پاک ، چین ، افغان ، سات نکاتی فارمولہ

پاک ، چین ، افغان ، سات نکاتی فارمولہ

پاکستان ، افغانستان اور چین کے مابین 7نکاتی فارمولے پر اتفاق کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے ، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تینوں ملک علاقائی امن ،اقتصادی تعاون اور ترقی کیلئے مل کر کام کریں گے ، پاکستان اور افغانستان تعلقات میں بہتری او رسیاسی اعتماد سازی چاہتے ہیں ، پاکستان اور افغانستان مشترکہ کرائیس مینجمنٹ میکنزم کی تشکیل پر متفق ہیں ، پاک افغان میکنزم کو چین ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا ۔ سہ فریقی سطح پر وزرائے خارجہ میکنزم بنانے پر بھی اتفاق پایا گیا ۔ اعلامیہ کے مطابق پاک افغان تعلقات بہتر بنانا اور سیاسی اعتماد سازی جبکہ دہشتگردی کے خلاف تعاون اور سلامتی کو در پیش چیلنجز کامقابلہ کیا جائے گا۔ افغانستان کے معاملات پر پاکستان ،چین اور افغانستان کے مابین 7نکات پر اتفاق رائے کو خوش آئند قرار دیا جانا چاہیئے اس لئے کہ یہ حقیقت ہے کہ افغانستان کے مسئلے کو پر امن طریقے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے اور جہاں تک اس مسئلے کے فوجی حل کا تعلق ہے روس کے انخلاء سے پہلے خصوصاً انخلا ء کے بعد مسلسل فوجی حل کی کوئی بھی کوشش کا میابی سے ہمکنار نہیں ہو سکی اور اس ضمن میں طالبان اور دوسری قوتوں کی جانب سے بھی افغانستان میں امن کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی کیونکہ اس سلسلے میں امریکہ اور بعض دوسری مغربی قوتوں کی جانب سے وہاں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے جو پالیسیاں اختیار کی گئی ہیں ان کی وجہ سے جنگ کی آگ ٹھنڈی ہونے ہی میں نہیں آرہی ہے جبکہ بھار ت انہی حالات سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف افغانستان کی حکومتوںکو پاکستان کے خلاف اکسا رہا ہے بلکہ وہاں پر تخریب کاری کیمپوں کے قیام سے خطے میں دہشتگردی کی آگ بھڑکا نے میں مصروف ہے ، اس لئے ایسے حالات میں پاکستان ، چین اور افغانستان کے مابین قیام امن کیلئے ہونے والی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے ضروری اقدامات اٹھا نا خطے کے بہترین مفاد میں ہیں ۔
دہشت گردی کے خاتمے کے دعوے
لندن میں نماز عید کی ادائیگی کے بعد وزیرا عظم نواز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت آپریشن رد الفسا د پر کام ہو رہا ہے ، ملک میں دہشت گردی دم توڑ چکی ہے اور مزید کم ہوگئی ، پاکستان میں پچھلے بہت سالوں سے گند پھیلا یا گیا تھا جس کو سمیٹنے کے لئے ہم نے کام شروع کیا ، افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات میں کئی معاملات پر بات چیت ہوئی ، آپریشن ردالفساد کے تحت آپریشنز ہو رہے ہیں ، دہشتگردی کا 2013ء میں کیا عالم تھا جبکہ آج دہشتگر دی دم توڑ چکی ہے ، آئندہ آنے والے عرصے میں باقی معاملات بھی بہتر ہو جائیں گے ، دہشت گرداس طرح کی حرکتیں کر کے اپنی موجودگی دکھانا چاہتے ہیں مگر جس جذبے سے کام ہو رہا ہے معاملات بہتر ہو رہے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آپریشن ردالفساد کے شروع ہونے کے بعد دہشتگردجس طرح بکھر رہے تھے اور اپنی جانیں بچانے کیلئے ادھر ادھر بھاگ کر پناہ ڈھونڈ رہے تھے ، اب وہ صورتحال نہیں رہی کیونکہ اب دہشتگردی فیکٹر میں داعش کی تلو یث کی نشاندہی ہورہی ہے ، اوراس حوالے سے تو رہ بورہ کے علاقے میں ان کی موجودگی اور وہاں سے دہشتگردانہ کارروائیوں کے آغاز کی جو خبریں آرہی ہیں ، چند روز قبل پارہ چنار میں ہونے والی دہشتگردی انہی حالات کا شاخسانہ قرار دی جارہی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر وائر ل ہونے والی بعض پوسٹو ں سے یہ بھی مترشح ہو رہا ہے کہ پارہ چنار کے عوام کو ان منفی قوتوں کی جانب سے مزید حملوں کی دھمکیا ں دی جارہی ہیں ، مزید یہ کہ کوئٹہ میں حالیہ حملے اور پشاور میں سیکورٹی اداروں کی بروقت کارروائی سے جس طرح بھاری مقدار میں اسلحہ پکڑا گیا اور گرفتاریاں ہوئیں ، ان تمام حالات سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کے دعوے نامکمل ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دہشتگردوں کے پیچھے نہ صرف بھارت کی خفیہ ایجنسی را بلکہ بعض دیگر عالمی خفیہ ایجنسیا ں بھی موجود ہیں اور ان کو ہر قسم کی امداداور تربیت فراہم کررہی ہیں ،یہاں تک کہ اسرائیل کے خفیہ ادارے موساد کی پشت پناہی کے امکانا ت کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا جو پاکستان کو عرب ریاستوں اور فلسطین کے معاملے پر اس کی پالیسیوں کی سزا دینا چاہتا ہے جبکہ بھارتی ایجنسیوں کی موجودگی کے کئی ثبوت پہلے ہی موجود ہیں جن میں کلبھوشن یادیو کے نیٹ ورک کے حوالے سے خود اس بھارتی ایجنٹ کے بیانات کا مکمل ریکارڈ بھی بتارہا ہے کہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانے پاکستان میں افرا تفری ، دہشتگردی اور قتل و غارت گری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ، اس لئے وزیرا عظم کو چاہیئے کہ وہ صدر اشرف غنی کو ان دہشتگردوں کو سہولتیں فراہم کرنے میں مزید تعاون سے ہاتھ روکنے پر آمادہ کریں جس کے بعد ہی دونوں ملکوں میں امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں