بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں

بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں

مولانا خیر البشر استاد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ان بیانات کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے کہ رویت ہلال کے فیصلے یا پوپلزئی کی گرفتاری سے صوبائی حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔ مولانا خیر البشر نے اپنے ویڈیو بیان میں صاف اور واضح طور پر کہا ہے کہ نہ صرف مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو زبردستی ملک بدر کیا گیا اور بقول ان کے مفتی صاحب موصوف کی واپسی کے لئے اگست کا مہینہ مقرر کیا گیا ہے بلکہ خود مولانا خیر البشر استاد کو بھی ''غائب'' کردیاگیا تھا۔ اب اس زندہ گواہی کے بعد سمجھ سے یہ بات یقینا بالا تر ہے کہ اگر صوبائی حکومت کا اس معاملے میں کوئی ہاتھ نہیں تو ان اکابرین کو کیا فرشتے اٹھا کر لے گئے تھے؟ کیونکہ صوبے میں عملداری تو صوبائی حکومت کی ہے اور اگر پولیس کے ذریعے یہ کام نہیں کیا گیا تو پھر کس کے ذریعے یہ سب ہوا؟ انہوں نے اور بھی بہت سی باتیں کی ہیں تاہم ان باتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے میں کچھ اور بیانات کو زیر بحث لانا چاہتا ہوں جن سے اس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کی جاسکتی ہے بشرط یہ کہ نیتوں میں کوئی فتور نہ ہو۔ نہ ہی اسے لسانی اور قومیتی مسئلہ قرار دے کر نظر انداز کیا جائے بلکہ اسے ایک ملی اور دینی مسئلہ قرار دے کر خلوص نیت سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

نکل جاتی ہو جس کے منہ سے سچی بات مستی میں
فقیہہ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خوار اچھا
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ متفقہ روزہ اور عید کے لئے جبر اور زبردستی کا جو طریقہ اختیار کیا گیا اس سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید اشتعال پھیلا ہے اور اس روش کے مضر اثرات ہوں گے۔ مسئلہ کے حل کے لئے وفاقی حکومت میدان میں آکر تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام اور اسلامی نظریاتی کونسل کے توسط سے متفقہ لائحہ عمل دے۔ ادھر قومی وطن پارٹی کے سربراہ اور ممبر قومی اسمبلی آفتاب احمد خان شیر پائو نے اتوار کے روز اپنے گائوں شیر پائو (چارسدہ) میں عید کے بعد ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اتوار کے روز عیدالفطر منانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے علمائے کرام کے اس طرح کے فیصلوں کے پابند ہیں جو رویت کی معتبر شہادتوں کے پیش نظر کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہفتہ کی شب مسجد قاسم علی خان کی مقامی کمیٹی کے ساتھ بیٹھ جاتی تو شہادتوں کے پیش نظر پورے پاکستان میں اتوار کو ایک ہی دن عید ہوتی اور ایک روزے کی قضا لانے کے لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی اعلان کردیتی جس کی مذہب اسلام میں گنجائش موجود ہے اور یوں اس سے قومی اتحاد اور یگانگت کو تقویت ملتی۔ محولہ دونوں رہنمائوں کے بیانات پر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
دین اسلام کے بارے میں خود اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ لا اکراہ فی الدین۔ مگر اسے کیا کہا جائے کہ یہاں تو لوگوں نے اپنی ذاتی انائوں کے خول میں خود کو مقید کرکے عام لوگوں کو حیرت و استعجاب کے سمندر میں غوطے کھانے کے لئے کھلا چھوڑ دیا ہے اور حیران ہیں کہ وہ کدھر جائیں۔ بڑائی اس میں نہیں کہ دین کی راہ میں کوئی سہو سرزد ہوجائے تو اس کو بلا جواز عزت و وقار کا مسئلہ بنا کر اڑا جائے۔ سعودی عرب نے گزشتہ برسوں میں ایسے کئی مواقع پر جب علمائے کرام کو احساس ہوا کہ رمضان کا فیصلہ کرتے ہوئے ان سے سہو سر زد ہو چکی ہے بعد میں اعلان کرکے اس مسئلے کو بخوبی حل کیا گیا کہ عید کے بعد ایک قضا روزہ رکھا جائے لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ بقول مولانا خیر البشر استاد ایک غیر آئینی رویت ہلال کمیٹی نے کبھی اس بات کا احساس صرف اپنی انا کی وجہ سے نہیں کیا اور یوں ماضی میں بھی عوام الناس کے روزے اور عیدیں خراب ہوتی رہیں۔ اب کی بار تو یہ بات نہایت ہی و اضح ہوگئی تھی کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے متنازعہ فیصلے کی وجہ سے ایک روزہ قضا ہوگیا تھا۔ اس حوالے سے میں نے چودھویں کے چاند کے بعد پوری تفصیل کے ساتھ اپنے کالم میں اس پر روشنی ڈالی تھی اس لئے اگر مرکزی رویت ہلال کمیٹی بقول آفتاب احمد خان شیر پائو ہفتہ کی شب پشاور کی کمیٹی کے ساتھ بیٹھ کر شہادتوں کا جائزہ لیتی تو نہ صرف ایک ہی دن پورے پاکستان میں عید منائی جاسکتی تھی بلکہ مرکزی کمیٹی ایک قضا روزہ رکھوانے کا اعلان کر سکتی تھی۔سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے الٹا 25 جون کو پشاور میں منعقد ہونے والے اجلاس ہی کو اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس حوالے سے دو اطلاعات سامنے آئی ہیں ایک یہ کہ اس اقدام کو سیکورٹی کی ''خراب'' صورتحال قرار دیا گیا تو دوسری خبر یہ ہے کہ اس موقع پر بعض حلقوں کی جانب سے مرکزی کمیٹی کے خلاف ممکنہ احتجاج کے پیش نظر کیا گیا۔ کونسی بات درست ہے اور کونسی غلط اس سے قطع نظر ایک سوال تو کیا جاسکتا ہے کہ 24جون کو پورے صوبے کے مختلف اضلاع سے جو درجنوں شہادتیں موصول ہوئیں اور جن کی روشنی میں مسجد قاسم علی خان کمیٹی نے 25جون کو عید کا اعلان کیا کہ کیاوہ سب لوگ کافر تھے اور محض لوگوں کی عید خراب کرنے کے لئے شہادتیں دینے آئے تھے جبکہ فیس بک پر ایک پوسٹ میں ہلال عید کی تصویر بھی سامنے آچکی ہے۔
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے

متعلقہ خبریں