پشاور رے پشاور

پشاور رے پشاور

پاکستان میں دو شہر ایسے ہیں جن کے بارے میں ان کے باسی ہمیشہ ایک بات کاتکرار کرتے ہیں اور ایک دنیا ان کی یہ بات تسلیم کرتی ہے۔ ''لاہور'' لاہور ہے جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا ہے'' اس طرح پشاور( پیخور) خو پشاور دے کنہ'' اور پشاور کا قصہ خوانی بازار تو تاریخ ہے۔ ہندکو' پشتو شعراء نے اپنے اس محبوب و ممدوح شہر کی شان میں جو منشور و منظوم عقیدتیں پیش کی ہیں وہ بہت قابل قدر اور پڑھتے ہوئے سر دھننے پر مجبور کرنے والی ہیں۔ماضی قریب میں پشاور پر جو گزری سو گزری اور وہ بربادیاں اور المناک واقعات بھی تاریخ کا حصہ بن گئے۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ پختون ہی نہیں جسے پشاور سے محبت و عقیدت نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پختونخوا کے لر و بر( مشرق و مغرب) سے پختون اس کی سیر' اس میں تعلیم و روز گار کے حصول اور قیام و رہائش اور علاج معالجہ کے لئے آتے رہتے ہیں۔ صبح و شام پختونخوا کے چاروں طرف سے کارواں پشاور کی طرف رواں دواں رہتے ہیں۔ افغانیوں کو تو پشاور ایسا بھایا ہے کہ ان کی پوری ایک نسل یہاں پیدا ہو کر اور پل بڑھ کر جوان ہوئی اور اب واپس جانے کا نام ہی نہیں لیتی۔ آخر پشاور میں کچھ تو ہے کہ لوگ کھینچے چلے آرہے ہیں۔قدیم پشاور کے حسن اور صفائی ستھرائی اور امن و محبت اور باغات اور پھولوں کا ذکر کتابوں اور بزرگوں کی زبانی ہوتا رہتا ہے۔ لیکن جب آج کے پشاور کو دیکھا جاتا ہے تو وہ باتیں واقعی ایک بھولی بسری کہانی ہی لگتی ہے۔ اس وقت پشاور ہر لحاظ سے گنجلک مسائل کاشکار ایک ایسا شہر بن چکا ہے جس کی کوئی کل سیدھی نظر نہیں آتی۔ پشاور کے ساتھ جو زیادتی گزشتہ عشروں میں ہوئی ہے اس میں ہم سب شریک ہیں۔ در اصل پشاور میں اس وقت جو لوگ رہتے ہیں وہ اس شہر کو اپنا نہیں سمجھتے یعنی اس کو اون (Own) نہیں کرتے۔ پشاور کے پرانے اور قدیم باسی دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں جو اندرون پشاور میں جدی پشتی رہائش پذیر ہیں اور ہندکو سپیکنگ پشاور کی علمی ترقی میں ان افراد کا بہت بڑا کردار ہونے کے ساتھ پشاور شہر کی ہندکو تہذیب و ثقافت بھی ان ہی کی مرہون منت ہے۔ دوسرے ہشت نگر (ھشنغر) کے پختون ہیں جن میں مختلف قبائل شامل ہیں۔ تیسرے وہ پختون اور ہزارہ وال ہیں جو پختونخوا کے مختلف اضلاع اور علاقوں سے تعلیم' روز گار' ملازمت اور تجارت کے سلسلے میں آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔پشاور کو ایک بات نے بڑا نقصان پہنچایا ہے اور وہ ہے سیاست۔ سارے پختونخواکے سیاست دان پشاور کے اسمبلی ہال میں اکٹھے ہوتے ہیں لیکن ترقیاتی کام کے لحاظ سے ہر ایک اپنے حلقہ اور ضلع کی بات میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ ایک اور اہم عنصر جس نے پشاور کو کسمپرسی میں مبتلا کیا یہ ہے کہ میری شعوری زندگی میں کوئی ایسا وزیر اعلیٰ پختونخوا نہ آسکا جس کاتعلق پشاور سے ہو گزشتہ چار پانچ عشروں سے ہرایک وزیر اعلیٰ پختونخوا کے کسی نہ کسی ضلع سے تعلق رکھتا تھا۔ ان میں سے ہرایک کو پشاور سے زیادہ اپنے ضلع اور حلقہ جات کو اسلام آباد کے برابر لانے کاشوق تھا۔ اس شوق کی تکمیل میں پشاور کے وسائل بلکہ بعض روایات میں تو پورے صوبے کے وسائل وزیر اعلیٰ کے ضلع میں خرچ ہوتے رہے ہیں۔ نتیجتاً پشاور نشئیوں' ڈرگ مافیا' ٹوٹی پھوٹی سڑکوں' بدبو دار گٹروں ' بے ہنگم ٹریفک' آبادی کے اژدھام اور بغیر پلاننگ کے ہائوسنگ سکیموں اور نجانے کس کس مصیبت و بلا میں گرفتار ہوتا چلا گیا۔ باعث تحریر آنکہ یہ ہے کہ گزشتہ دنوں پشاور کا ضلعی بجٹ نظروں سے گزرا۔ 10ارب ایک کروڑ آٹھ لاکھ ستتر ہزار تین سو تیس روپے کے بجٹ میں سے تقریباً 8 ارب ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں اور کوئی دس کروڑ غیر ترقیاتی کاموں میں صرف ہوں گے۔ ضلع پشاور کے 92منتخب ارکان میں برابری کی بنیاد پر تقسیم ہونے والے صوبائی فنانس کمیشن سے ملنے والے 68کروڑ 69لاکھ روپے میں سے ہر ایک کو 53 لاکھ روپے ملیں گے۔ خواتین' یوتھ' اقلیتی اور مزدور کسان ارکان اس کے علاوہ ہیں۔ اس بجٹ سے کہیں بھی یہ ظاہر نہیں ہو رہا ہے کہ پشاور کی تعمیر و تزئین' شجر کاری' پھل پھول کی نشوو نما و پرداخت' صفائی و ستھرائی' بورڈ سے لے کر تہکال بالا تک سیوریج لائن مہینوں سے ادھڑی پڑی ہے۔ مخلوق خدا ناقابل بیان تکالیف سے دو چار ہے اور سب سے بڑھ کر ضلعی حکومت اور ماتحت اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اوور امپلاائنمنٹ اتنی زیادہ ہے کہ ترقیاتی کاموں کے لئے بہت کم رقم بچتی ہے۔ اس بجٹ کے رکھوالوں اور بنانے والے سے ایک دست بستہ عرض ہے کہ پشاور شہر کو اپنی پہلی فرصت میں کوڑاکرکٹ کے ڈھیر سے پاک کرکے شہر سے دور فضلہ اور کوڑاکو ٹھکانے لگانے کاکوئی سائنسی خطوط پر انتظام کرواکر مخلوق خدا کی دعائوں کے حصول کا سبب بنیں۔ اس کے علاوہ سڑکوں کے درمیان لان اور جنگلہ اور گٹر کے ڈھکنوں اور دیگر آرائشی سامان وغیرہ کو نشئی اور چوروں سے محفوظ رکھنے کے انتظامات کئے جائیں تاکہ جو پیسہ خرچ ہو وہ ضائع نہ ہو۔ نوجوان ضلع ناظم سے امید اور توقع ہے کہ وہ اپنے ماتحت عملہ سے کام لے ' ہمارے ہاں کام چوری کی وبا عام ہے۔ اس لئے پشاور شہر میں خاکروبوں ' سویپروں اور مالیوں کی کمی نہیں۔ تنخواہ کے دن بے شماراور کام کے لئے چند ایک اچھے لوگ بمشکل میسر آتے ہیں۔ نتیجتاً پشاور شہر جو کبھی پھولوں اور باغات کاشہر تھا کوڑ کرکٹ کے ڈھیر کے شہر میں تبدیل ہوگیا ہے۔ پشاور ہم سب کاہے ۔ آئیں سب مل کر اس کو صاف ستھرا اور پر امن بنائیں۔

متعلقہ خبریں