سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری

سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری

خبر ہے بلکہ'' خوش خبر ''ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اُن سرکاری محکموں کے ملازمین کو کہ جو اپ گریڈیشن سے محروم رہ گئے ہیں، انہیں اگلے دو ماہ میں اپ گریڈ کرنے کی خوشخبری دیں گے۔وزیراعلیٰ نے یہ اعلان ایبٹ آبادشہر میں ٹریفک وارڈن سسٹم شروع کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یقینایہ اعلان ان تمام سرکاری ملازمین کے لیے کسی خوشخبری سے کم نہیں جو تاحال اپ گریڈ نہیں ہوسکے ہیں ۔ خیبر پختونخوا کو دوسرے صوبوں کی نسبت یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں کے مختلف شعبوں کے ملازمین کو اگلے گریڈوں میں ترقیاں دی گئی ہیں ۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ کالج اساتذہ جو 2006ء سے اپ گریڈیشن دلوانے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں لیکن اس دوران یہ تیسری گورنمنٹ آچکی ہے بلکہ اپنے آخری برس میں چل رہی ہے ،لیکن تاحال ان کا اپ گریڈیشن کامطالبہ پورا نہیں کیا گیا 2006 ء میں اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز نے یونیورسٹی اور کالج کے اساتذہ کے لیے ون سٹیپ پروموشن کا اعلان کیا تھا۔ یونیورسٹیاں جو اٹانومس باڈی ہوتی ہیں انہوں نے بہت جلد اس اعلان کو عملی جامہ پہنایا لیکن صوبائی حکومتوں نے بیوروکریسی کی زد میں آکر اس اعلان کو اب تک عملی صورت نہیں دی ۔اب ستم ظریفی یہ ہے کہ یونیورسٹی میں لیکچرر18، اسسٹنٹ پروفیسر 19، ایسوسی ایٹ پروفیسر 20اور فل پروفیسر 21گریڈ میں ہوتا ہے لیکن کالجوں میں یہی پوسٹ کہ جن کا نیچر آف جاب بھی ایک ہے لیکن یہاں لیکچرر17، اسسٹنٹ پروفیسر 18، ایسوسی ایٹ پروفیسر 19اور فل پروفیسر 20گریڈ میں ہوتا ہے ۔ یہ کیفیت کالج کے استاد کی دل آزاری کا ضرور سبب بنتی ہوگی کیونکہ کالج کا استاد روزانہ کی بنیاد پر چار کلاسیں لیتا ہے یعنی ہفتہ میں 24اورمہینے میں 96کلاسیں جبکہ اس کی نسبت یونیورسٹی استاد کا ورک لوڈ کئی گنا کم ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ یونیورسٹی کے استاد ہائر ایجوکیشن سے تعلق رکھتے ہیں تو اس ضمن میں عرض ہے کہ کالج اساتذہ بھی بی ایس چار سالہ پروگرام اور پوسٹ گریجویٹ تعلیم دیتے ہیں یوں وہ بھی ہائر ایجوکیشن ہی کے زمرے میں آتے ہیں ۔ صرف گورنمنٹ کا لج پشاور میں اس وقت 12فیکلٹیز میں بی ایس پروگرام چل رہا ہے جبکہ چار مزید شعبہ جات بھی کھولے جانے والے ہیں ۔وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے ہائر ایجوکیشن مشتاق غنی کئی مقامات پر حکومتی پالیسی بیان کرچکے ہیں کہ بتدریج بی ایس پروگرام کا دائرہ سرکاری کالجوں میںبڑھایا جائے گا ۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کالجوں کی انہاسمنٹ کی جائے گی ۔ گویا صوبائی حکومت کالج سیکٹر میں مزید اچھی کارکردگی دیکھنا چاہتی ہے ۔ ا س میں کوئی شک نہیں کہ صوبائی حکومت ، سیکرٹریٹ اور ڈائریکٹریٹ ہائر ایجوکیشن بی ایس پروگرام کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں لیکن یہ بات بغیرپروفیسر کے کیسے ممکن ہوسکتی ہے کہ جوفیلڈ میں اس پروگرام کو چلا رہے ہیں ۔اس کے علاوہ اگر کارکردگی کو دیکھا جائے تو سرکاری سکول اپنی کھوئی ہوئی کارکردگی واپس لانے کی کوشش میں ہے اور پرائیویٹ سکولز عرصہ ہوا بہت آگے نکل چکے ہیں جبکہ سرکاری کالجز پرآج بھی والدین کا اعتماد موجود ہے ۔آج بھی والدین کی پہلی ترجیح سرکاری کالج ہی ہیں ۔ اس کی وجہ یقیناان کالجوں کا سٹاف ہے کہ جو بہرحال کوالیفائیڈ ہے ۔کم از کم کوالی فیکیشن ماسٹر یا ایم ایس اور اس کے علاوہ ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈاکٹرز بھی تقریباً ہر کالج میں موجود ہیں ۔ صوبائی حکومت کا یہ فیصلہ درست ہے کہ بی ایس پروگرام کو مزید پھیلایا جائے لیکن اس بات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے کہ انٹر لیول کالجوں سے لے کر ہائر سیکنڈری سکولز کو دے دیا جائے ۔ میرے خیال میں ہائر سیکنڈری سکولز کا معیار بلند کیے بغیر یہ عمل بہت بڑارسک ہوگا ۔ اس کا نقصان عوام کو ہوسکتا ہے کہ وہ ہائر سیکنڈری سکولز کی بجائے پرائیویٹ کالجوں کا رخ کریں گے جہاں کی فیسیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہیں ۔ اس کا ایک حل یہ نکالا جاسکتا ہے کہ جن کالجوں میں بی ایس پروگرام کو وسعت دینی ہے وہاں نئے کالج کھولے جائیں ۔ گزشتہ برس بھی صوبہ خیبر پختونخوا کے سرکاری کالجوںنے انٹر میڈیٹ ، یونیورسٹی اور بی ایس چارسالہ پروگرام کے امتحانات میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے کہ جس کی رپورٹ ہائر ایجوکیشن کے ریکارڈ سے دیکھی جاسکتی ہے ۔ غرض سرکاری کالج کسی بھی لحاظ سے صوبے کے بہترین ڈیپارٹمنٹس میں سرفہرست ہے۔خاص طور پر دہشت گردی کے ایام میں بھی اس سیکٹر نے اپنا کام پوری جانفشانی سے کیا ہے ۔ سو یہ شعبہ حق رکھتا ہے کہ اسے اپ گریڈ کیا جائے ۔ کالج اساتذہ کی اپ گریڈیشن کے مسئلے پر سرکاری حلقوں سے اکثر ایک ہی بات سننے میں آتی ہے کہ شوکت عزیز کے اعلان پر کس صوبے میں کالج اساتذہ کو اپ گریڈیشن دی گئی ہے ؟ تو عرض یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو بھی تو کسی دوسرے صوبے نے ووٹ دے کر حکومت نہیں دی ۔ جب پی ٹی آئی تبدیلی کا نعرہ لگاتی ہے تو اس کا طرہ امتیاز تو یہی ہونا چاہیئے کہ وہ اچھے کام دوسرے صوبوں سے پہلے کرے۔ آخری بات یہ کہ کالجوں کے تقریباً سات ہزار استادنئے ووٹر کو نئی بات سکھاسکتے ہیں ۔ کیونکہ رویے تعلیم سے تبدیل ہوتے ہیں اور تعلیم بہرحال استاد کے ہاتھ میں ہے ۔ سو وزیر اعلیٰ کا اعلان اور دو ماہ کا انتظار، امید ہے دیگر سرکاری ملازمین کے ساتھ کالج اساتذہ کو بھی اپ گریڈ کرکے وزیر اعلیٰ تقدیم کا تفاخر ساتھ لے کراگلے الیکشن میں جائیں گے ۔

متعلقہ خبریں