سانحہ بہا ولپور سے اٹھنے والے سوال

سانحہ بہا ولپور سے اٹھنے والے سوال

بہاولپور کے علاقے احمد پور شرقیہ کے قریب آئل ٹینکر کے الٹنے اور ازاں بعد پھٹنے کے واقعے میں تادم تحریر 160افراد کے جھلس کر جاں بحق اور سو سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی وجہ سے پورا ملک سوگوار ہو گیا تھا اور حکومتی سطح پر عوام کو عید سادگی سے منانے کی اپیل کی گئی ۔ جاں بحق ہونے والوں کیلئے حکومت پنجاب کی جانب سے بیس بیس لاکھ روپے فی خاندان جبکہ زخمی ہونے والوں کیلئے دس دس لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا گیا۔ وزیر اعظم نے اپنے لندن قیام کو فوری طور پر مختصر کرکے وطن واپسی اختیار کی اور گزشتہ روز انہوں نے وزیرا علیٰ پنجاب شہباز شریف کے ساتھ علاقے کا دورہ کر کے نہ صرف متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی بلکہ امدادی چیک بھی تقسیم کئے ۔ اپوزیشن جماعتوں خصوصاًپی ٹی آئی کے بعض رہنمائوں نے اس سانحے پر بھی سیاسی سکورنگ کرنا اپنا فرض اولین گردانا اور احمد پور شرقیہ اور دوسرے چھوٹے اضلاع کے ہسپتالوں میں برن یونٹ کے نہ ہونے کو ایک مسئلہ بنا کر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور میٹروبس ، اورنج ٹرین منصوبوں پر ایک بار پھر شدید اعتراض کرتے ہوئے ہسپتالوں میں اس قسم کے سانحات کے مواقع پر فوری امداد اور علاج معالجے کیلئے ضروری سہولیات نہ ہونے کی دہائی دی۔ کئی زخمیوں کو ملتان اور لاہور کے ہسپتالوں میں ہیلی کاپٹر وں اور سی ون تھرٹی جہازوں کے ذریعے منتقل کرکے انہیں ضروری علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں ، اس دوران زیر علاج اکا دکا افراد کے جاں بحق ہونے کی خبریں بھی آرہی ہیں جس سے مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے ۔ اس حادثے کے بعد اگر چہ پولیس نے ٹینکر کے ڈرائیور اور مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور ڈرائیور نے خود کو پولیس کے حوالے بھی کر دیا ہے ، تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈرائیور کو تو تیز رفتاری کے باعث چالان کیا جا سکتا ہے مگر مالک کا کیا قصور ہے ،اور سب سے اہم سوال تو یہ پیدا ہو تا ہے کہ جس طرح سوشل میڈیا پر اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ احمد پور شرقیہ کی ایک مسجد سے بذریعہ لائوڈ سپیکر (مبینہ طور پر ) ٹینکر کے الٹنے اور لوگوں کو پٹرول جمع کرنے کے اعلانات کئے جاتے رہے ، اور دوسری اطلاع یہ ہے کہ کسی شخص نے سگریٹ پینے کے بعد جلتا ہوا ٹکڑا زمین پر پھینکا جس سے آگ بھڑک اٹھی اور اس سانحے نے جنم لیا ، جبکہ وہاں پر موجود پولیس کے منع کرنے کے باوجود لوگ پٹرول جمع کرنے سے باز نہ آئے ، تویہ مکمل ،غیر جانبدارانہ جوڈیشل انکوائری کے بعد طے کیا جا سکے گا کہ حادثے کی ذمہ داری کس پر عاید ہوتی ہے ، اس سانحے نے بہر صورت کئی سوالات کو جنم دیا ہے ، ایک تو حزب اختلاف کی جماعت کے یہ اعتراضات اہم ہیں کہ نہ صرف پنجاب بلکہ اگر اسے مزید آگے بڑھاتے ہوئے یہ کہا جائے کہ پورے ملک کے اہم اضلاع کے ہسپتالوں میں برن یونٹس کے قیام کی ضرورت کا احساس ہونا چاہیئے اور صرف حکومت پنجاب ہی نہیں باقی صوبوں کی حکومتوں کو بھی اس مسئلے پر سنجید گی سے غور کر کے اپنے اپنے بجٹو ں میں اس مقصد کیلئے خطیر رقوم مختص کر کے فوری طور پر مختلف ہسپتالوں میں برن یونٹس کے قیام پر توجہ دینی چاہیئے تاکہ خدا نخواستہ آئندہ ملک میں کہیں بھی ایسے حادثات رونما ہو جائیں تو قیمتی انسانوں کی زندگیاں بچانے کی حتی الامکان کو ششیں کی جا سکیں ۔ دوسرا اور اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نے سانحہ احمد پور شرقیہ کے باعث لندن میں اپنے قیام کو فوری طور پر مختصر کر کے نہ صرف وطن واپسی اختیار کی اور ذاتی طور پر وہاں پہنچے، غمزدہ خاندانوں کی داد رسی کی ، مگر اس سے تین روز پہلے پارہ چنار میں دہشتگردی کا ایک واقعہ ہو ا جس میں شر پسندوں نے بے گناہ انسانوں کو عید سے پہلے خود کش دھماکوں کے ذریعے شہید کیامگر نہ تو وزیراعظم نے ان کی وجہ سے اپنا دورہ مختصر کیا نہ ہی ان کو امدادی پیکچ کا پنجاب کے پٹرول لوٹنے والوں کے برابر اعلان کی ضرورت محسوس کی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وزیر اعظم بھی صرف سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں کیونکہ انہیں بہر حال پنجاب ہی سے ووٹو ں کی ضرورت ہے اور پختونوں کی گزشتہ کئی برس سے ملک کیلئے دی جانے والی قربانیوں کا نہ کوئی احساس ہے نہ اہمیت ، یہاں تک کہ پارہ چنار میں گزشتہ پانچ روز سے عوام نے احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے مگر ان سے کوئی پوچھنے تک کیلئے جانے کو تیار نہیں کہ آخر ان کے مسائل کیا ہیں ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز وہاں جا کر غمزدہ لوگوں سے ملاقات کا فیصلہ کیا لیکن وہاںپر موسم کی خرابی کی وجہ سے ان کا ہیلی کاپٹر اترنے میں ناکامی کی وجہ سے انہیں اپنا دورہ ملتوی کرنا پڑا ، تاہم حکومتی سطح پر کوئی کوشش اس حوالے سے (تا دم تحریر ) نظر نہیں آتی ، اور وہاں پر شہید ہونے والوں کے لواحقین کیلئے فی خاندان 3لاکھ جبکہ زخمیوں کیلئے ایک ایک لاکھ روپے سے بھی جو گلے شکوے سوشل میڈیا پر سامنے آرہے ہیں ، اس سے نسلی امتیاز کی نشاندہی ہوتی ہے حالانکہ پارہ چنار فاٹا کے زیر انتظام ہونے کی وجہ سے وزیر اعظم وہاں کے شہدا ء اور زخمی ہونے والوں کیلئے احمد پور شرقیہ جتنی مالی امداد کا اعلان تو کر سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں