اقتدار سے چمٹے رہنے کی ہوس

اقتدار سے چمٹے رہنے کی ہوس

مائیکل اینجلو دنیا کا ایک مشہور مجسمہ ساز اور مصور تھا۔ اس کا تعلق اٹلی سے تھا اور اس نے زندگی میں ایسے شاندار شاہکار تخلیق کیے تھے کہ آج بھی یہ کہا جاتا ہے کہ آپ جب تک مائیکل اینجلو کا نام نہ لیں مصوری اور مجسمہ سازی کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ یہ مائیکل اینجلو کا ہی قول تھا کہ'' مجسمہ پتھر کے اندر ہوتا ہے میں تو بس اس کے اوپر سے فالتو پتھر چھیل دیتا ہوں''۔ مائیکل اینجلو ایک درویش صفت انسان تھا۔ اسے اپنے کام کے سوا کسی چیز کی پروا نہیں تھی۔ وہ کام کرتے وقت پانی کے ساتھ روٹی کھا لیتا تھا' تھک جاتا تو بعض اوقات اسی چٹان پر سو جاتا جسے تراش کر ' چھیل کر وہ مجسمے کی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہوتاتھا۔ وہ گھٹنوں تک لمبے بوٹ پہنتاتھا اور انہیں مہینوں تک اُتارتا نہیں تھا۔ اس کے شاگردوں کے مطابق وہ جب کبھی اپنے جوتے اُتارتا تھا تو اس کے پاؤں اس قدر گل سڑچکے ہوتے تھے کہ پاؤں کی جلد بھی بوٹ کے ساتھ ہی اُتر جاتی تھی۔اس نے ویٹی کن سٹی کی چھت بھی پینٹ کی تھی اور اس کے ایک مجسمے ''ڈیوڈ'' کو مجسمہ سازی کا عجوبہ بھی کہا جاتاہے، یہ اس قدر مکمل ہے کہ اس کی تکمیل کے بعد خود مائیکل اینجلو نے جب اسے دیکھا تو اس نے مجسمہ کے گھٹنے پر تیشہ مار کرکہا تھا کہ بولو !اب تم بولتے کیوں نہیں ہو؟ مجسمہ ظاہر ہے مجسمہ تھاوہ خاموش رہا' جس پر مائیکل اینجلو نے اس کے گھٹنے سے اس زور سے تیشہ مارا کہ مجسمے کی ٹانگ ٹوٹ گئی لیکن اس کے باوجود وہ مجسمے سے بار بار کہتا رہا کہ تم بولتے کیوں نہیں ہو؟ تم بولتے کیوں نہیں ہو؟ مائیکل اینجلو نے شادی نہیں کی تھی۔ وہ جب ویٹی کن سٹی کی چھت پینٹ کر رہا تھا تو ایک پادری نے اس سے کہا ، کاش ! تم نے شادی کی ہوتی۔ مائیکل اینجلو نے پوچھا کیوں؟ اس نے کہا اس لیے کہ تم نے اگر شادی کی ہوتی تو تمہارے تین چار بچے ہو جاتے ' تمہاری نسل پھلتی پھولتی اور تمہارے مرنے کے بعد تمہیں یادرکھتے۔ مائیکل نے قہقہہ لگا کر کہا میں مرتے وقت دنیا میں اپنا فن چھوڑ کر جاؤں گا ، یہ فن میرے بچے ہیں اور یہ فن ہی دنیا کو میرا نام بھولنے نہیںدے گا۔مائیکل کی بات سونے میں تولنے کے قابل ہے۔ دنیا میں ہماری خدمات اور ہماراکام ہمیںمرنے کے بعد بھی زندہ رکھتا ہے اور اگر ہم نے زندگی میں کوئی بڑا کام نہ کیا ہو ' ہماری خدمات اچھی نہ ہوں تو خواہ ہم 100بچوں کے بھی ماں باپ کیوںنہ ہوں لوگ ہماری زندگی میں ہی ہمیںبھول جاتے ہیں۔ کاش! اس حقیقت کو ہمارے حکمران بھی سمجھ لیں اور یہ جان لیں کہ ان کے اصل بچے ان کی بیٹیاں ،بیٹے نہیں ہیں ، بلکہ ان کے اصل بچے ان کی خدمات اور ان کا کام ہے۔ اگر ان کا کام اچھا ہو گاتو لوگ انہیں علامہ اقبال اور قائد اعظم کی طرح ہزاروں سال تک یاد رکھیں گے بصورت دیگر انہیں ان کے اپنے بچے ہی چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اس ملک کے عوام کو اپنے بچے سمجھیں اور ان کی اس طرح خدمت کریں جس طرح یہ اپنے بچوں کی کرتے ہیںتو یہ ملک بدل جائے گا ' یہ ملک ترقی یافتہ اور قابلِ رشک بن جائے گا۔ اس تناظرمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ تاریخ میں کس کا نام زندہ رہتا ہے اور کون بے نام مرتا ہے؟ ابن رشد کا نام زندہ ہے یا اسے جلاوطن کرنے والے متعصب اور کم علم حکمرانوں کا؟ ابراہم لنکن کا نام زندہ ہے یا اس کے قاتل کا؟ سقراط کو زہر کا پیالہ کس نے پلایا تھا؟ اس دور کا حکمران کون تھا؟ تاریخ میں ہمیشہ وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو اپنی ذات سے بالا تر ہو کر اپنے ملک و قوم کے مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے قربانی پیش کرتے ہیں۔اقتدار سے چمٹے رہنے اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے طرح طرح کی تاویلیں پیش کرنے والے ہمیشہ وقتی فائدہ اُٹھاتے ہیں۔نیلسن منڈیلا عظیم لیڈر تھا۔ اپنی قوم کو نسلی امتیاز سے باہر نکالنے کیلئے طویل جدوجہدکی۔ 29سال قیدوبند کی صعوبتیں اُٹھائیں۔ مشن یہ تھا کہ ان کی قوم کے ساتھ نسلی امتیاز نہ برتا جائے، ان کی قوم کو بھی دیگر اقوام کی طرح باوقار سمجھا جائے۔ تاریخ گواہ ہے نیلسن منڈیلا جب طویل قیدوبند کی صعوبتیں جھیل کر جیل سے باہر آئے تو حالات تبدیل ہو چکے تھے ، ان کے مخالف گھٹنے ٹیک چکے تھے۔ اسی دوران مخالفین نے ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے منڈیلا کو مذاکرات کی دعوت دی۔ منڈیلا نے فوراً حامی بھر لی۔ نیلسن منڈیلا کے حمایتیوں نے کہا کہ جناب اب تو ہم منزل کے قریب ہیں ' اس وقت مذاکرات کرنے سے ہمارے مخالفین کو فائدہ ہے' اب مذاکرات نہ بھی کیے جائیں تو بھی ہم اپنی منزل تک جا پہنچیں گے۔ نیلسن منڈیلا نے اس سے مگرمختلف جواب دیا اور کہا کہ مخالفین سے مذاکرات کرنا میرے ملک او رقوم کے مفاد میں ہے ' میں اپنی قوم کو مزید کسی آزمائش میں نہیں ڈال سکتا۔ یہ ہوتا ہے لیڈر جو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف ملک و قوم کے مفاد میں سوچتا ہے۔ 28جولائی جمعہ کو میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دیا ہے ، اس سے قبل طویل کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت رہ چکا ہے ،کیا ہی اچھا ہوتا وزیر اعظم نواز شریف ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں از خود استعفیٰ دے دیتے ،یا پھر جب سپریم کورٹ کے دو ججوںنے انہیں نااہل قرار دیا اور تین ججوں نے جے آئی ٹی سے ساٹھ دنوں میں رپورٹ طلب کی تھی تب بھی ان کے پاس استعفیٰ کا آپشن موجود تھا لیکن اقتدار کی محبت میں آج میاں نواز شریف بہت کچھ گنوا چکے ہیں ۔

متعلقہ خبریں