عید بھی اور روزہ بھی!

عید بھی اور روزہ بھی!

عید کا دن ملنے ملانے کا دن ہوتا ہے بچے اپنی عیدیوں اور کھلونوں میں مگن ہوتے ہیں اور بڑے ایک دوسرے سے مل کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو عید کی سب سے بڑی خوشی اپنے میٹھے پیاروں سے ملنا ہی ہوتا ہے۔کسی نے آپ کی طرف آنا ہوتا ہے اور کسی کی طرف آپ نے جانا ہوتا ہے۔ میاں جی جب عید ملنے آتے ہیں تو پھر مزے مزے کی باتیں کرتے ہیںانہیں واپس جانے کی کوئی جلدی نہیں ہوتی۔وہ میٹھے مشروب بڑے شوق سے پیتے ہیں اور ہر آنے والے کو کہتے ہیں کہ ہم اسی برس کے ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک سارے دانت سلامت ہیں اب بھی گنا اپنے دانتوں سے چھیل کر کھاتے ہیں۔ شوگر کی کیا مجال ہے کہ ہمارے قریب پھٹکنے کی جرات بھی کر سکے۔بلڈپریشر کو تو ہم جانتے ہی نہیں کہ کس چڑیا کا نام ہے۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ میاں جی آپ کی سدا بہار صحت کا راز کیا ہے تو وہ ہنس کر کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ ہے ہم اسے اپنے نفع نقصان کا مالک سمجھتے ہیں اس نے ہمیں پیدا کیا ہے تو وہ ہمارے مسائل حل بھی کرے گا۔ہم اس کی رحمت سے کبھی بھی مایوس نہیں ہوئے۔ڈاکٹر صاحبان کہتے ہیں کہ شوگر جیسی مہلک بیماری ٹینشن سے ہوتی ہے ۔ ورزش نہ کرنے سے ہوتی ہے آج ہمارا طرز زندگی کچھ اس قسم کا ہوگیا ہے کہ جسے دیکھیے ٹینشن میں مبتلا ہے۔ کچھ مسائل ایسے ہیں جن کے لیے لوگوں کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ جیسے مہنگائی، لوڈ شیڈنگ، پیسے کی قدر میں کمی ، امن و امان کی مخدوش صورتحال اور اسی طرح کے دوسرے مسائل ۔ لیکن ہمارے بہت سے مسائل ایسے ہیں جو ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں ہم سادگی نہیں اپناتے، پرتکلف زندگی گزارنے پر جان دیتے ہیں، ہمیں اپنے نام و نمود کی بڑی فکر رہتی ہے۔ رسم و رواج پر تو ہم جان دیتے ہیں ۔ یہ سب کچھ پورا کرنے کے لیے ہمیں اس تیز رفتار جدید دنیا کے ساتھ بھاگنا پڑتا ہے ۔کتنا اچھا ہو کہ ہر آدمی اپنی چادر دیکھ کر پائوں پھیلائے لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کرے اپنی مرضی سے زندگی گزارے پھر میاں جی خود ہی قہقہہ لگا کر کہنے لگے یار یہ باتیں کہنے میں تو بڑی آسان ہیں لیکن ان پر عمل کرنا بہت مشکل ہے مرد بیچارہ اکیلا تو نہیں ہے وہ تو حوا کی بیٹی کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ وہ اسے کب سر اٹھانے دیتی ہے ہمارے زمانے میںجوان مرد گھر سے بھاگنے کی دھمکی دیتا تو بوڑھا مرنے سے ڈراتا عورت بیچاری اپنی سادگی کی وجہ سے ان کی دھمکیوں سے مرعوب ہوجاتی مرد اس لیے زیادہ چالاک تھا کہ وہ سارا دن گھر سے باہر رہتا مختلف لوگوں سے ملتا اور حوا کی بیٹی پہلے باپ کے گھر کی چار دیواری کے اندر زندگی گزارتی اور پھر شادی کے بعد خاوند کے گھر کی چار دیواری اس کا مقدر ہوتی اب تو بھائی وہ باتیں خواب و خیال ہو چکی ہیں اب تو ہر شعبے میں خواتین کی کارکردگی دیکھنے کے لائق ہے اب وہ مردوں کی دھمکیوں کو کب خاطر میں لاتی ہیں۔ میرا بیٹا بڑا بھلا مانس ہے سر جھکا کر زندگی گزارنے کا عادی ہے جبکہ میری بہو زبان کی بڑی تیز ہے اس بیچارے کو ایسی جلی کٹی سناتی ہے کہ وہ تڑپ کر رہ جاتا ہے لیکن کیا مجال ہے جو بیوی کے سامنے زبان کھولے میں کسی وقت بہو کو سمجھانے کی کوشش کرتا بھی ہوں تو وہ مجھے کہتی ہے آغا جی آپ خاموش ہی رہیے آپ کا زمانہ گزر گیا جن لوگوں نے آپ کے ساتھ گزارا کیا وہ اچھے لوگ تھے آپ کو وقت پر کھانا مل جاتا ہے تو اللہ کا شکر ادا کیجیے ہمارے معاملات میں ٹانگ اڑانے سے پرہیز کیجیے میاں جی کی باتوں میں بڑا وزن تھا ہم جان گئے کہ میاں جی بھی اپنی بہو کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں رکھتے اس لیے ہم نے موضوع بدلتے ہوئے کہاچھوڑئیے ان باتوں کو وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے آپ نے بڑا اچھا وقت گزارا ہو ا ہے ہمیں اچھی اچھی باتیں بتائیے ہم نے ہمیشہ آپ کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے میاں جی پہلو بدلتے ہوئے بولے آپ نے بالکل صحیح کہا وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے ہمارا زمانہ اور تھا آپ کا زمانہ اور ہے۔جو باتیں آج سننے میں آرہی ہیں ہمارے زمانے میں کہا ں تھیںہماری زندگی میں سادگی تھی سادہ لباس سادہ کھانا بڑی آسانی سے زندگی گزر جاتی تھی۔ میں اب بھی پیدل چلنے کو ترجیح دیتا ہوں اب جسے دیکھیے قسطوں پر موٹر سائیکل نکلوا کر سڑکوں پر شتر بے مہار کی طرح اڑارہا ہے آئے دن حادثات ہو رہے ہیں اگر والدین منع بھی کرتے ہیں تو گھر کے بزرگوں کی بات پر کون دھیان دیتا ہے۔ ہمارے زمانے میں عید پر چچا ماموں اور دوسرے رشتہ داروں کے گھر ضرور جایا جاتا تھا اب نوجوانوں کی مصروفیات بھی اور طرح کی ہو گئی ہیں جسے دیکھیے عید کے تین دن اپنے گھر میں کمپیوٹر کے ساتھ گزار دیتا ہے۔ کمپیوٹر نہ ہوا تو ٹی وی تو بہر حال موجود ہے ۔سب اپنے اپنے خول میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ ایک دوسرے کے حال سے کوئی واقف ہونے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔میاں جی کی باتیں سن کر ہم بھی سوچ میں پڑ گئے کہ واقعی انسان انسان سے دور ہوتا چلا جارہا ہے ایک گھر میں رہ کر ہم ایک دوسرے سے روز بروز دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ دو دو عیدیں منائی جارہی ہیں ۔ لوگ عید کے تین دن ان مباحث ہی میں الجھے رہتے ہیں کہ کون سی عید درست تھی چاند کب نکلا تھا سب کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ سب اپنے آپ کو حق بجانب اور دوسروں کو غلط سمجھتے ہیں دوریاں ہیں کہ بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں مقام افسوس ہے کہ ایک ہی محلے میں رہنے والوں کی عید بھی ہوتی ہے اور روزہ بھی!۔

متعلقہ خبریں