مشرقیات

مشرقیات

حسین خان' اکبر کا ایک ممتاز منصب دار تھا۔ ترقی کرکے سہ ہزاری منصب تک پہنچا تھا کہ ایک لڑائی میں زخمی ہوا اور اسی بیماری میں وفات پاگیا۔ عبدالقادر بدایونی اس کے ساتھ نو سال رہے تھے اس لئے وہ اپنی کتاب منتخب التواریخ میں لکھتے ہیں کہ ہمت اور شجاعت میں اس کی کوئی مثال نہ تھی۔ وہ بڑی ثابت قدمی اور دلیری سے لڑتا' لڑائی کے موقع پر اس کی زبان پر شہادت یا فتح کا کلمہ ہوتا' اس کے ہمرا ہی اس سے کہتے کہ دعا میں فتح کو مقدم رکھنا چاہئے۔ وہ جواب دیتا کہ مجھے زندہ لوگوں کی بہ نسبت گزرے ہوئے لوگوں کے دیدار کا زیادہ اشتیاق ہے۔ وہ اپنی سپہ گری کے باوجود بہت منکسر المزاج بھی تھا' چھوٹے بڑے ہر ایک کے ساتھ یکساں برتائو کرتا تھا۔
اس کی سخاوت اور دریا دلی بہت مشہور تھی۔ سوداگروں سے چالیس پچاس عراقی اور ترکی گھوڑے ان کی بتائی ہوئی قیمتوں پر یہ کہہ کر خرید لیتا کہ تم جانو اور تمہارا خدا۔ پھر سارے گھوڑے اپنے ساتھیوں کو دے دیتا' جن کو نہ ملتا ان سے بھرپور معذرت کرتا۔ جب اس کے سامنے سونا اور روپے لائے جاتے تو وہ ان کو دیکھ کر کہتا یہ تیر اور نیزے کی طرح میرے لہو میں چبھ رہے ہیں۔ جب تک ان کو تقسیم نہ کردیتا اس کو چین نہیں آتا۔ شیخ المدینہ اس زمانے کے عالی مرتبہ بزرگ تھے۔ انہوں نے اس کے بے جا اخراجات اور آڑے وقتوں کے لئے سرمایہ نہ رکھنے پر اعتراض کیا۔ لیکن اس نے جواب دیا کہ اگر مال جمع کرنا سنت رسولۖ ہے تو سرتابی کی مجال نہیں رکھتا۔ اگر ایسا نہیں تو ہم دین کے رہبروں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ہم کو دنیا کی حرص و ہوس سے دور رکھنے کی تلقین کریںگے۔وہ نہایت ہی سنت کا متبع تھا۔ اس نے بڑی بڑی آزمائش میںحصہ لیا تھا اور اس دوران اس کی غذا حضور اکرمۖ کی متابعت میں صرف جو کی روٹی ہوتی تھی۔ اس نے بہت سی مساجد کی تعمیر کیں۔ کہتے ہیں کہ اس بزرگ اور ممتاز منصب دار سے کبھی نماز با جماعت اور تہجد فوت نہیں ہوئی۔ اس کے اصطبل میں کبھی بھی ایک سے زیادہ گھوڑا نہیں رہا۔ بعض اوقات اس کو بھی کسی مستحق کو دے دیتا اور سفرمیں ہوتا تو خود پیدل جاتا۔ جنگ میں کوئی غلام اس کے ہاتھ آتا تو اسے فوراً آزاد کردیتا۔ (مرآة سکندری صفحہ نمبر70)۔
حضرت ابن وہب کی موت کا بھی عجیب واقعہ ہے۔ اصحاب حدیث نے ان سے کہا کہ ہمیںجنت اور جہنم کے احوال سنا دیجئے۔ فرمایا میں اس کی تاب نہیںلاسکتا۔ وہ سمجھے کہ شاید ویسے ہی کہہ رہے ہیں۔ اصرار ہوا تو بیٹھ گئے۔ جہنم کے احوال کے متعلق احادیث شروع فرمائیں تو بے ہوش ہوگئے۔ لوگوں نے چہرے پر پانی کے چھینٹے ڈالے' فرق نہیں پڑا۔ کسی نے کہا کہ احوال جنت کی احادیث انہیںسنا دیجئے۔ وہ بھی پڑھ کر سنا دی گئیں۔ لیکن ہوش میں نہیں آئے اور بے ہوشی کی حالت میں بارہ دن گزر گئے۔ طبیب نے معائنہ کرکے کہا کہ ان کا دل پھٹ گیا ہے' بے ہوشی کی حالت میںبارہ دن گزرنے کے بعد ان کی وفات ہوگئی۔ (سیرت اولیایٔ' صفحہ نمبر81)

متعلقہ خبریں