افغانستان سمجھداری کاثبوت دے

افغانستان سمجھداری کاثبوت دے

پاکستان ایک بار پھر دہشتگردی کی زد میں ہے ۔ کوئٹہ ، پارا چنار اور کراچی میں دہشتگردی کی ایک نئی لہر اٹھی جس نے کئی لوگوں کی جان لے لی اور قریباً بہت سے زخمی ہوگئے ۔ عید سے دو دن پہلے یہ سب اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہے ۔ اس سب کی وجوہا ت بھی ہم جانتے ہیں ۔ اس کا تعلق صرف سرحد پار تلاش کرنے سے ہی معاملات حل ہونے والے بھی نہیں ۔ کچھ خامیاں ہماری بھی ہیں جو کسی طور معاملات کو ہمارے لیے درستگی کی جانب سفر ہی نہیں کرنے دیتیں ۔ ہماری حکومتی پالیسیوں نے کبھی کسی معاملے کا کوئی دور اندیش حل نہیں نکالا ۔ہم ہمیشہ اس وقت فیصلے کرتے ہیں جب کوئی حادثہ رونما ہو چکا ہوتا ہے ۔ اس وقت معاملات کے حل تلاش کرتے ہیں جب کوئی ناگہانی سر پر آپڑتی ہے ۔ میں سوچتی ہوں تو کئی بار معاملات کے تانے بانے آپس میں اُلجھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ کون جانے ہم کیا کر رہے ہیں ۔ افغانستان میں بھارت کی موجودگی اور دلچسپی سے کون واقف نہیں ۔ افغانستان میں عمومی طور پر پاکستان سے کسی قسم کی محبت یا نسبت بھی لوگوں کے دلوں میں موجود نہیں وہ لوگ آج بھی اپنی بربادی کا ذمہ دارپاکستان کو سمجھتے ہیں ۔افغانستان ہمیشہ سے اس گزر گاہ کا حصہ رہا ہے جسے مختلف حکمرانوں نے بر صغیر تک پہنچنے کے لیے استعمال کیا تھا ۔ روس میںپیٹر داگریٹ (Peter the great)کے زمانے میں بھی برصغیر تک رسائی کے اس راستے کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ اور یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ 1917میں جنرل بیکووچ کی سربراہی میں ایک لشکر روانہ کیا گیا ۔ یہ لشکر خیوا (Khiva)تک بڑی مشکل سے پہنچا ۔ چونکہ اس مہم کا آغاز اپریل میں ہوا تھا ۔ تو صحرا تک پہنچنے میں انہیں جون کا مہینہ ہو گیا تھا ۔ جنرل بیکووچ کا لشکر اس قدر گرمی برداشت کرنے کا عادی نہ تھا چنانچہ حالات انکے لیے خاصے نامساعد ہوتے چلے جارہے تھے ، فوجیوں میں اموات کی شرح بڑھنے لگی تھی واپس لوٹ جانا اور بھی مشکل تھا کیونکہ زار روس کی ناراضگی کے متحمل نہ ہو سکتے تھے۔ دو مہینے اس طرح صحرامیں سفر کے بعد جب یہ لشکر خیوا کے گردو نواح میں پہنچا تو جنرل بیکووچ نے خیوا کے سلطان کے لیے تحفے تحائف بھیجے اور انہیں اپنے ارادوں سے بھی آگاہ کیا ۔ خیوا کا سلطان اس لشکر کو خوش آمدید کہنے خود شہر سے باہر آیا اور جب وہ جنرل بیکووچ کو اپنے ساتھ لیے واپس شہر کی طرف لوٹ رہا تھا تو اس نے جنرل بیکووچ سے اپنی مجبوری کا اظہار کیا کہ اتنے بڑے لشکر کو خیوا میں رکھنا ممکن نہیں تھا اس لیے لشکر کو چھوٹے گروہوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ گردو نواح کے گائو ں میں ان کے رہنے کا انتظام ہو سکے ۔ جنرل بیکووچ نے اسکی بات مان لی اور چھوٹے گروہوں میں تقسیم کر کے ان لوگوں کو روانہ کیا گیا ۔ ہر ایک چھوٹا گروہ اس عیاری کا شکار ہوا اور تقریباًسارا لشکر ماردیا گیا ۔ بیکووچ خود سب سے پہلے مارے جانے والوں میں شامل تھا ۔ پورے لشکر میں چالیس لوگ بچے جنہیں غلام بنا لیا گیا ۔ اسکے بعد ایک طویل تاریخی سفر ہے لیکن پیٹر دوسری فتوحات میں مصروف تھا اور بیکووچ کا بدلہ نہ لیا جا سکا لیکن بر صغیر تک پہنچنا روس کا خواب تھا ۔کہا جاتا ہے کہ بہتر مرگ پر اپنی یہ خواہش پیٹر دا گریٹ نے اپنے ولی عہد کو منتقل کی ۔ پیٹر کے مرنے کے چالیس سال بعد کیتھرین داگریٹ نے ایک بار پھر اس مہم کا آغاز کیا ۔ لیکن وہ اپنے عزائم میں بہت کامیاب نہ ہو سکی ۔ یہ الگ بات ہے کہ کیتھر ین نے کریمیا کو اپنے قبضے میں کر لیا تھا ۔ تاریخ کے پاس واقعات کا ایک جھر مٹ ہے جو بار بار اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ افغانستان اس راستے میں تھا جو روس کی بر صغیر تک رسائی کاز ریعہ تھا ۔اور روس کا یہ خواب بہت پرانا ہے ۔ افغانستان کی خود روس سے وابستگی اور دوستی نے روس کی افغانستان میں آمد کو آسان کیا تھا ۔ پاکستان پر فرد جرم عائد کرنے سے پہلے افغانستان کو یہ بھی یاد رہنا چاہیئے کہ خود افغانستان ان انگریزوں کو خوش آمدید کہتا رہا جنہوں نے اسکے لیے ان مسائل کو جنم دیا جس پر آج افغانستان پاکستان سے ناراض نظر آتا ہے ۔ افغانستان شمال او ر جنوب دونوں میں ہی اپنی سرحدوں کے مسائل کا حل چاہتا تھا ۔ امیر عبدالرحمن کے دور میں اس معاملے کو امیر عبدالرحمن نے ہی اٹھا یا تھا اور انگریز حکومت کو خط لکھ کر دعوت دی تھی کہ وہ اس معاملے کو حل کرنے میں اس کی مدد کریں ۔ اسکے بعد یہ سرحد یں تین معاہدوں میں بار بار تسلیم کی گئیں ۔ شمال کی طرف چونکہ افغانستان کے علاقے میں اضافہ ہوا تھا اس لیے افغانستان کو آج تک ان سرحدوں پر اعتراض نہیں ہے لیکن پاکستان کی جانب چونکہ یہ معاملہ آخری بار تیسری افغان انگریز جنگ کے بعد مکمل ہو گیا اس لیے فاتحین نے اپنی مرضی کی سرحد تشکیل دی ۔ اسکے بعد بھی بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر ا اور معاملات حل ہوئے ۔ یا حل شدہ تسلیم کئے گئے ۔ افغانستان کا غصہ اور گلہ انگریز وں سے تو ہو سکتا تھا لیکن پاکستان سے یہ معاملات اور ایسی دشمنی رکھنا کسی طور بھی افغانستان کو زیب نہیں دیتا ۔ روس کے ساتھ دوستی اور روس کو افغانستان میں داخلے کی دعوت بھی خود افغان حکمران کی ہی جانب سے دی گئی تھی ۔ بھارت کے افغانستان میں مفادات اور دلچسپی بھی کوئی ایسی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ ایسے میں اگر افغانستان معاملات کو مناسب طور سے سمجھ سکنے ، اور تجزیہ کرسکنے کا اہل نہیں تو یہ ایک الگ بات ہے لیکن ایسا کرنے سے وہ خود اپنی کمزوری کا سبب بن رہا ہے ۔ بھارت کی افغانستان اور ایران سے دوستی مفادات کی بنیاد پر ہے ۔ یہ مفادات پاکستان سے وابستہ کرلینے میں اسے زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے ۔ یہ دور معیشت کی جنگ کا ہے بھارت افغانستان یا ایران کو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کا فائدہ نہیں ۔ معیشت کا استحکام خطے میں اس وقت پیدا ہو گا جب سب مل کر کوشش کریں گے ۔ اور یہ بات جتنی جلدی سمجھ آجائے اتنا ہی بہتر ہے ورنہ چھوٹے چھوٹے دستوں میں تقسیم کر کے تو روس جیسی طاقت کی فوج کو خیوا کی ننھی سلطنت نے بھی پچھاڑ دیا تھا ۔ افغانستان کو اب اپنا بچپنا چھوڑ کر سمجھداری کا ثبوت دینا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں