دو دنیائوں کی کہانی

دو دنیائوں کی کہانی

چارلس ڈکنز نے دو شہروں کی کہانی لکھی تھی اب ان میں سے ہر شہر پھیل کر ایک علیحدہ دنیا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ ایک دنیا وہ ہے جس میں روزانہ بے شمار جیتے جاگتے انسان غربت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ بہاول نگر کا ایک رکشہ ڈرائیور اپنی چھوٹی بہن کو سوٹ نہ دے سکا تو جان دے گیا۔ بے روز گار تھا' اسے پیٹ کے لالے پڑے تھے بہن کی فرمائش کہاں سے پوری کرتا۔ اس نے آسان طریقہ یہ ڈھونڈ نکالا کہ بہن کو سوٹ کی بجائے جان کا نذرانہ پیش کردیا۔ اسی دنیا میں اسی روز حضرو میں غربت' بھوک اور پر اذیت زندگی سے نجات حاصل کرنے کے لئے ایک خاتون نے کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ اکیلی نہیں پہلے اپنے ایک جگر گوشے کو اسی کنویں میں پھینکا اور پھر دو بچیوں کو بغل میں داب کر اس میں کود گئی۔ خاتون اور چار سالہ بچہ تو بچا لیا گیا' ڈیڑھ سال کی بچی اور چار سالہ بچہ موت کی وادی میں گم ہوگئے۔ یہ تو غربت زدہ دنیا کا ایک سین پاٹ تھا' ایسے سانحے روز کا معمول بن چکے ہیں۔ کچھ سے ہم بے خبر رہتے ہیں اور کچھ کی خبر ہم تک پہنچ جاتی ہے۔ غربت کی بھینٹ چڑھنے والوں کو پورا یقین ہوتا ہے کہ موت کی وادی میں تو اپنا اور بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کسی کے سامنے جھولی پھیلانے کی ضرورت پڑے گی نہ وہاں تن ڈھانپنے کے لئے لباس اور نہ سر چھپانے کے لئے چھت کی ضرورت پڑتی ہے۔ نہ مہنگائی کی فکر' نہ بے روز گاری کا غم۔ تا قیامت سکون ہی سکون رہتا ہے۔ بس صرف موت کی دہلیز پار کرنے کی اذیت برداشت کرنا ہوتی ہے۔ یہ ایک قدم کا فاصلہ ہے جو چند لمحوں میں طے ہو جاتا ہے۔ جسے ہمارے بزرگ دوست ارباب ہدایت اللہ نے اللہ انہیں غریق رحمت کرے زحمت یک گام کا نام دیا تھا۔ حالیہ بجٹ میں ایک عام مزدور کی تنخواہ چودہ سے پندرہ ہزار کر دی گئی ہے جس کا ذکر ایک بار پھر نا گزیر ہوگیا ہے۔ اب کسی پرائیویٹ ادارے ' نجی سکول یا پھر کسی بڑے سٹور کا مالک خدا ترس ہوا تو یہ مشاہرہ دینے کی زحمت کرے گا مگر کسی نے کبھی اس نکتے پر غور کیا ہے کہ پندرہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والا چار بچوں کا باپ مہینے میں صرف ایک بار بھی اپنے بچوں کو موٹا گوشت کھلا سکتا ہے۔ جی ہاں علم معیشت کے ان لال بجھکڑوں کی عقل سے بھی موٹا گوشت جو مزدور کی ماہانہ تنخواہ میں ایک ہزار روپے ماہانہ اضافہ کرکے اپنے ضمیر پر کوئی بوجھ محسوس نہیں کرتے انہیں کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔ کیا پندرہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والا ملازم عیدین پر اپنے بچوں کے لئے نئے کپڑے خریدنے کے متعلق سوچ سکتا ہے یہ جو روزانہ کبھی باپ اور کبھی ماں اپنے بچوں سمیت اندھے کنوئوں میں کود جاتے ہیں اور ان میں سے بعض جرائم کی طرف راغب ہو جاتے ہیں یہ دو دنیائوں کے درمیان واضح فرق کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک دنیا وہ ہے جہاں ایک محتاط اندازے کے مطابق پچاس سے ساٹھ فیصد کے درمیان کی آبادی خط غربت کے نیچے کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگ رہی ہے اس لکیر کے نیچے رہنے والوں کو پینے کا صاف پانی میسرنہیں' ان کے سروں پر چھت نہیں ہوتی۔ ان کی اولاد تعلیم سے محروم رہتی ہے وہ ہمیشہ مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ انہیں کبھی ایک وقت کے لئے بھی پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ ہم جس غربت زدہ دنیا کی بات کر رہے ہیں وہاں کے اڑھائی کروڑ بچوں نے سکول کا دروازہ تک نہیں دیکھا۔ ساٹھ لاکھ نوجوان حصول روز گار کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں۔ اس دنیا میں میرٹ پر ملازمت کا حصول نا پید ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مناظر عام ہیں۔ طبی سہولتوں کی عدم دستیابی کا یہ عالم ہے کہ حاملہ خواتین کو ہسپتال میں جگہ نہیں ملتی اور وہ علاج گاہ کے بر آمدے میں ہی بچے کو جنم دے دیتی ہیں۔ آپ نے بھی سنا ہوگا ہم نے بھی پڑھ رکھا ہے کہ کچھ ماہ پہلے لیہ میں ساٹھ افراد زہریلی مٹھائی کھانے سے بیمار ہوئے تو تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کے علاوہ ملتان کے مشہور و معروف نشتر ہسپتال میں ان کے معدے صاف کرنے کا کوئی بندوبست نہ تھا جن میں سے 32افراد جاں بحق ہوگئے۔ ایک خبر یہ بھی لگی تھی کہ فیصل آباد میں سو افراد زہریلا دودھ پی کر ہسپتال جا پہنچے۔ ان میں سے کتنے زندہ بچے' کتنے مر گئے تفصیلات معلوم نہ ہوسکیں۔ اب دوسری دنیا کی بھی سن لیجئے۔ وہاں پر مبینہ طور پر ایک واش روم کے ڈیڑھ کروڑ روپے اخراجات کی خبر گردش کر رہی ہے۔ دوسری دنیا کے باسیوں کو اپنے میڈیکل چیک اپ کے لئے سمندر پار جانا ضروری ہو جاتا ہے۔ دوسری دنیا میں ہمارے منتخب عوامی نمائندوں کو کم تنخواہ کا چیک کاٹتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ وہ وفاقی سیکرٹری کے مساوی تنخواہ کا مطالبہ کرتے ہیں اور پھر دوسرے ہی لمحے سرکاری اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے اراکین اپنے تمام اختلاف بھلا کر اپنے لئے تنخواہ میں 500فیصد اضافے کی منظوری دے دیتے ہیں۔ ان کی اہلیت کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ دنوں ن لیگ کے ایک رکن اسمبلی کو اس کی تعلیمی ڈگری جعلی ثابت ہونے پر اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہونا پڑا۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی کئی ارکان اسمبلی کی رکنیت ان کی جعلی ڈگریوں کی وجہ سے ختم ہوچکی ہے۔ یہ اور اس طرح کے بے شمار حقائق دو دنیائوں کے واضح فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس دوسری دنیا کے کچھ مزید حقائق کسی آئندہ تحریر میں بیان کریں گے ۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ چارلس ڈکنز نے جن دو شہروں کی کہانی لکھی تھی اب وہ شہر پھیل کر دو دنیائوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں رہے نام اللہ کا۔

متعلقہ خبریں