جسمانی سزائوں کا سدِباب ضروری

جسمانی سزائوں کا سدِباب ضروری

2006ء میں پاکستان نے سکولوں سے جسمانی سزا کے خاتمے کا عزم کیا تھا اور اس حوالے سے پچھلے گیارہ سالوں میں وفاقی اور صوبائی سطح پر بہت سے قوانین بھی پاس کئے گئے لیکن آج تک پورے ملک کے سکولوں سے جسمانی سزا کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں کیا جاسکا۔آج کا دور سوشل میڈیا کادور ہے جس میں کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی قریب میں ایسی بہت سی ویڈیوز وائرل ہوچکی ہیں جن میں اساتذہ کو بچوں کو بے دردی سے مارتے ہوئے اور زخمی کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد مختلف نیوز چینلز پر بھی یہ ویڈیو دکھائی گئیں جس کے بعد حکومت میں جنبش پیدا ہوئی لیکن آج تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کیا ان اساتذہ کو اپنے کئے کی سزا بھی ملی یا نہیں۔ سکولوں میں اساتذہ کی طرف سے بچوں پر کئے جانے والے تشدد کو ہمارے معاشرے میں بُرا نہیں سمجھا جاتا جس کی وجہ والدین کی جانب سے بچوں کی پرورش کا روایتی طریقہ کار ہے جس کو آمرانہ کہا جاسکتا ہے۔ اساتذہ کے علاوہ بہت سے والدین بھی ایسے ہیں جو جسمانی سزائوں کی حمایت کرتے ہیں اور جسمانی سزائوں کو بچے کی پرورش کے لئے مفید سمجھتے ہیں ۔ دراصل والدین یہ بات نہیں جانتے کہ اگر بچوں پر تشدد کیا جائے یا ان کو جسمانی سزا دی جائے تو اس سے بچے میں خوف، ناراضی اور خود ترسی جیسے جذبات پیدا ہوتے ہیں جو بعد میں سرکشی ، غصے اور حتیٰ کہ جرائم کی وجہ بنتے ہیں۔بلوچستان، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کیپٹل ٹیرٹری میں جسمانی سزائوں سے متعلقہ قوانین سکولوں میں جسمانی سزا دینے سے نہیں روکتے یا پھر جسمانی سزائوں کو سرکاری سکولوں تک محدود کرتے ہیں۔ 2017ء میں سندھ میں سندھ پرابیشن آف کارپورل پنشمنٹ ایکٹ نافذ کیا گیا 18 سال سے کم عمر بچوں کو جسمانی سزا دینے اور ان کے ساتھ ذلت آمیز رویہ برتنے سے روکتا ہے۔ اس قانون کے مطابق ''کام کرنے کی جگہوں، پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں اور دیگر رسمی اور غیر رسمی تعلیم کے اداروں ، چائلڈ کیئر سنٹرز ،مختلف بیماریوں اور نشے سے چھٹکارے کی بحالی کے مراکز اور نابالغ بچوں کے لئے بنائی گئی جیلوں میں جسمانی سزا منع ہے''۔ صرف گلگت بلتستان وہ واحد علاقہ ہے جس کی قانون ساز اسمبلی نے سکولوں کے ساتھ ساتھ گھروں میں بھی جسمانی سزا کے خلاف قانون پاس کیا ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی کی طرف سے خاندان کے افراد کی جانب سے بچوں پر تشدد کرنے اور جسمانی سزا سے روکنے کا اقدام ایک انتہائی احسن اقدام ہے جو بچوں کے خلاف تشدد کے مکمل خاتمے کی طرف پہلا قدم ثابت ہوگا۔پاکستان پینل کوڈ کا سیکشن 89 دراصل اس قانون کا اساس ہے جس کے مطابق بچوں کے 'فائدے' کے لئے 12 سال سے کم عمر بچوں کو ان کے والدین یا گارڈین کی جانب سے جسمانی سزا نہیں دی جاسکتی۔لیکن آج بھی ہمارے ملک میں اس حوالے سے ایسے بہت سے قوانین موجود ہیںجن کو تبدیل کرکے یا ان میں اصلاحات لاکر ان کے نفاذ کے عمل کو بہتر بنایا جاسکتا ہے تاکہ ملک سے بچوںکو سزا دینے کے مکروہ عمل کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جاسکے۔مثال کے طور پر پنجاب میں 1926ء میں پاس کیا جانے والے بورسٹل ایکٹ بورسٹل اداروں میں لڑکوں کو جسمانی سزا دینے سے روکتا ہے ۔

اسی طرح جیونائیل جسٹس سسٹم آرڈیننس 2000 ء پولیس کسٹڈی میں بچوں پر تشدد سے روکتا ہے لیکن یہ ایک ایسا قانون ہے جس کو دیگر قوانین پر فوقیت حاصل نہیں ہے۔پرزن ایکٹ 1894ء کوڑے مارنے کو سزا دینے میں شامل کرتا ہے اور سندھ چلڈرن ایکٹ 1955ء کے آرٹیکل 48 اور پنجاب ڈیسٹیٹویٹ اینڈ نیگلیکٹڈ چلڈرن ایکٹ 2004 ء کے آرٹیکل 35 کے مطابق یہ سزا مکمل طور پر قانونی ہے۔گلوبل انیشی ایٹو ٹو اینڈ آل کارپورل پنشمنٹ آف چلڈرن کی پاکستان کے بارے میں 2017ء میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق آبالشن آف دا پنشمنٹ آف وپنگ ایکٹ 1996ء حد اور حدود کے مقدمات پر نافذ نہیں ہوتا ۔ اس کے مطابق بالغ ہونے کے ساتھ ہی تمام جسمانی سزائیں بچوں پر لاگو ہوجاتی ہیں ۔اگرچہ ان میں سے بہت سے قوانین ایسے ہیں جو دیگر قوانین کی موجودگی میں نافذالعمل نہیں رہتے لیکن کمیٹی آن دا رائٹس آف دا چائلڈ کی 3 جون ، 2016ء کو شائع ہونے والی پانچویں رپورٹ کے مطابق ابھی بھی بہت سے قوانین کے حوالے سے ابہام پائے جاتے ہیں۔ دنیا کے 52 ممالک میں جسمانی تشدد مکمل طور پر ممنوع ہے جبکہ صرف 9 ممالک ایسے ہیں جن میںقانونی طور پر جسمانی سزا کی اجازت ہے ۔ ان ممالک میں سعودی عرب، صومالیہ، موریطانیہ، نائیجیریا، بٹسوانا، تنزانیہ، گیا نا، ملائیشیا اور برونائی شامل ہیں۔ پاکستان ان 92 ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو جسمانی سزا کا مکمل خاتمہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملک سے جسمانی سزا کے مکمل خاتمے کے لئے حکومت کومرکزی نظام انصاف کے ساتھ ساتھ جرگہ ، پنچائیت اور نابالغوں کی جیل جیسے متوازی چلنے والے نظاموں میں اصلاحات لاکر جسمانی سزا کو ختم کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ جسمانی سزائوں کے خلاف ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے آگاہی مہم کا آغاز ، متاثرین کے لئے ہیلپ لائن اور اساتذہ کی تربیت جیسے اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔
(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں