلیمی نظام ایک لاینحل سوال ہی رہے گا۔اس پہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ہمارے بہت سے غیر ملکی ڈو نر ز اپنے فنڈوں کے ساتھ ہمارے تعلیمی نظام میں دخل اندازی کرتے رہتے ہیں۔اور ان 'گُھس بَیٹِھیوں ' کو روکنے والا تو کُجا خود سرکاری ادارے ان کی معاونت بلکہ انہیں 'اسسٹ' کرتے ہیں۔آپ خودہی فیصلہ کریں کہ امریکہ، برطانیہ،جرمنی یا کوئی دوسرا مغربی ملک یا مغربی ادارہ ہمارے نظام تعلیم کی بہتری میں کیوں ہلکان ہوگا۔ظاہر ہے ان کے اپنے کچھ مقاصد ہوں گے یا ان کی ہی زبان میں'نیشنل انٹرسٹ' ہوںگے۔جس کا میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ ہرگز ہمارا نیشنل انٹرسٹ نہیں ہوگا۔پھر بھی ہم خاموش تماشائی بنے تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ سوال ہماری بقا کا ہے۔ اور حکومت وقت کے اختیار کا ہے۔مجھے اس سے بھی سروکار نہیں کہ ہمیں کونسا نظام تعلیم چاہئے،اردو میڈیم یا انگلش میڈیم یا پھر روایتی مدرسہ کا نظام ۔بلکہ میرا موقف یہ ہے کہ ہمیں ان میں سے کوئی ایک یا کوئی بھی (صرف اور صرف ایک )ایسا نظام تعلیم چاہئیے کہ جو ہماری مستقبل کی ضرورتوں کو پوراکرے اور جو ایک نسل کو فکری سطح پرتقسیم نہ کرے ۔ بلکہ اس نظامِ تعلیم کے پروردہ سندھی، بلوچی، پختون، پنجابی،شیعہ،سنی بعد میں ہوں پہلے صرف اور صرف پاکستانی ہوں۔اور میرا خیال ہے کہ اگر حکومت چاہے تو کوئی اتنی ناممکن بات بھی نہیں۔خدا کرے آنے والی نئی حکومت اس بات کا ادراک کرے اور ایک ایسی تعلیمی پالیسی لے کر آئے جو نہ صرف ہماری ضرورتوں کو پورا کرسکے بلکہ وہ پالیسی اتنی مضبوط ہو کہ تمام قوم کے سارے رنگوں نسلوں اور مسلکوںکوموتیوں کی طرح محبت کی ایک لڑی میں پرو دے۔آمین۔

متعلقہ خبریں